”ستمبر ۲۰–۲۶۔ گلتیوں: ’رُوح کے مُوافِق چلو‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”ستمبر ۲۰–۲۶۔ گلتیوں،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
ستمبر ۲۰–۲۶
گلتیوں
”رُوح کے مُوافِق چلو“
جب آپ گلتیوں کو پڑھیں، تو حاصل کردہ تاثرات کو قلمبند کریں۔ ایسا کرنے سے آپ کو مستقبل میں اِنھیں یاد رکھنے اور اِن پر غور کرنے میں مدد ملے گی۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
یِسُوع مسِیح کی اِنجیل رُوحانی غُلامی سے آزادی کی پیشکش کرتی ہے۔ لیکن بعض اوقات جو لوگ اِنجیل کی آزادی کا تجربہ حاصل کر چکے ہیں وہ اِس سے منہ موڑ لیتے ہیں اور ”دوبارہ غُلامی کرنا“ چاہتے ہیں (گلتیوں ۴: ۹)۔ گلتیہ کی کلِیسیا کے کچھ مُقدّسین ایسا ہی کر رہے تھے—وہ مسِیح کی اُن کو پیش کردہ آزادی سے پِھر رہے تھے (دیکھیں گلتیوں ۱: ۶)۔ گلتیوں کے نام پَولُس کا خط، تب، اُس آزادی کی طرف واپس لوٹنے کی ایک فوری پکار تھی کہ ”مسِیح نے ہمیں آزاد رہنے کے لِئے آزاد کِیا ہے“ (گلیتوں ۵: ۱)۔ ہمیں بھی یہ پکار سُننے اور اِس پر دھیان لگانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگرچہ حالات بدل گئے ہیں، تو بھی آزادی اور غُلامی کے درمیان مقابلہ مستقل ہے۔ جیسا کہ پَولُس نے سِکھایا ہے، کہ ”آزادی کے لِئے بُلائے“ جانا کافی نہیں (گلتیوں ۵: ۱۳)؛ ہمیں مسِیح پر بھروسہ رکھتے ہوئے اُس میں ”قائِم بھی رہنا“ (گلتیوں ۵: ۱) چاہیے۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
گلتیوں ۱–۵
مسِیح کی شَرِیعَت مجھے آزاد کرتی ہے۔
جب اُسے معلوم پڑا کہ وہ غلط تعلِیمات کی بدولت گمراہی کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں تو پَولُس نے گلتیہ کے مُقدّسین کو خط لکھا۔ اِن تعلِیمات میں سے ایک یہ تھی کہ نِجات پانے کے لیے، اِنجیل کو قبول کرنے والے غَیر قَوم والوں کو ختنہ کروانے اور موسیٰ کی شَرِیعَت کی دُوسری روایات پر بھی قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ پَولُس نے اِن روایات کو ”غُلامی کا جُوا“ کہا (گلتیوں ۵: ۱) کیوں کہ وہ مُقدّسین کو مسِیح کی شَرِیعَت پہ مکمل طور پر قائم رہنے سے روکتی تھیں، جو حقیقی آزادی کی پیشکش کرتی ہے۔ آپ نے گلتیوں کے نام پَولُس کی مشورت میں ایسا کیا پایا ہے جس سے آپ کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ حقیقی آزادی کیا ہے؟ آپ یہ بھی غور کرسکتے ہیں کہ آپ کی زِندگی میں کون سے غُلامی کے جُوئے موجود ہیں۔ کیا اَیسی کوئی چِیز ہے جو آپ کو اِنجیل کی پیش کردہ آزادی کا تجربہ کرنے سے روک سکتی ہے؟ مسِیح اور اُس کی اِنجیل نے کِس طرح ”[آپ] کو آزاد کِیا ہے“؟ (گلتیوں ۵: ۱)۔
مزید دیکھیں ۲ نیفی ۲: ۲۷؛ ۹: ۱۰–۱۲۔
گلتیوں ۳
میں ابرؔہام سے وعدہ کی گئی نَعمتوں کا وارِث ہوں۔
گلتیہ کے کچھ مُقدّسین کو اِس بات کا خدشہ تھا کہ چونکہ وہ ابرؔہام کی حقیقی اولاد (”نسل“) نہیں تھے، لہذا وہ ابرؔہام کے ساتھ وعدہ کی گئی برکات، بشمول سرفرازی حاصل نہیں کریں گے۔ گلتیوں ۳: ۷–۹، ۱۳–۱۴، ۲۷–۲۹ کے مطابق، کونسی چیز کسی شخص کو ”ابرؔہام کی نسل“ سے ہونے کی اہل بناتی ہے؟
گلتیوں ۳: ۶–۲۵
کیا ابرؔہام کے پاس یِسُوع مسِیح کی اِنجیل تھی؟
نبی جوزف سمتھ نے وضاحت کی: ”ہم یقین نہیں کرسکتے، کہ تمام وقتوں کے قدیم لوگ آسمانی نظام سے اُتنے ہی لاعلم تھے جتنے کہ سمجھے جاتے ہیں، کیوں کہ وہ سب جو کبھی بچائے گئے تھے، نِجات کے اِس عظیم منصوبے کی قُدرت سے بچائے گئے تھے، مسِیح کے آنے سے پہلے والے بھی اور بعد والے بھی۔ … ابرؔہام نے قربانی چڑھائی، اور اِس کے باوجود، اُسے اِنجیل کی تعلیم دی گئی“ (”The Elders of the Church in Kirtland to Their Brethren Abroad,” The Evening and the Morning Star، مارچ ۱۸۳۴، ۱۴۳، josephsmithpapers.org)۔ درج ذیل صحائف بھی اِسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مُنّجی کی فانی خدمت سے قبل ہی یِسُوع مسِیح کی اِنجیل کی منادی کی گئی تھی: ہیلیمن ۸: ۱۳–۲۰؛ موسیٰ ۶: ۵۰–۶۶۔
گلتیوں ۵: ۱۳–۲۶؛ ۶: ۷–۱۰
اگر میں ”رُوح کے مُوافِق چلوں گا،“ تو میں ”رُوح کے پھَل“ پاؤں گا۔
اِن آیات کا مُطالعہ کرنے سے آپ کو یہ اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے کہ آپ کِس قدر رُوح کے مُوافِق چل رہے ہیں۔ کیا آپ آیات ۲۲–۲۳ میں مذکور رُوح کے پھَل کا تجربہ کر رہے ہیں؟ آپ نے رُوحانی زِندگی کے دُوسرے کون سے پھَلوں، یا نتائج کا مشاہدہ کیا ہے؟ اِس بات پر غور کریں کہ آپ کو اِس پھَل کی زیادہ سے زیادہ نشونما کرنے کے لیے کیا درکار ہے۔ اِس پھل کی نشونما کرنے سے آپ کی زِندگی میں اہم تعلقات کیسے بہتر ہوں گے؟
مجھے اپنی زِندگی میں ”رُوح کے پھَل“ تلاش کرنے چاہیے۔
شاید آپ رُوح کے مُوافِق چلنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایسا محسوس نہیں ہوتا ہے کہ آپ کی کوششیں وعدہ کیا گیا پھَل حاصل کرنے کا سبب بنیں۔ گلتیوں ۶: ۷–۱۰ پڑھیں (جس کا اکثر فصل کی کٹائی کے قانون کے طور پر حوالہ دیا جاتا ہے)۔ اِن آیات میں خُداوند آپ کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ آپ اِن آیات کو کسی ایسے شَخص کی حوصلہ افزائی کے لیے کیسے استعمال کرسکتے ہیں جو اِنجیل کے مُوافِق زِندگی گزارنے کی جدوجہد میں مبتلا ہو؟
مزید دیکھیں ایلما ۳۲: ۲۸، ۴۱–۴۳؛ عقائد اور عہود ۶۴: ۳۲–۳۴۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
گلتیوں ۳: ۱۱
”اِیمان سے جِیتا رہنے“ سے کیا مراد ہے ؟ آپ کا خاندان یہ ظاہر کرنے کے لیے کیا کر رہا ہے کہ آپ اِیمان سے جِی رہے ہیں؟
گلتیوں ۴: ۱–۷
آپ بادشاہ کے غُلاموں اور اُس کے بچّوں کے مابین فرق کے بارے میں گفتگو کرکے گلتیوں ۴ کا تعارف کروا سکتے ہیں۔ بادشاہ کے بچّوں کو کون سے مواقع یا امکانات حاصل ہوتے ہیں جو غُلام کو حاصل نہیں ہوتے؟ آیات ۱–۷ کو پڑھتے ہوئے اِن کے بارے میں سوچیں۔ یہ آیات آسمانی باپ کے ساتھ ہمارے رشتے کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہیں؟
گلتیوں ۵: ۲۲–۲۳
گلتیوں ۵: ۲۲–۲۳ کے بارے اپنی گفتگو میں کچھ لطف اُٹھانے کے لیے، آپ کا خاندان مختلف پھَلوں پر اِن اِلفاظ کی پرچی لگا سکتا ہے جو پَولُس نے ”رُوح کے پھَلوں“ کو بیان کرتے ہوئے اِستعمال کیے تھے۔ پھر خاندان کا ہر فرد ایک پھَل کا انتخاب کرسکتا، اُس کی وضاحت دے سکتا، اور کسی ایسے شَخص کے بارے میں بات کرسکتا ہے جو اُس پھَل کی مثال پیش کرتا ہے۔ اِس کی بدولت آپ کا خاندان رُوح کو اپنے گھر میں دعوت دینے اور اِس پھَل کی نشونما کرنے کے طریقوں کے بارے میں گفتگو کرسکتا ہے۔ گفتگو کے بعد، آپ اکٹھے پھَلوں کے سلاد سے لطف اُٹھا سکتے ہیں۔
گلتیوں ۶: ۱
آپ کے گھر والوں میں سے بھی کوئی کسی وقت ”کِسی قُصُور میں پکڑا“ جا سکتا ہے۔ گلتیوں ۶: ۱ میں ایسی صورتحال میں کیا کرنے کی مشورت ملتی ہے؟
گلتیوں ۶: ۷–۱۰
اگر آپ کے خاندان نے کبھی ایک ساتھ کچھ بویا ہے، تو آپ اُس تجربے کو اِس اُصول کو بیان کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں کہ ”آدمِی جو کُچھ بوتا ہے وُہی کاٹے گا“ (آیت ۷)۔ یا آپ خاندانی اَرکان سے اُن کے پسندیدہ پھَل یا سبزیوں کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں اور اِس بارے میں بات کرسکتے ہیں کہ ایسے پودوں کو اُگانے میں کس چِیز کی ضرورت پڑتی ہے جو خوراک کی پیداوار کا سبب بنتے ہیں۔ (آپ اِس خاکہ کے ساتھ وابستہ تصویر کو بصری امداد کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔) تب آپ اپنے خاندان سے اُن برکات کے بارے میں جو اُنھیں ملنے کی اُمید ہے اور اُن کی ”کٹائی“ کے طریقے کے بارے میں گفتگو کرسکتے ہیں۔
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
اپنی تدریس کو بہتر بنانا
اپنے خاندان کی مدد کریں کہ وہ نَوِشْتَوں کو اپنے آپ پر لاگو کریں۔ نیفی نے کہا، ”میں نے تمام نَوِشْتَوں کو اپنے آپ پر لاگو کیا تاکہ ہم اُن کو اپنے فائدہ اور علم کے لیے استعمال کرسکیں“ (۱ نیفی ۱۹: ۲۳)۔ اپنے خاندان کی ایسا کرنے میں مدد کے لیے، آپ اُنھیں اُس وقت کے بارے میں غور و فکر کرنے کی دعوت دے سکتے ہیں جب اُنھوں نے گلتیوں ۵: ۲۲–۲۳ میں بیان کردہ رُوح کے پھَل کا تجربہ کیا۔ (دیکھیں نِجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۲۱۔)