”ستمبر ۱۳–۱۹۔ ۲ کُرنتھِیوں ۸–۱۳: ’خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزِیز رکھتا ہے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”ستمبر ۱۳–۱۹۔ ۲ کُرنتھِیوں ۸–۱۳،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
ستمبر ۱۳–۱۹
۲ کُرنتھِیوں ۸–۱۳
”خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزِیز رکھتا ہے“
رُوحانی تاثرات کو قلمبند کرنے سے آپ کو یہ یاد رکھنے میں مدد ملے گی کہ مُطالعہِ صحائف کے دوران آپ نے کیا سِکھا تھا۔ اِنھیں آپ کسی مُطالعاتی روزنامچے میں تحریر کرسکتے ہیں، اپنے صحائف کے حاشیے میں درج کرسکتے ہیں، گاسپل لائبریری ایپ میں اپنے نوٹ شامل کرسکتے ہیں، یا اپنے خیالات کی آڈیو ریکارڈنگ کرسکتے ہیں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
اگر آپ یہ سُنیں کہ کسی اور علاقے میں مُقدّسین کی جماعت غربت کی لپیٹ میں ہے تو آپ کیا کریں گے؟ یہ وہی صورتحال تھی جو پَولُس نے ۲ کُرنتھِیوں ۸–۹ میں کرُنتھُس کے مُقدّسین کو بیان کی تھی۔ اُسے اُمِید تھی کہ وہ کرُنتھُس کے مُقدّسین کو ضرورت مند مُقدّسین کے لیے فراخ دلی سے عطیہ جات دینے پر آمادہ کرے گا۔ لیکن عطیہ کی درخواست سے کہیں بڑھ کر، پَولُس کے اِلفاظ میں دینے کے بارے میں گہری سَچّائیاں بھی شامل ہیں: ”جِس قدر ہر ایک نے اپنے دِل میں ٹھہرایا ہے، اُسی قدر دے؛ نہ دریغ کر کے، اور نہ لاچاری سے: کِیُونکہ خُدا خُوشی سے دینے والے کو عزِیز رکھتا ہے“ (۲ کُرنتھِیوں ۹: ۷)۔ ہمارے دور میں، ابھی بھی پوری دُنیا میں ایسے مُقدّسین موجود ہیں جنھیں مدد کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات ہم اُن کے لیے زیادہ سے زیادہ روزہ رکھ سکتے ہیں اور روزے کے ہدیہ جات پیش کرسکتے ہیں۔ دُوسرے معاملات میں، ہمارا دینا مزید براہ راست اور ذاتی ہوسکتا ہے۔ ہماری قربانیاں جو بھی شکل اِختیار کریں، دینے کی ہماری نیت صاف ہونی چاہیے۔ کیا ہماری قربانیاں محبّت کا اِظہار ہیں؟ بہر حال، پیار ہی دینے والے کو خُوش و خرم بناتا ہے۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
۲ کُرنتھِیوں ۸: ۱–۱۵؛ ۹: ۵–۱۵
غُربا اور ضرورت مندوں کو برکت دینے کے لیے میں خُوشی سے اپنا سب کچھ دے سکتا ہوں۔
دُنیا بھر میں بہت سارے ضرورت مند لوگ ہیں۔ ہماری کوششوں سے ممکنہ طور پر کیسے فرق پڑ سکتا ہے؟ بزرگ جیفری آر ہالینڈ نے یہ مشورت پیش کی: ”امیر یا غریب دُوسروں کی ضرورت کے وقت ’جو کُچھ ہم کرسکیں ہمیں وہ کرنا چاہیے‘ [دیکھیں مرقس ۱۴: ۶، ۸]۔ … [خُدا] آپ کی مدد کرے گا اور شاگِردی کے رحم دِلانہ کاموں میں آپ کی راہ نمائی کرے گا اگر آپ دیانت داری کے ساتھ خواہش رکھتے اور دُعا مانگتے ہیں اور اُس حکم کی فرمان برداری کرنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں جو اُس نے ہمیں بار بار دیا ہے“ (”کیا ہم سب محتاج نہیں؟“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۴، ۴۱)۔
اُن اُصولوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے جو پَولُس نے غُربا اور ضرورت مندوں کی دیکھ بھال کے بارے میں سِکھائے تھے آپ ۲ کُرنتھِیوں ۸: ۱–۱۵؛ ۹: ۶–۱۵ پڑھیں۔ آپ کو پَولُس کی مشورت کے بارے میں کون سی بات متاثر کرتی ہے؟ آپ راہ نمائی کے لیے دُعا کرسکتے ہیں کہ کسِی ضرورت مند کو برکت دینے کے لیے آپ کیا کرسکتے ہیں۔ حاصل ہونے والے تاثرات کو یقینی طور پر قلمبند کریں اور اُن پر عمل کریں۔
مزید دیکھیں مضایاہ ۴: ۱۶–۲۷؛ ایلما ۳۴: ۲۷–۲۹؛ ہنری بی آئرنگ، ”Is Not This the Fast That I Have Chosen؟“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۵، ۲۲–۲۵؛ لِنڈا کے برٹن، ”I Was a Stranger،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۶، ۱۳–۱۵۔
۲ کُرنتھِیوں ۱۱
جھُوٹے نبی دغا دینے کے خواہاں ہوتے ہیں۔
اِس باب کو سمجھنے سے آپ کو یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ کرُنتھُس کے مُقدّسین کے درمیان ”جھُوٹے رَسُول“ اُٹھ کھڑے ہوئے تھے (۲ کُرنتھِیوں ۱۱: ۱۳)۔ آیات ۱۳–۱۵ سے آپ اُن لوگوں کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں جو جھُوٹے عقائد کی تعلیم دیتے ہیں؟ جب آپ مسِیح کے خادِم کے طور پر پَولُس کے تجربات کے بارے میں پڑھتے ہیں تو آپ سَچّے نبِیوں کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ (دیکھیں آیات ۲۳–۳۳)۔
۲ کُرنتھِیوں ۱۱: ۳؛ ۱۳: ۵–۸
مجھے یِسُوع مسِیح کی اِنجیل کے مطابق اپنی اِیمانداری کی ”جانچ“ کرنی چاہیے۔
کیونکہ آج بہت سارے ایسے لوگ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہم ”اُس خُلُوص اور پاکدامنی سے ہٹ جائیں جو مسِیح کے ساتھ ہونی چاہِئے“ (۲ کُرنتھِیوں ۱۱: ۳)، آپ کو شاید پَولُس کی دعوت قبول کرنے کی ضرورت ہے کہ ”تُم [اپنے آپ] کو آزماؤ، کہ اِیمان پر ہو یا نہِیں“ (۲ کُرنتھِیوں ۱۳: ۵)۔ مثال کے طور پر، آپ اِس بات پر غور کریں کہ آپ اپنی زِندگی میں سے کون سی چِیز کو نکال سکتے ہیں جو آپ کو مسِیح پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دے گی، یا آپ میری اِنجیل کی منادی کرو، میں صفحہ ۱۲۶ ”Attribute Activity“ کو مکمل کرسکتے ہیں۔
۲ کُرنتھِیوں ۱۲: ۲–۴
”تِیسرا آسمان“ کیا ہے، اور وہ شَخص کون تھا جو ”یکایک اُٹھا لِیا گیا“ تھا؟
اِن آیات میں، پَولُس براہ راست اپنا تذکرہ کیے بغیر، اپنے بارے میں ہی بات کر رہا تھا—شاید اُس غیر معمولی رویا کے بارے میں شیخی مارنے سے بچنے کے لیے۔ ”تِیسرے آسمان“ سے مراد سیلیسٹیل بادشاہی ہے (دیکھیں عقائد اور عہود ۷۶: ۹۶–۹۸)۔
۲ کُرنتھِیوں ۱۲: ۵–۱۰
نِجات دہندہ کا فضل کمزوری میں زورآور ہونے میں میری مدد کے لیے کافی ہے۔
ہم نہیں جانتے کہ پَولُس کے جِسم میں کون سا ”کانٹا چُبھویا گیا“ تھا، لیکن اِس سے چھٹکارا پانے کی اُس کی خواہش کو ہم جان سکتے ہیں۔ ہم سب ایسی چنوتیوں اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں جنھیں خُداوند ہماری زِندگیوں سے دُور رکھنا مناسب نہیں سمجھتا ہے۔ ۲ کُرنتھِیوں ۱۲: ۵–۱۰ کو پڑھتے ہوئے اپنی چنوتیوں کے بارے میں سوچیں۔ پَولُس کمزوری کے بارے میں کیا سِکھاتا ہے؟ آپ کے نزدیک اِس قول کی کیا اہمیت ہے کہ خُدا کا فضل آپ کے لیے کافی ہے؟ آپ نے خُدا کی مضبوطی بخشنے والی قوت کا کِس طرح سے تجربہ کیا ہے؟
مزید دیکھیں مضایاہ ۲۳: ۲۱–۲۴؛ ۲۴: ۱۰–۱۵؛ عیتر ۱۲: ۲۷؛ مرونی ۱۰: ۳۲–۳۳۔
۲ کُرنتھِیوں ۱۳: ۱
پَولُس کا کیا مطلب تھا جب اُس نے ”دو یا تِین گواہوں“ کی بات کی؟
پرانے عہد نامہ کے اوقات میں، کسی پر الزام عائد کرنے کے لیے دو یا تین گواہوں کی ضرورت پڑتی تھی (دیکھیں اِستثنا ۱۹: ۱۵)۔ کرُنتھُس میں اپنے تیسرے دورے کی بات کرتے ہوئے پَولُس نے اِس مشق کا حوالہ دیا۔ متعدد گواہوں کے اِس اُصول کی جدید مثالوں میں مورمن کی کتاب کے تین گواہ، بائبل مُقدّس اور مورمن کی کتاب کی جانب سے دی گئیں یِسُوع مسِیح کی گواہیاں، اور مبلغین کی مصاحبت میں گواہی دینے کی مشق شامل ہیں۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
۲ کُرنتھِیوں ۸–۹
اِن ابواب میں ایسی کون سی چِیزیں ہیں جو آپ کے خاندان کو غُربا اور ضرورت مندوں تک پہنچنے کی ترغیب دیتی ہیں؟ خاندان کی حیثیت سے کسی ضرورت مند کی خدمت کرنے کے لیے منصوبہ بنانے کا یہ ایک اچھا وقت ہوسکتا ہے۔
۲ کُرنتھِیوں ۹: ۶–۷
کیا آپ کا خاندان کسی ایسے شَخص کو جانتا ہے جسے ”خُوشی سے دینے والا“ کہا جاسکتا ہے؟ ہم کیسے دُوسروں کی خدمت کو زیادہ خُوش و خرم بنا سکتے ہیں؟
۲ کُرنتھِیوں ۱۰: ۳–۷
آپ اپنے خاندان کو بدی کے خلاف ہماری ”جنگ“ کے بارے میں کِس طرح تعلیم دے سکتے ہیں؟ کیا آپ کا خاندان کرسیوں اور کمبلوں سے بنائی گئی دِیواروں یا قلعوں سے لطف اندوز ہوسکتا ہے؟ یہ گفتگو کی راہ نمائی اُس جانب کر سکتا ہے کہ اُن چیزوں کو کِس طرح ڈھانا ہے جو ہمیں خُدا سے دور کر دیتی ہیں اور کیسے ”ہر ایک خیال کو قَید کر کے مسِیح کا فرمان بردار [بنانا]“ ہے۔ ہم اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے کون سے ”رُوحانی ہتھیار“ استعمال کرتے ہیں؟ (دیکھیں اِفسیوں ۶: ۱۱–۱۸)۔
۲ کُرنتھِیوں ۱۱: ۳
آپ کا خاندان ”خُلُوص اور پاکدامنی جو مسِیح کے ساتھ ہونی چاہِئے“ اِس پر زیادہ توجہ دینے کے لیے کیا کرسکتا ہے؟
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں بزرگ رچرڈ جی سکاٹ نے کہا: ”ایسا علم جو احتیاط کے ساتھ قلمبند کیا جائے وہ ضرورت کے وقت دستیاب ہوتا ہے۔ … [رُوحانی ہدایت کو قلمبند کرنا] مزید نُور کو حاصل کرنے کے آپ کے امکان کو بڑھاتا ہے“ (”Acquiring Spiritual Knowledge،“ انزائن، نومبر ۱۹۹۳، ۸۸؛ مزید دیکھیں نِجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۱۲، ۳۰)۔