لائبریری
اگست ۳۰–ستمبر ۵۔ ۱ کُرنتھِیوں ۱۴–۱۶: ’خُدا ابتری کا نہِیں، بلکہ امن کا بانی ہے‘


”اگست ۳۰–ستمبر ۵۔ ۱ کُرنتھِیوں ۱۴–۱۶: ’خُدا ابتری کا نہِیں، بلکہ امن کا بانی ہے‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”اگست ۳۰–ستمبر ۵۔ ۱ کُرنتھِیوں ۱۴–۱۶،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

بپتسمہ دینے کا حوض برائے ہیکل

اگست ۳۰–ستمبر ۵

۱ کُرنتھِیوں ۱۴–۱۶

”خُدا ابتری کا نہِیں، بلکہ امن کا بانی ہے“

۱ کُرنتھِیوں ۱۴–۱۶ کو پڑھتے ہوئے اپنے تاثرات کو قلمبند کریں۔ اِس بارے میں دُعا کریں کہ رُوح نے آپ کو کیا سِکھایا ہے، اور آسمانی باپ سے پوچھیں کہ آیا وہ آپ کو مزید کچھ اور سِکھنا چاہتا ہے۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

کیوں کہ کرُنتھُس میں کلیسیا اور اِس کے عقائد نسبتًہ نئے تھے، تاہم یہ بات قابلِ فہم ہے کہ کرُنتھُس کے مُقدّسین کو اُلجھن کا سامنا کرنا پڑا۔ پَولُس نے پہلے ہی اُن کو اِنجیل کی بنیادی سچائی سِکھائی تھی: ”کہ مسِیح ہمارے گُناہوں کے لِئے مُؤا … اور دفن ہُؤا، اور تِیسرے دِن جی اُٹھا“ (۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۳–۴)۔ لیکن کچھ اَرکان نے جلد ہی یہ تعلیم دینا شروع کر دی کہ ”مُردوں کی قِیامت ہے ہی نہِیں“ (۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۱۲)۔ پَولُس نے اُن سے التجا کی کہ وہ سِکھائی گئی سچائیوں کو ”یاد“ رکھیں (۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۲)۔ جب ہمیں اِنجیلی سچائیوں کے بارے میں متضاد آرا کا سامنا کرنا پڑے، تو یاد رکھیں کہ ”خُدا ابتری کا نہِیں، بلکہ امن کا بانی ہے“ (۱ کُرنتھِیوں ۱۴: ۳۳). خُداوند کے مخصوص کردہ خادموں کا کلام سُننے اور اُن سادہ سچائیوں پر قائم رہنے سے جو وہ بار بار ہمیں سِکھاتے ہیں ہمیں اِطمینان حاصل کرنے اور ”اِیمان میں قائِم رہنے“ میں مدد مِل سکتی ہے (۱ کُرنتھِیوں ۱۶: ۱۳

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

۱ کُرنتھِیوں ۱۴

میں نُبُوّت کی نعمت کا خواہاں ہوسکتا ہوں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ نُبُوّت کی نعمت سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ مستقبل کی بابت پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ہر کوئی یہ نعمت حاصل کرسکتا ہے؟ یا کیا یہ صرف انبیاء کے لیے مخصوص ہے؟

کلیسیا کا صدر وہ واحد شخص ہے جو پوری کلیسیا کے لیے نُبُوّت کرسکتا اور مُکاشفہ حاصل کرسکتا ہے؛ البتہ، ہدایت نامہ برائے صحائف کے مطابق نُبُوّت سے مُراد ”اَیسی آسمانی اِلہامی اِلفاظ یا تحریریں ہیں، جو کسی شخص کو رُوحُ الُقدس کے ذریعہ بطور مُکاشفہ بخشی جاتی ہیں۔ … جب ایک شخص نُبُوّت کرتا ہے، تو وہ اپنی خود کی یا دُوسروں کی بھلائی کے لیے، ایسا کلام یا ایسی تحریر لکھتا ہے جو خُدا اُسے بخشتا ہے“ (مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۱۰۰: ۵–۸مُکاشفہ ۱۹: ۱۰ بھی نُبُوّت کی رُوح کو ”یِسُوع کی گواہی“ کے طور پر بیان کرتا ہے۔

آپ ۱ کُرنتھِیوں ۱۴: ۳، ۳۱، ۳۹–۴۰ میں رُوحانی نعمتوں کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ پَولُس کا کیا مطلب ہوسکتا ہے جب اُس نے کُرنتھِیوں کو ”نُبُوّت کرنے کی آرزُو رکھّنے“ کی دعوت دی؟ (۱ کُرنتھِیوں ۱۴: ۳۹)۔ آپ کیسے اِس دعوت کو قبول کرسکتے ہیں؟

مزید دیکھیں گنتی ۱۱: ۲۴–۲۹؛ یَعقُوب ۴: ۶–۷؛ ایلما ۱۷: ۳؛ عقائد اور عہود ۱۱: ۲۳–۲۸۔

۱ کُرنتھِیوں ۱۴: ۳۴–۳۵

پَولُس نے عَورتوں کو کلیسیا میں خاموش رہنے کا کیوں کہا؟

۱ کُرنتھِیوں ۱۴: ۳۴–۳۵ میں پَولُس کی تعلیمات ہمیں اُلجھن میں ڈال سکتی ہیں، کیوں کہ اِس سے قبل اِسی خط میں اُس نے لکھا تھا کہ عَورتیں دُعا اور نبُوّت کرتی ہیں (دیکھیں ۱ کُرنتھِیوں ۱۱: ۵)۔ ترجمہ برائے جوزف سمتھ نے آ یات۳۴ اور ۳۵ میں لفظ بولنے کو فرما روائی میں تبدیل کر دیا ہے۔ اِس وضاحت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پَولُس اُن عَورتوں کا حوالہ دے رہا تھا جو کلیسیائی عبادات میں فرما روائی کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ (مزید دیکھیں ۱ تِیمُتھیُس ۲: ۱۱–۱۲۔)

۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۱–۳۴، ۵۳–۵۸

یِسُوع مسِیح نے مَوت پر فتح پائی۔

مسِیحیت میں یِسُوع مسِیح کی قیامت کو نہایت اساسی درجہ حاصل ہے، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اِس کے بغیر مسِیحیت کا کوئی وجود نہیں—پَولُس کے اِلفاظ کو استعمال کرتے ہوئے، ”تو ہماری منادی بھی بے فائِدہ ہے اور تُمہارا اِیمان بھی بے فائِدہ “(۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۱۴)۔ تاحال کرُنتھُس کے کچھ مُقدّسین یہ تعلیم دے رہے تھے کہ ”مُردوں کی قِیامت ہے ہی نہِیں“ (۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۱۲۱ کُرنتھِیوں ۱۵میں پَولُس کا جواب پڑھتے ہوئے، ایک لمحہ کے لیے غور کریں کہ اگر آپ کا قیامت پر یقین نہ ہوتا تو آپ کی زِندگی کیسے مختلف ہوتی۔ اِس نے آپ کو کیسے برکت بخشی؟ یِسُوع مسِیح کی قیامت کے وسیلہ سے آپ کو کون سی برکات حاصل ہوں گی؟ (دیکھیں ۲ نیفی ۹: ۶–۱۹؛ ایلما ۴۰: ۱۹–۲۳؛ عقائد اور عہود ۹۳: ۳۳–۳۴)۔ آپ کے نزدیک اِس فقرے سے کیا مراد ہے ”اگر مسِیح نہِیں جی اُٹھا تو تُمہارا اِیمان بےفائِدہ ہے“؟ (آیت ۱۷

۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۳۵–۵۴

آسمانی جِسم زمِینی جِسموں سے مختلف ہوتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آسمانی جِسم کیسا ہوتا ہے؟ ۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۳۵ کے مطابق، کرُنتھُس کے کچھ مُقدّسین بھی اِسی بات کے بارے میں متجسس تھے۔ پَولُس کا جواب آیات ۳۶–۵۴ میں پڑھیں، اور ایسے اِلفاظ اور فقرے نوٹ کریں جو آسمانی اور زمِینی جِسموں کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آیات ۴۰–۴۲ سِکھاتی ہیں کہ آسمانِیوں کا جلال مختلف ہے، جس طرح آفتاب، مہتاب، اور سِتاروں کا جلال مختلف ہے (مزید دیکھیں ترجمہ برائے جوزف سمتھ، ۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۴۰؛ عقائد اور عہود ۷۶: ۵۰–۱۱۲

مزید دیکھیں ایلما ۱۱: ۴۳–۴۵؛ لُوقا ۲۴: ۳۹۔

طلوعِ آفتاب

”آفتاب کا جلال اَور ہے“ (۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۴۱

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۲۹

ہم آیت ۲۹ سے سیکھتے ہیں کہ قدیم مُقدّسین مُردوں کے لِئے بپتِسمہ لیتے تھے، بالکل اُسی طرح جیسے آج ہماری کلیسیا میں ہوتا ہے۔ ہم بطور خاندان ہَیکل کی رسوم کے لیے اپنے آباؤ اجداد کے نام کس جوش و جذبے سے اکٹھا کر رہے ہیں؟

۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۳۵–۵۴

آپ اپنے خاندان کی کچھ اصطلاحات کو سمجھنے میں مدد کے لیے کون سی چیزیں یا تصاویر دکِھا سکتے ہیں جو پَولُس نے بیان کرنے کے لیے استعمال کیں کہ آسمانی جِسم کس طرح زمِینی جِسموں سے مختلف ہیں؟ مثال کے طور پر، فانی اور غَیر فانی کے درمیان فرق کو ظاہر کرنے کے لیے (دیکھیں آیات ۵۲–۵۴) آپ زنگ آلود دھات دکِھا سکتے ہیں (جیسے لوہا) اور ایسی دھات جس پر زنگ نہیں لگ سکتا (جیسے سٹین لیس سٹیل)۔ یا آپ کسی طاقتور چیز کا موازنہ کسی کمزور چیز کے ساتھ کر سکتے ہیں (دیکھیں آیت ۴۳

۱ کُرنتھِیوں ۱۵: ۵۵–۵۷

اِن آیات کے بارے میں گفتگو خاص طور پر تب معنی خیز ثابت ہو سکتی ہے جب آپ کا خاندان کسی اَیسے شخص کو جانتا ہو جو انتقال کرگیا ہو۔ خاندان کے اَرکان اِس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ یِسُوع مسِیح نے کس طرح ”مَوت کے ڈنک“ کو دور کیا ہے (آیت ۵۶)۔ بزرگ پال وی. جانسن کا پیغام ”And There Shall Be No More Death“ (انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۶، ۱۲۱–۲۳) آپ کی گفتگو کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

۱ کُرنتھِیوں ۱۶: ۱۳

اپنے خاندانی اَرکان کی اِس آیت سے وابستگی میں مدد کے لیے، آپ زمین پر ایک دائرہ کھینچ سکتے ہیں اور خاندان کے کسی فرد کی آنکھوں پر پٹی باندھیں اور اُس کو ہدایت دیں کہ وہ اِس کے اندر ”مضبوطی سے قائم رہے“ اور باقی سب اُسے دائرہ سے ہٹانے کی کوشش کریں۔ اگر دائرے میں موجود خاندانی رکن کی آنکھوں پر پٹی نہ باندھی جائے اور وہ ”دیکھ“ سکتا ہو تو اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ جب ہم برے انتخابات کرنے کے لیے آزمائے جاتے ہیں تو ہم اپنی زندگی میں ”مضبوطی سے قائم رہنے“ کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا

نمونے تلاش کریں۔ صحائف میں ہمیں ایسے نمونے ملتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خُداوند اپنا کام کس طرح کرتا ہے۔ آپ کو ۱ کُرنتھِیوں ۱۴ میں کون سے نمونے ملتے ہیں جو ہمیں ایک دوسرے کی ترقّی اور نصِیحت کے طریقے سمجھنے میں مدد دیتے ہیں؟ مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۵۰: ۱۳–۲۳۔

باغ میں خالی قبر پہ مسِیح مریم پر ظاہر ہوتا ہے

تُو کِیُوں روتی ہے؟ از سائمن ڈیوی