اگست ۲۳–۲۹۔ ۱ کُرنتھِیوں ۸–۱۳: ’تُم مِل کر مسِیح کا بَدَن ہو‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”اگست ۲۳–۲۹۔ ۱ کُرنتھِیوں ۸–۱۳،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
اگست ۲۳–۲۹
۱ کُرنتھِیوں ۸–۱۳
”تُم مِل کر مسِیح کا بَدَن ہو“
جب آپ دُعاگو ہو کر ۱ کُرنتھِیوں ۸–۱۳ پڑھتے ہیں، تو رُوحُ الُقدس آپ کے ساتھ لطیف طریقوں سے بات کرسکتا ہے (دیکھیں ۱ سلاطین ۱۹: ۱۱–۱۲)۔ اِن تاثرات کو قلمبند کرنے سے آپ کو اپنے مُطالعہ کے دوران حاصل ہونے والے احساسات اور خیالات کو یاد رکھنے میں مدد ملے گی۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
پَولُس کے دور میں، کرُنتھُس رُومِی سلطنت کے تمام مکینوں کے لیے ایک مالدار تجارتی مرکز تھا۔ شہر میں بہت ساری مختلف ثقافتوں اور مذاہب کی موجودگی کے سبب سے، کرُنتھُس میں کلیسیائی اَرکان اتحاد برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مبتلا تھے، پَس پَولُس نے اُن کی مدد کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ مسِیح پر اپنے اعتقاد میں متحد ہو سکیں۔ یہ اتحاد محض پُرامن بقائے باہمی سے بڑھ کر تھا؛ پَولُس اُن سے محض ایک دُوسرے کے اختلافات کو برداشت کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہا تھا۔ بلکہ، اُس نے یہ سِکھایا کہ جب آپ یِسُوع مسِیح کی کلیسیا میں شامل ہوئے تو، آپ نے ”ایک بَدَن کے ہونے کے لِئے بپتِسمہ لِیا“ اور بَدَن کا ہر حصّہ ضروری ہوتا ہے (۱ کُرنتھِیوں ۱۲: ۱۳)۔ جب ایک رُکن کھو جاتا ہے، تو یہ ایک عضو کے کھو جانے کے مترادف ہوتا ہے، اور اِس کے نتیجے میں بَدَن کمزور پڑ جاتا ہے۔ جب ایک رُکن تکلیف میں ہوتا ہے تو، ہم سب کو اُس کا درد محسوس کرنا چاہیے اور اُس کی فلاح کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اِس قسم کے اتحاد میں، فرق کو صرف تسلیم ہی نہیں کیا جاتا بلکہ اِس کو عزیز بھی مانا جاتا ہے، کیونکہ متنوع تحائف اور صلاحیتوں کے اَرکان کے بغیر، بَدَن محدود ہوگا۔ لہذا چاہے آپ کو کلیسیا اپنے گھر کی مانند محسوس ہو یا آپ اِس کے ساتھ اپنی وابستگی سے متعلق شک میں مبتلا ہوں، آپ کے لیے پَولُس کا پیغام یہ ہے کہ اتحاد سے مراد یکسانیت نہیں ہے۔ آپ کو اپنے ساتھی مُقدّسین کی ضرورت ہے، اور آپ کے ساتھی مُقدّسین کو آپ کی ضرورت ہے۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
۱ کُرنتھِیوں ۱۰: ۱–۱۳
خُدا آزمائش سے نِکلنے کی راہ بھی پَیدا کرے گا۔
رُوحانی تجربات، حتّیٰ کہ مُعجِزانہ بھی، ہمیں اَیسی آزمائشوں سے مستثنیٰ نہیں کرتے جو ”اِنسان کے لیے عام ہیں“ (۱ کُرنتھِیوں ۱۰: ۱۳)۔ یہی ایک وجہ ہو سکتی ہے جس سے متعلق پَولُس نے لِکھا تھا کہ موسیٰ کے ایّام میں بنی اِسرائیل نے آزمائش کے ساتھ کیسے جدوجہد کی، حالانکہ اُنھوں نے بڑے مُعجِزے دیکھے تھے (دیکھیں خروج ۱۳: ۲۱؛ ۱۴: ۱۳–۳۱)۔ جب آپ ۱ کُرنتھِیوں ۱۰: ۱–۱۳ پڑھتے ہیں، تو بنی اِسرائیل کے تجربات میں سے آپ پر کون سی تنبیہہ لاگو ہوتی ہے؟ آسمانی باپ نے کِس طرح آپ کے لیے آزمائش سے ”نِکلنے“ کی راہ بھی پَیدا کی؟ (مزید دیکھیں ایلما ۱۳: ۲۷–۳۰؛ ۳ نیفی ۱۸:۱۸–۱۹)۔
۱ کُرنتھِیوں ۱۰: ۱۶–۱۷؛ ۱۱: ۱۶–۳۰
عشائے ربانی ہمیں مسِیح کے پیروکار کے طور پر متحد کرتی ہے۔
اگرچہ عشائے ربانی کی رسم ایک فرد اور خُداوند کے درمیان ذاتی عہد ہے، یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس کا ہم دُوسروں کے ساتھ اشتراک بھی کرسکتے ہیں—ہم تقریباً ہمیشہ مُقدّسین کے ایک بَدَن کی حیثیت سے ایک دُوسرے کے ساتھ عشائے ربانی لیتے ہیں۔ عشائے ربانی کے بارے میں پَولُس کی تعلیم پڑھیں، اور اِس بارے میں سوچیں کہ یہ پاک شراکت مسِیح میں ”بہُت سے“ مُقدّسین کو ”ایک“ بننے میں کِس طرح مدد کرسکتی ہے (۱ کُرنتھِیوں ۱۰: ۱۷)۔ دُوسرے پیروکاروں کے ساتھ عشائے ربانی میں حصّہ لینے سے آپ کِس طرح مضبُوطی حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ عشائے ربانی کے لیے آپ کی تیاری کے طریقہ پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے اور آپ اپنے بپتِسمہ کے موقع پر باندھے جانے والے عہود کو برقرار رکھنے کی کِس طرح کوشش کرتے ہیں؟
۱ کُرنتھِیوں ۱۱: ۳–۱۵
پَولُس نے سر ڈھانپنے اور بالوں کی آرائش کے بارے میں کیوں تحریر کیا؟
پَولُس نے مردوں، عَورتوں اور خُداوند کے درمیان تعلقات کے بارے میں تعلیم دینے کے لیے لباس اور تربیت کے ثقافتی رسم و رواج کا حوالہ دیا تھا۔ اگرچہ ہم آج اِن رسم و رواج کی پیروی نہیں کرتے ہیں، ہم پھر بھی ۱ کُرنتھِیوں ۱۱:۱۱ میں پَولُس کے اِس اعلان سے سیکھ سکتے ہیں کہ شادی اور کلیسیا دونوں میں، خُداوند کے منصوبے میں مرد اور عَورت دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ بزرگ ڈیوڈ اے بیڈنار نے سِکھایا، ایک ساتھ سرفرازی کی طرف آگے بڑھتے ہوئے ”مرد اور عَورت کا مقصد ایک دُوسرے سے سیکھنا، ایک دُوسرے کو مضبُوطی بخشنا، برکت دینا اور ایک دُوسرے کی تکمیل کرنا ہے“ (”We Believe in Being Chaste،“ انزائن یا لیحونا، مئی، ۲۰۱۳، ۴۲؛ مزید دیکھیں مرقس ۱۰: ۶–۹)۔
۱ کُرنتھِیوں ۱۲–۱۳
آسمانی باپ کے تمام بچّوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے رُوحانی نَعمتیں عطا کی جاتی ہیں۔
۱ کُرنتھِیوں ۱۲–۱۳ میں رُوحانی نَعمتوں کی فہرست تمام نَعمتوں کا احاطہ نہیں کرتی ہے۔ آسمانی باپ کی عطاکردہ رُوحانی نَعمتوں کی شناخت اور اِن سے متعلق غور و فکر کی شروعات کرنے کے لیے یہ ایک اچھّا حوالہ ہے۔ آپ پَولُس کی نَعمتوں کی اِس فہرست میں اُن تمام نَعمتوں کو شامل کرسکتے ہیں جو آپ نے دُوسروں میں، اپنے آپ میں، یا صحائف کے لوگوں میں پائی ہیں۔ اگر آپ نے بطریقی برکت حاصل کی ہے، تو اِس میں آپ کی چند رُوحانی نَعمتوں کا بھی ذکر ہوگا۔ یہ نَعمتیں خُدا کی بادشاہی کی تعمیر میں کیسے ہماری مدد کرتی ہیں؟ غور کریں کہ آپ ”بڑی سے بڑی نَعمتوں“ کی آرزُو کے لیے کیا کریں گے (۱ کُرنتھِیوں ۱۲: ۳۱)۔
مزید دیکھیں مرونی ۱۰: ۸–۲۱، ۳۰؛ عقائد اور عہود ۴۶: ۸–۲۶؛ اِیمان کے اَرکان ۱: ۷۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ درج ذیل تجاویز مددگار ثابت ہوسکتی ہیں:
۱ کُرنتھِیوں ۹: ۲۴–۲۷
چونکہ پَولُس نے اِنجیل کے مُوافِق زِندگی گزارنے کا موازنہ دَوڑ میں حصّہ لینے کے ساتھ کیا، اِس بات کی وضاحت کے لیے آپ ایک خاندانی دَوڑ منعقد کرسکتے ہیں۔ دَوڑ ختم کرنے والے ہر فرد کو ایک تاج سے نوازیں، اور اِس بات پر تبادلہ خیال کریں کہ وہ سب جو اِس زِندگی میں یِسُوع مسِیح کی پیروی کرنے میں مستعد رہتے ہیں وہ ”نہ مُرجھانے والا“ سَہرا حاصل کریں گے (۱ کُرنتھِیوں ۹: ۲۵؛ مزید دیکھیں ۲ تِیمُتھیُس ۴: ۷–۸)۔ دَوڑ کی تیاری کے لیے جِیتنے والا کیا کرسکتا ہے؟ اِسی طرح، ہم آسمانی باپ کے پاس واپس لوٹنے کی تیاری کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟
پَولُس نے اِنجیل کے مُوافِق زِندگی گزارنے کا موازنہ دَوڑ میں حصّہ لینے سے کیا۔
۱ کُرنتھِیوں ۱۲: ۱–۱۱
سب کو ایک خاندانی رُکن کے نام کے ساتھ کاغذ کا ایک ٹکڑا دینے پر غور کریں۔ سب سے کہیں کہ وہ اُس شَخص کی رُوحانی نَعمتوں کی فہرست بنائیں جو وہ اُس شَخص میں پاتے ہیں۔ اِس کے بعد آپ کاغذوں کو دائرے میں ایک دُوسرے کو دے سکتے ہیں جب تک کہ ہر شَخص کو اپنے خاندان کے ہر فرد کی نَعمتوں کے بارے میں لکھنے کا موقع نہ مِل جائے۔
۱ کُرنتھِیوں ۱۲: ۳
یِسُوع مسِیح کی گواہی حاصل کرنے کے لیے رُوحُ الُقدس کیوں ضروری ہے؟ ہم اپنی گواہیوں کو مضبُوط بنانے کے واسطے رُوحُ الُقدس کو دعوت دینے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
۱ کُرنتھِیوں ۱۲:۱۲–۲۷
پَولُس کی بَدَن کی تَمثِیل خاندانی اتحاد پر تبادلہ خیال کرنے کا ایک یادگار طریقہ ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، خاندان کے افراد صرف آنکھوں یا کانوں والے جسم کی تصویر بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں (دیکھیں آیت ۱۷)۔ ایک دُوسرے کے ساتھ خاندانی فرد کی مانند سلوک روا رکھنے سے متعلق یہ آیات ہمیں کیا مشورت دیتی ہیں؟
۱ کُرنتھِیوں ۱۳: ۴–۸
پَولُس کی محبّت کی تعریف آپ کے خاندان کے لیے ایک اِلہامی مقولہ بن سکتی ہے۔ آپ خاندان کے ہر فرد کو آیات ۴–۸ میں سے کسی اصطلاح کا مُطالعہ کرنے کی تفویض دے سکتے ہیں اور باقی خاندان کو تعریف، مثالوں اور ذاتی تجربات کے اِستعمال سے اِن کا مطلب سِکھائیں۔ نِجات دہندہ کیسے اِن صفات کی ایک مثال ہے؟ آپ اِن میں سے ہر ایک اصطلاح کا اکٹھے پوسٹر بھی بناسکتے ہیں اور اِن کی نمائش اپنے گھر میں کرسکتے تھے۔ تخلیقی بنیں، کچھ نیا کریں!
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
اپنی تدریس کو بہتر بنانا
ایک صحیفہ کا نمایاں طور پر مظاہرہ کریں۔ ایک معنی خیز آیت منتخب کریں، اور اُسے ایسی جگہ لگائیں جہاں سےخاندانی اَرکان اُسے اکثر دیکھ سکیں۔ نمایاں طور پر نمائش کیے جانے والے صحائف کا انتخاب کرنے کے لیے خاندان کے دیگر اَرکان کو بھی موقع دیں۔