”اگست ۹–۱۵۔ رُومِیوں ۷–۱۶: ’نیکی کے ذرِیعہ سے بدی پر غالِب آؤ‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)
”اگست ۹–۱۵۔ رُومِیوں ۷–۱۶،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱
اگست ۹–۱۵
رُومِیوں ۷–۱۶
نیکی کے ذرِیعہ سے بدی پر غالِب آؤ“
رُومِیوں ۷–۱۶ میں سے صرف چند اِنجیلی اُصولوں کو اِس خاکہ میں شامل کیا گیا ہے، لہذا اپنے آپ کو درج اُصولوں تک محدود نہ رکھیں۔ مُطالعہ کے دوران حاصل ہونے والے اِلہام پر دھیان لگائیں۔
اپنے تاثرات کو قلمبند کریں
رُومِیوں کے نام اپنے خط کا آغاز کرتے ہوئے، پَولُس نے روؔمہ کے کلیسیائی اَرکان کو ”خُدا کے پیارے“ کہہ کر سلام کیا، جو ”مُقدّس ہونے کے لِئے بُلائے گئے ہیں۔“ اُس نے تعریف کی کہ اُن کے ”اِیمان کا تمام دُنیا میں شُہرہ ہو رہا [تھا]“ (رُومِیوں ۱: ۷–۸)۔ اگرچہ پَولُس کے خط کا بیشتر حصّہ غلط خیالات اور خراب سلوک کی درستگی کے بارے میں ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ اُن نئے مسِیحی تبدیل شدگان کو یہ یقین بھی دِلانا چاہتا تھا کہ وہ واقعتاً خُدا کے پیارے تھے۔ ذہنی ہم آہنگی کے شائستہ اِظہار کے طور پر، پَولُس نے اعتراف کیا کہ وہ بھی کبھی کبھار ایک ”کمبخت آدمِی“ کی طرح محسوس کرتا ہے (رُومِیوں ۷: ۲۴)، لیکن یِسُوع مسِیح کی اِنجیل نے اُسے گُناہ پر غالب آنے کی طاقت بخشی ہے۔ اُس نے ہم سب کے لیے شائستہ مشورت جاری رکھی جو خود کو پیارا محسوس کرنے کی جدوجہد میں مبتلا ہیں اور جن کے لیے برگزُیدگی ناممکن ہدف ہوسکتا ہے۔ ”بدی سے مغلُوب نہ ہو،“ اُس نے کہا—دُنیاوی اور اپنے اندر کی بدی دونوں—”بلکہ نیکی کے ذرِیعہ سے بدی پر غالِب آؤ“ (رُومِیوں ۱۲: ۲۱)۔
تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف
رُومِیوں ۷–۸
اگر میں رُوح کی پیروی کروں، تو میں گُناہ پر غالب آ سکتا ہوں اور خُدا کے ساتھ میراث پانے کے لیے تیار ہوسکتا ہوں۔
حتّیٰ کہ بپتِسمہ کی رسم کے وسِیلہ ”نئی زِندگی“ میں داخل ہونے کے بعد بھی (رُومِیوں ۶: ۴)، شاید آپ نے رُومِیوں ۷ میں بیان کردہ اندرونی تنازعہ کو محسوس کیا ہو—نفسانی آدمِی اور ہماری نیک خواہشات کے درمیان ”لڑائی“ (رُومِیوں ۷: ۲۳)۔ لیکن پَولُس نے رُومِیوں ۸: ۲۳–۲۵میں اُمِید کی بات بھی کی تھی۔ اِس اُمِید کی کون سی وجوہات آپ کو باب ۸ میں ملتی ہیں؟ آپ اُن نَعمتوں کی تلاش بھی کرسکتے ہیں جو اِس سبب سے حاصل ہوتی ہیں کہ ”خُدا کا رُوح تُم میں بسا ہُؤا ہے“ (رُومِیوں ۸: ۹)۔ آپ اپنی زِندگی میں رُوحُ الُقدس کی رفاقت کے مزید خواہاں کیسے ہوسکتے ہیں؟
رُومِیوں ۸: ۱۷–۳۹
ابدی جلال جو دینداروں کا منتظر ہے اُس کی قدر و قیمت فنا پذیری کی آزمائشوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔
پَولُس کے یہ خط لکھنے کے چند ہی سال بعد، روؔمہ کے مُقدّسین کو خوفناک ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ رُومِیوں ۸: ۱۷–۳۹ کے مطابق کون سی چِیز ظلم و ستم کا سامنا کرتے وقت اِن مُقدّسین کی مدد کرسکتی تھی؟ یہ اِلفاظ آپ پر اور اُن آزمائشوں پر کس طرح لاگو ہوسکتے ہیں جن کا آپ کو موجوہ طور پر سامنا ہے؟
اِن آیات اور بہن لِنڈا ایس ریوز کی مشورت کے درمیان روابط تلاش کریں: ”میں نہیں جانتی کہ ہم اتنی زیادہ آزمائشوں کا سامنا کیوں کرتے ہیں، لیکن یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ اِس کا انعام نہایت عظیم، نہایت ابدی اور لازوال، نہایت خوش کن اور ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ بخشش کے دن، ہم اپنے مہربان، پیارے باپ سے کہنا محسوس کر سکتے ہیں، ’کیا یہ سب ضروری تھا؟‘ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اپنے آسمانی باپ اور نِجات دہندہ کی محبّت کی گہرائی کو روزانہ یاد رکھتے اور پہچانتے ہیں، تو ہم اُن کی موجودگی اور اُن کی محبّت کے گھیرے میں دوبارہ واپس جانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں گے۔ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے … یہاں برداشت کی جانے والی تکالیف، کیا پتہ، آخِر میں، یہ آزمائشیں ہی ہمیں ہمارے باپ اور نِجات دہندہ کے ساتھ خُدا کی بادشاہی میں ابدی زِندگی اور سرفرازی کے لیے اہل بنائیں۔“ (”Worthy of Our Promised Blessings،“ انزائن یا لیحونا، نومبر ۲۰۱۵، ۱۱)۔
فیصلہ کریں کہ آپ خُدا کی محبّت کو ”روزانہ یاد رکھنے اور پہچاننے“ کے لیے کیا کریں گے۔
رُومِیوں ۸: ۲۹–۳۰؛ ۹–۱۱
”پہلے سے مُقرّر کِیا،“ ”برگُزِیدگی،“ اور ”پہلے سے جانا گیا“ سے پَولُس کا کیا مطلب تھا؟
پَولُس نے اِن اصطلاحات کو یہ سِکھانے کے لیے استعمال کیا کہ خُدا کے چند بچّوں کو پیشتر سے چُن لیا گیا تھا، یا پہلے سے مُقرّر کِیا گیا تھا تاکہ وہ دُنیا کی تمام قوموں کو برکت دینے کے لیے خصوصی برکات اور فرائض حاصل کریں۔ یہ خُد ا کی اپنے بچّوں کی یِسُوع مسِیح کی پیروی کرنے اور اُس کی مانند بننے کی رضامندی سے متعلق پیش آگاہی پر مبنی تھا (مزید دیکھیں اِفِسیوں ۱: ۳–۴؛ ۱ پطرس ۱: ۲)۔ تاہم، پَولُس نے رُومِیوں ۹–۱۱ میں اِس بات پر زور دیا کہ اِس سے قطع نظر کہ ہم اسرائیل کے گھرانے میں کیسے شامل ہوئے—یا کلیسیا کا رُکن بنے—سب لوگوں کو یِسُوع مسِیح پر اِیمان اور اُس کے حُکموں کی تعمیل کے ذریعہ سے انفرادی نِجات حاصل کرنی ہوگی۔
مزید معلومات کے لیے، دیکھیں ایلما ۱۳: ۱–۵۔
رُومِیوں ۱۲–۱۶
پَولُس مجھے یِسُوع مسِیح کے حقیقی مُقدّس اور پیروکار بننے کی دعوت دیتا ہے۔
رُومِیوں کے آخری پانچ ابواب مُقدّسین کو زِندگی گزارنے کے طریقہ کار کے بارے میں درجنوں مخصوص ہدایات پر مشتمل ہیں۔ شاید آپ اِس پوری مشورت کو ایک ہی وقت میں لاگو نہیں کرسکتے، لیکن رُوح کی سُنیں، اور وہ ایک یا دو ایسے طریقہ کار ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کرسکتا ہے جس پر آج ہی سے آپ کام کرنا شروع کرسکتے ہیں۔ دُعاگو ہوکر اپنے آسمانی باپ کے ساتھ اپنی خواہشات کا اشتراک کریں، اور اُس کی مدد کے خواہاں ہوں۔
تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام
جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:
رُومِیوں ۷: ۲۳
اِس آیت میں پَولُس کی بیان کردہ ”لڑائی“ کے بارے میں مزید سمجھنے میں اپنے خاندان کی مدد کے لیے بزرگ شین ایم بوئن کے مضمون میں بھیڑیوں کے بارے میں کہانی کا اشتراک کرنے پر غور کریں ”Agency and Accountability“ (New Era، ستمبر ۲۰۱۲، ۸–۹)۔
رُومِیوں ۹: ۳۱–۳۲
بزرگ ولفرڈ ڈبلیو اینڈرسن کا پیغام ”The Music of the Gospel“ (انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۵، ۵۴–۵۶) اِس بات کی وضاحت کرنے میں مدد کرسکتا ہے کہ پَولُس نے شَرِیعَت، اعمال اور عقیدے کے بارے میں کیا تعلیم دی تھی۔ آپ کا خاندان اُن کے پیغام پر گفتگو کرنے اور موسیقی کے ساتھ اور اِس کے بغیر رقص کرنے کی کوشش سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ بغیر موسیقی کے رقص کرنا کیسے اِیمان کے بغیر اِنجیل کی تعمیل کرنا ہے؟
بزرگ ولفرڈ ڈبلیو اینڈرسن نے سِکھایا، ”اِنجیل کی موسیقی [ایک] خوشگوار رُوحانی احساس ہے۔“
رُومِیوں ۱۰: ۱۷؛ ۱۵: ۴
خُدا کے کلام کا مُطالعہ کرنے کے باعِث ہمیں اِن آیات میں بیان کردہ برکات کیسے حاصل ہوئی ہیں؟ شاید خاندانی اَرکان اپنے پسندیدہ صحائف میں سے کچھ کا اشتراک کرسکتے ہیں (مزید دیکھیں ۲ نیفی ۲۵: ۲۶)۔
رُومِیوں ۱۲
اپنے آپ کو ”اَیسی قُربانی ہونے کے لِئے نذر کرنا جو زِندہ اور پاک اور خُدا کو پسندِیدہ ہو“ کا کیا مطلب ہے؟ (رُومِیوں ۱۲: ۱)۔
رُومِیوں ۱۴: ۱۳–۲۱
آپ کا خاندان دُوسروں کی ذاتی ترجیحات کی جانچ کرنے اور اِس کے بارے میں بحث کرنے سے متعلق پَولُس کی مشورت کا مُطالعہ کرنے سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ دُوسروں کے انتخاب آپ سے مختلف ہونے کی صُورت میں آپ ردِعمل دینے کے مناسب طریقوں پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔ ہم اِس بات کے بارے میں کیسے مزید مستعد ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اپنے انتخابات دُوسروں کو کِس طرح متاثر کرتے ہیں؟
مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔
اپنی تدریس کو بہتر بنانا
بچّوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنے دیں۔ ”جب آپ بچّوں کو اِنجیلی اُصول سے متعلق کچھ تخلیق کرنے کی دعوت دیتے ہیں تو، آپ اُس اُصول کو بہتر طور پر سمجھنے میں اُن کی مدد کرتے ہیں۔ … اُنھیں تعمیر کرنے، تصویریں بنانے، رنگ بھرنے، لکھنے اور تخلیق کرنے کی اجازت دیں“ (دیکھیں نجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، ۲۵)۔