لائبریری
اگست ۲–۸۔ رُومِیوں ۱–۶: ’نِجات کے لئِے خُدا کی قُدرت‘


”اگست ۲–۸۔ رُومِیوں ۱–۶: ’نِجات کے لئِے خُدا کی قُدرت‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”اگست ۲–۸۔ رُومِیوں ۱–۶،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

پَولُس ایک خط لکھتے ہوئے

اگست ۲–۸

رُومِیوں ۱–۶

”نِجات کے لئِے خُدا کی قُدرت“

قلمبند سرگوشیوں سے آپ کو یہ یاد رکھنے میں مدد ملے گی کہ رُوح آپ کو کیا سِکھانا چاہتا ہے۔ اِن سرگوشیوں سے متعلق اپنے احساسات کو بھی قلمبند کرنے کے بارے میں غور فرمائیں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

اُس وقت جب پَولُس نے رومہ میں کلیسیا کے اَرکان کے نام اپنا خط لکھا تھا، جو یہُودِیوں اور غَیر قَوموں کا ایک متنوع گروہ تھا، تو کلیسیائے یِسُوع مسِیح گلیلی اِیمان لانے والوں کے ایک چھوٹے گروہ سے بڑھ کر بہت زیادہ ترقّی کر چکی تھی۔ نِجات دہندہ کی قیامت کے کم و بیش ۲۰ سال بعد، مسِیحیوں کی جماعتیں ہر ایسی جگہ پہ موجود تھیں جہاں رَسُول مناسب طور پر سفر کرسکتے تھے—بمشول رومہ، جو کہ ایک وسیع سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ لیکن اگرچہ پَولُس کا پیغام رُومِی مُقدّسین کے نام تھا، اُس کا پیغام آفاقی ہے، اور یہ آج ہم سب پر بھی لاگو ہوتا ہے: ”مسِیح کی اِنجیل … ہر ایک اِیمان لانے والے کے واسطے نِجات کے لئِے خُدا کی قُدرت ہے“ (رُومِیوں ۱: ۱۶، تِرچھے حروف کا اضافہ کیا گیا ہے)۔

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

رُومِیوں–فِلیمون

خطوط کیا ہیں اور اِن کو کیسے ترتیب دیا گیا ہے؟

خطوط کلیسیائی راہ نماؤں کی جانب سے دُنیا کے مختلف حصّوں میں بسنے والے مُقدّسین کو لکھے گئے خط ہیں۔ نئے عہد نامہ میں رُومِیوں سے شروعات اور عِبرانیوں کے ساتھ اختتام پذیر کرتے ہوئے—زیادہ تر خطوط پَولُس رَسُول نے لکھے تھے۔ اُس کے خطوط طوالت کے لحاظ سے ترتیب دیئے گئے ہیں۔ اگرچہ نئے عہد نامے میں پہلا خط رُومِیوں کے نام ہے، یہ دراصل پَولُس کے کارِ تبلیغ کے اختتام کے قریب لکھا گیا تھا۔

رُومِیوں ۱–۶

جب میں اُس کے احکامات کی فرمان برداری کرتے ہوئے نِجات دہندہ پر بھروسے کا اِظہار کرتا ہوں تو، اُس کے فضل کے باعِث میں راستباز ٹھہرتا ہوں۔

درج ذیل تعریفیں رُومِیوں کے خط کو بہتر طور پر سمجھنے میں آپ کی مدد کرسکتی ہیں:

شَرِیعَت:”شَرِیعَت“ کے بارے میں تحریر کرتے ہوئے پَولُس، موسیٰ کی شَرِیعَت کا حوالہ دے رہا تھا۔ اِسی طرح، پَولُس کی تحریروں میں ”اعمال“ کا لفظ اکثر موسیٰ کی شَرِیعَت کی تقریبات اور رسومات کا حوالہ دیتا ہے۔ پَولُس نے اِس شَرِیعَت کا موازنہ ”اِیمان کی شَرِیعَت“ (دیکھیں رُومِیوں ۳: ۲۷–۳۱)، یا یِسُوع مسِیح کے عقیدے کے ساتھ کیا، جو ہماری نِجات کا اصل وسِیلہ ہے۔

مختُون، نامختُون:قدیم زمانے میں، ختنہ خُدا اور ابرؔہام کے درمیان عہد کی علامت یا نِشان تھا۔ پَولُس نے ”مختُون“ کی اصطلاح یہُودِیوں (موعودہ لوگوں) کا حوالہ دینے کے لیے استعمال کی اور ”نامختُون“ غَیر قَوموں (جو ابرؔہام کے عہد کے ماتحت نہیں) کے لیے استعمال کی۔ ختنہ اب خُدا اور اُس کے لوگوں کے درمیان عہد کا نِشان نہیں رہا (دیکھیں اعمال ۱۵: ۲۳–۲۹

راستی، راست ہونا، راست ٹھہرایا جانا:یہ اصطلاحات گناہ کی مُعافی، یا درگزر کا حوالہ دیتی ہیں۔ جب ہم راست ٹھہرتے ہیں تو، ہمیں مُعاف کر دیا جاتا ہے، بے قصور ٹھہرایا جاتا ہے، اور ہم اپنے گُناہوں کی ابدی سزا سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ پَولُس نے وضاحت دی ہے، یہ یِسُوع مسِیح کے وسیلے سے ممکن ہوا ہے( دیکھیں ڈی ٹاڈ کرسٹافرسن، ”Justification and Sanctification،“ انزائن، جون ۲۰۰۱، ۱۸–۲۵)۔ رُومِیوں میں، راست باز اور راست بازی جیسے اِلفاظ راست اور راست ٹھہرانے جیسے اِلفاظ کے مترادف کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

فضل:فضل ایسی ”الہٰی … مدد یا قوت ہے، جو یِسُوع مسِیح کے فراواں رحم اور محبّت کے وسِیلہ سے بخشی گئی ہے۔“ فضل کے وسِیلہ سے تمام لوگ دُوبارہ زِندہ کیے جائیں گے اور لافانیت پائیں گے۔ اِس کے علاوہ، ”فضل اَیسی تقویت بخش قُدرت ہے، جو مردوں اور عورتوں کو اِس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی ہر ممکن مؤثر کوشش کرنے کے بعد ابدی زِندگی اور سرفرازی کو تھامیں رکھیں۔“ ہم اپنی کوششوں کی بدولت فضل نہیں حاصل کرتے ہیں؛ بلکہ، یہ فضل ہی ہے جو ہمیں ”اچھے کام کرنے کی قوت اور مدد بخشتا ہے جنھیں [ہم] بصورتِ دیگر کر نہ پائیں گے“ (مزید دیکھیں ڈیٹئر ایف اکڈورف، ”The Gift of Grace،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۵، ۱۰۷؛ ۲ نیفی ۲۵: ۲۳

رُومِیوں ۲: ۱۷–۲۹

میرے ظاہری اعمال کو میری اندرونی تبدیلی کی عکاسی کرنی چاہیے۔

پَولُس کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ رومہ کے کچھ یہُودِی مسِیحی اب بھی یہی اِیمان رکھتے تھے کہ موسیٰ کی شَرِیعَت کے رسم و رواج کی اطاعت سے نِجات حاصل ہوگی۔ یہ ایک مسئلہ معلوم ہوتا ہے مگر اِس کا اِطلاق اب نہیں ہوتا کیونکہ ہم موسیٰ کی شَرِیعَت کے مطابق نہیں جیتے۔ لیکن جب آپ پَولُس کی تحریریں پڑھیں، خاص طور پر رُومِیوں ۲: ۱۷–۲۹، تو اِنجیل کے مُطابق زِندگی گزارنے کی اپنی کوششوں کے بارے میں سوچیں۔ کیا آپ کے ظاہری اعمال، جیسا کہ عشائے ربانی میں حصّہ لینا یا ہَیکل میں شرکت کرنا، آپ کی تبدیلی اور مسِیح پر آپ کے اِیمان کو مضبوط بنانے میں راہ نمائی کرتے ہیں؟ (دیکھیں ایلما ۲۵: ۱۵–۱۶)۔ آپ یہ کیسے یقینی بناسکتے ہیں کہ آپ کے ظاہری اعمال دِل کی تبدیلی کا باعِث بنیں؟

مزید دیکھیں ڈیلن ایچ اوکس، ”The Challenge to Become،“ انزائن، نومبر ۲۰۰۰، ۳۲–۳۴۔

رُومِیوں ۳: ۱۰–۳۱؛ ۵

یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے، میں اپنے گُناہوں کی مُعافی پاسکتا ہوں۔

کچھ لوگ پَولُس کے اِس دلیرانہ اعلان سے حوصلہ شکنی محسوس کرسکتے ہیں کہ ”کوئی راستباز نہِیں، ایک بھی نہِیں“ (رُومِیوں ۳: ۱۰)۔ لیکن رُومِیوں میں پُر امید پیغامات بھی موجود ہیں۔ اِنھیں ابواب ۳ اور ۵ میں تلاش کریں، اور غور فرمائیں کہ یہ یاد رکھنا کہ ”سب نے گُناہ کِیا اور خُدا کے جلال سے محرُوم ہیں“ (رُومِیوں ۳: ۲۳) یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے ”اُمِید پر فخر“ کرنے کے بارے میں سیکھنے کی جانب ایک اہم قدم کیوں ہے (رُومِیوں ۵: ۲

رُومِیوں ۶

یِسُوع مسِیح کی اِنجیل مجھے ”نئی زِندگی میں چلنے“ کی دعوت دیتی ہے۔

پَولُس نے تعلیم دی کہ اِنجیل سے ہمارے طرزِ زندگی کو تبدیل ہونا چاہیے۔ رُومِیوں ۶ میں کون سے بیانات آپ کی کسی کو یہ سمجھانے میں مددگار ثابت ہوں گے کہ اِنجیل نے ”نئی زِندگی میں چلنے“ میں آپ کی کِس طرح مدد کی ہے؟ (آیت ۴)۔ آپ کون سے ذاتی تجربات کا اشتراک کریں گے؟

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

رُومِیوں ۱: ۱۶–۱۷

ہم کِس طرح ظاہر کرسکتے ہیں کہ ہم ”مسِیح کی اِنجیل سے شرماتے نہِیں“؟

رُومِیوں ۳: ۲۳–۲۸

کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کیوں کہ ہم ”[خُدا کے] فضل کے سبب سےمُفت راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں“ (ترجمہ برائے جوزف سمتھ، رُومِیوں ۳: ۲۴)، تاہم فضل حاصل کرنے کے لیے کچھ درکار نہیں ہوتا۔ اگرچہ ہم خُدا کا فضل ”پانے“ کے کبھی بھی اہل نہیں ہوسکتے ہیں، پھر بھی اِس کو حاصل کرنے کے لیے خُدا نے ہمیں کچھ کام کہے ہیں۔ فضل پانے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟

رُومِیوں ۵: ۳–۵

ہم نے کِن مُصِیبتوں کا سامنا کیا ہے؟ اِن مُصِیبتوں نے ہمارے اندر صبر، پُختگی اور اُمِید پَیدا کرنے میں ہماری کس طرح مدد کی ہے؟

رُومِیوں ۶: ۳–۶

پَولُس نے اِن آیات میں بپتِسمہ کی علامت کے بارے میں کیا بتایا؟ شاید آپ کا خاندان آئندہ ہونے والے بپتِسمہ میں شرکت کا ارادہ کرسکتا ہے۔ یا آپ کے خاندان میں سے کوئی اپنے بپتِسمہ کی تصاویر یا یادوں کا اشتراک کرسکتا ہے۔ بپتِسمہ کے عہود باندھنے اور اُن پر قائم رہنے سے ”نئی زِندگی میں چلنے“ میں ہمیں کیسے مدد مِل سکتی ہے؟

ایک شَخص جھیل میں دُوسرے کو بپتِسمہ دیتے ہوئے

بپتِسمہ مسِیح کے شاگِرد کے طور پر ایک نئی زِندگی کے آغاز کی علامت ہے۔

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا

مُطالعہ کرتے ہوئے سوالات پوچھیں۔ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہوئے، ذہن میں سوالات آسکتے ہیں۔ اِن سوالات پر غور کریں اور جوابات تلاش کریں۔ مثال کے طور پر، رُومِیوں ۱–۶ میں آپ اِس سوال کے جوابات تلاش کرسکتے ہیں کہ ”فضل کیا ہے؟“

مسِیح ندی پہ ایک لڑکی کو بچاتے ہوئے

ڈرو مت، از گریگ کے اولسن