لائبریری
اگست ۱۶–۲۲: ۱ کُرنتھِیوں ۱–۷: ’باہم یکدِل ہوکرکامِل بنے رہو‘


”اگست ۱۶–۲۲: ۱ کُرنتھِیوں ۱–۷: ’باہم یکدِل ہوکرکامِل بنے رہو‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”اگست ۱۶–۲۲: ۱ کُرنتھِیوں ۱–۷،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

کرُنتھُس

کرُنتھُس، جنوبی یُونان، جلسہ گاہ اوربلدیہ کا دفتر، بالج بلوغ کی مصوری/www.ArchaeologyIllustrated.com

اگست ۱۶–۲۲

۱ کُرنتھِیوں ۱–۷

”باہم یکدِل ہوکرکامِل بنے رہو“

۱ کُرنتھِیوں ۱–۷ کو پڑھتے ہوئے اپنے تاثرات کو قلمبند کریں۔ اِن تاثرات میں کسی عقیدے کا مزید مُطالعہ کرنا، اپنے علم کو دُوسروں کے ساتھ بانٹنا یا اپنی زِندگی میں تبدیلیاں لانا شامل ہو سکتا ہے۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

اُن مہینوں کے دوران جو پَولُس نے کرُنتھُس میں گزارے، ”بہُت سے کُرنتھی [اُسے] سُن کر اِیمان لائے اور بپتِسمہ لِیا“ (اعمال ۱۸: ۸)۔ لہذا صرف چند سال بعد ہی پَولُس کے لیے یہ دل دہلا دینے والی بات تھی جب اُس نے سُنا کہ، کُرنتھیوں کے مُقدّسین میں ”تفرقے“ اور ”جھگڑے“ ہو رہے تھے اور اُس کی عدم موجودگی میں اُنھوں نے ” دُنیا کی حِکمت“ پر دھیان لگانا شروع کر دیا تھا (۱ کُرنتھِیوں ۱: ۱۰–۱۱، ۲۰)۔ جواباً، پَولُس نے وہ خط لکھا جس کو اب ہم ۱ کُرنتھِیوں کہتے ہیں۔ یہ گہرے عقیدہ سے معمور تھا، اور پھر بھی اُسی وقت، پَولُس مایوس دکھائی دیتا تھا کہ مُقدّسین اُن تمام عقائد کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے جو وہ اُنھیں عطا کرنا چاہتا تھا۔ ”اور، اَے بھائِیو، مَیں تُم سے اُس طرح کلام نہ کرسکا جِس طرح رُوحانیوں سے،“ اُس نے افسوس کا اِظہار کیا، ”کِیُونکہ تُم ابھی تک جِسمانی ہو“ (۱ کُرنتھِیوں ۳: ۱–۳)۔ جب ہم پَولُس کے اِلفاظ کو پڑھنے کی تیاری کرتے ہیں، تو سَچّائی قبول کرنے کے لیے اپنی تیاری کا جائزہ لینا مددگار ثابت ہوسکتا ہے—جس میں رُوح پر توجہ دینے کے لیے ہماری آمادگی اور اپنے خاندان کے اندر، اپنے ساتھی مُقدّسین اور خُدا کے ساتھ اتحاد کی کوشش کرنا شامل ہے۔

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

۱ کُرنتھِیوں ۱: ۱۰–۱۷؛ ۳: ۱–۱۱

مسِیح کی کلیسیا کے اَرکان متحد ہیں۔

ہم کُرنتھِیوں کے مُقدّسین میں اتحاد کی کمی کے بارے میں تمام تفصیلات نہیں جانتے، لیکن ہم اپنے تعلقات میں اتحاد کی کمی سے باخبر ہیں۔ اپنی زِندگی میں اَیسے رشتے کے بارے میں سوچیں جو مزید اتحاد سے فائدہ اُٹھا سکے؛ پھر ۱ کُرنتھِیوں ۱: ۱۰–۱۷؛ ۳: ۱–۱۱ میں دیکھیں کہ پَولُس نے کُرنتھِیوں کے مُقدّسین میں اتحاد کی کمی کے بارے میں کیا تعلیم دی۔ دُوسروں کے ساتھ مزید متحد ہونے کے بارے میں آپ کیا بصیرت حاصل کرسکتے ہیں؟

مزید دیکھیں مضایاہ ۱۸: ۲۱؛ ۴ نیفی ۱: ۱۵–۱۷؛ عقائد اور عہود ۳۸: ۲۳–۲۷؛ ۱۰۵: ۱–۵۔

۱ کُرنتھِیوں ۱: ۱۷–۳۱؛ ۲

خُدا کے کام کو پورا کرنے کے لیے، مجھے خُدا کی حِکمت کی ضرورت ہے۔

جبکہ یہ اچھا ہے—یہاں تک کہ اِس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے—کہ جہاں بھی میسر ہو حِکمت کی تلاش کریں (دیکھیں ۲ نیفی ۹: ۲۹؛ عقائد اور عہود ۸۸: ۱۱۸)، پَولُس نے خراب اِنسانی حِکمت سے متعلق چند سخت اِلفاظ میں خبردار کیا، جسے اُس نے ” دُنیا کی حِکمت“ کا نام دیا۔ جب آپ ۱ کُرنتھِیوں ۱: ۱۷–۲۵ پڑھیں تو، غور کریں کہ اِس قول کا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔ آپ کے خیال میں ” خُدا کی حِکمت“ سے پَولُس کا کیا مطلب تھا؟ ہمیں خُدا کے کام کو پورا کرنے کے لیے خُدا کی حِکمت کی کیوں ضرورت ہے؟

خُدا کے کام کو پورا کرنے میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی آپ کی کوششوں کے دوران، کیا آپ نے کبھی کُرنتھِیوں کے مُقدّسین کو تعلیم دیتے ہوئے پَولُس کی مانند ”خَوف، اور … بہُت تھرتھرانے“ کی حالت کا تجربہ کیا ہے؟ (۱ کُرنتھِیوں ۲: ۳)۔ آپ کو ۱ کُرنتھِیوں ۲: ۱–۵ میں اَیسا کیا مِلتا ہے جو آپ کو تقویت بخشتا ہے؟ غور کریں کہ آپ کِس طرح اِس چِیز کا اِظہار کرسکتے ہیں کہ آپ کا بھروسا ”اِنسان کی حِکمت“ پر نہِیں بلکہ ”خُدا کی قُدرت“ پر مَوقُوف ہے۔

مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۱: ۱۷–۲۸۔

۱ کُرنتھِیوں ۲: ۹–۱۶

مجھے خُدا کی باتوں کو سمجھنے کے لیے رُوحُ الُقدس کی ضرورت ہے۔

اگر آپ موٹر گاریوں کی میکانیات یا قرون وسطی کے فنِ تعمیر سے متعلق مزید جانناچاہیں، تو آپ اِس کا علم کیسے حاصل کریں گے؟ ۱ کُرنتھِیوں ۲: ۹–۱۶ کے مطابق، ”اِنسان کی باتیں“ سیکھنے سے ”خُدا کی باتیں“ سیکھنا کیسے مختلف ہے؟ خُدا کی باتوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں رُوحُ الُقدس کی کیوں ضرورت ہوتی ہے؟ اِن آیات کو پڑھنے کے بعد، آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کو رُوحانی چِیزوں کو زیادہ اچھی طرح سے سمجھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ پَولُس کے اِلفاظ کسی اَیسے شَخص کی مدد کیسے کرسکتے ہیں جو اپنی گواہی پانے کے لیے سخت محنت کر رہا ہو؟

۱ کُرنتھِیوں ۶: ۱۳–۲۰

میرا بَدَن مُقدّس ہے۔

کرُنتھُس میں زیادہ تر لوگ محسوس کرتے تھے کہ جنسی بے حیائی قابلِ قبول ہے اور اُن کے جسم بنیادی طور پر تفریح کے لیے بنائے گئے ہیں۔ دُوسرے اِلفاظ میں، کرُنتھُس آج کی دُنیا سے اتنا مختلف نہیں تھا۔ پَولُس نے ۱ کُرنتھِیوں ۶: ۱۳–۲۰ میں اَیسا کیا سکھایا جو آپ کی دُوسروں کو یہ سمجھانے میں مدد کرسکتا ہے کہ آپ پاکیزہ زِندگی کیوں گزارنا چاہتے ہیں؟

یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوسکتا ہے کہ کیسے، پَولُس کی مانند، بہن وینڈی ڈبلیو نیلسن نے مُقدّسین کو اپنے خطاب ”Love and Marriage“ میں پاکیزہ رہنے کی ترغیب دی (Worldwide Devotional for Young Adults، جنوری. ۸، ۲۰۱۷، broadcasts.ChurchofJesusChrist.org)۔ بہن نیلسن کی جانب سے بیان کردہ محبّت اور قربت سے متعلق سَچّائیاں دُنیا کے پیغامات سے کِس طرح مختلف ہیں؟

مزید دیکھیں رُومِیوں ۱: ۲۴–۲۷۔

۱ کُرنتھِیوں ۷: ۲۹–۳۳

کیا پَولُس نے یہ سِکھایا کہ شادی شدہ سے غَیر شادی شدہ ہونا زیادہ بہتر ہے؟

۱ کُرنتھِیوں ۷ کی متعدد آیات یہ تجویز کرتی ہیں کہ شادی قابلِ قبول ہے، جبکہ اکیلے رہنے اور جنسی تعلقات سے مکمل پرہیز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ البتّہ، ترجمہ برائے جوزف سمتھ، ۱ کُرنتھِیوں ۷: ۲۹–۳۳ (دیکھیں بائبل کا ضمیمہ) ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ پَولُس اُن لوگوں کا حوالہ دے رہا تھا جنھیں کُل وقتی مبلغ کے طور پر بلاہٹ دی گئی تھی، یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ کنوارے دنوں میں لوگ بہتر طور پر خُدا کی خدمت اور منادی کا کام کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ خُداوند نے اپنے بندوں کے ذریعہ سے، بمشول پَولُس، یہ تعلیم دی ہے کہ شادی اُس کے ابدی منصوبے کا ایک حصّہ ہے اور سرفرازی حاصل کرنے کے لیے ضروری رسم ہے (دیکھیں ۱ کُرنتھِیوں ۱۱:۱۱؛ عقائد اور عہود ۱۳۱: ۱–۴

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

۱ کُرنتھِیوں ۱: ۱۰–۱۷؛ ۳: ۱–۱۱

جب آپ کے خاندان کے افراد اِن آیات کو پڑھیں تو، اُنھیں اَیسی بصیرت تلاش کرنے کی دعوت دیں جس سے اُنھیں زیادہ متحد ہونے میں مدد مِل سکے۔

۱ کُرنتھِیوں ۳: ۱–۲

شاید آپ اِن آیات کو دودھ یا گوشت کی کوئی چیز کھاتے ہوئے پڑھ سکتے ہیں، اور ہماری رُوحانی بڑھوتی کے طریقے کا بچّوں کی بڑھوتی کے عمل کے ساتھ موازنہ کرسکتے ہیں۔

۱ کُرنتھِیوں ۳: ۴–۹

پَولُس نے اپنی تبلیغی کوششوں کا موازنہ درخت لگانے سے کیا۔ اُس کا موازنہ کیا تجویز پیش کرتا ہے کہ ہمیں دُوسروں کے ساتھ کِس طرح سے اِنجیل کا اشتراک کرنا چاہیے؟

۱ کُرنتھِیوں ۶: ۱۹–۲۰

ہمارے بَدَنوں کا ہَیکلوں کے ساتھ موازنہ کرنا، جیسا کہ پَولُس نے کیا، ہمارے بَدَنوں کے تقدس کے بارے میں تعلیم دینے کا ایک مؤثر طریقہ ہوسکتا ہے۔ شاید آپ اِس خاکہ کے ساتھ منسلک ہَیکلوں کی تصاویر دکھا سکتے ہیں۔ ہَیکلیں کیوں مُقدّس سمجھی جاتی ہیں؟ ہمارے بَدَن ہَیکل کی مانند کیسے ہیں؟ ہم اپنے بَدَنوں کے ساتھ ہَیکل جیسا سلوک روا رکھنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ (مزید دیکھیں ”Sexual Purity،“ مضبوطی برائے نوجوانان، ۳۵–۳۷۔) اگر ممکن ہو تو، اکٹھے ہَیکل یا ہَیکل کے میدانوں میں جائیں؛ اِیسا کرنے سے ہَیکل اور ہمارے بَدَن کی تقدیس کے بارے میں آپ کی گفتگو کو تقویت مِل سکتی ہے۔

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

ذاتی مُطالعہ کو بہتر بنانا

اپنے ساتھ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ پَولُس نے سِکھایا کہ اِنجیل سیکھتے ہوئے گوشت کھِلانے سے قبل دُودھ پِلایا جاتا ہے (دیکھیں ۱ کُرنتھِیوں ۳: ۱–۲)۔ اگر آپ کو لگے کہ اب کچھ عقائد کو سمجھنا مشکل ہے تو، تحمل سے کام لیں۔ بھروسا رکھیں کہ جوابات اُسی وقت حاصل ہوں گے جب آپ اِیمان اور تندہی سے مُطالعہ کریں گے۔

چار ہَیکلیں

پَولُس نے ہمارے بَدَنوں کا ہَیکل کے تقدس سے موازنہ کیا۔ اوپر بائیں سے ساعت وار: ٹائیوانا میکسیکو ہَیکل، ٹائپے تائیوان ہَیکل، ٹیگوسیگلپا ہنڈوراس ہَیکل، ہیوسٹن ٹیکساس ہَیکل۔