لائبریری
ستمبر ۶–۱۲۔ ۲ کُرنتھِیوں ۱–۷: ’خُدا سے میل مِلاپ کر لو‘


”ستمبر ۶–۱۲۔ ۲ کُرنتھِیوں ۱–۷: ’خُدا سے میل مِلاپ کر لو‘“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: نیا عہد نامہ ۲۰۲۱ (۲۰۲۰)

”ستمبر ۶–۱۲۔ ۲ کُرنتھِیوں ۱–۷،“ آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے افراد و خاندان: ۲۰۲۱

یِسُوع مسِیح

ستمبر ۶–۱۲

۲ کُرنتھِیوں ۱–۷

”خُدا سے میل مِلاپ کر لو“

کُرنتھِیوں کے نام پَولُس کے خطوط کا مُطالعہ کرتے ہوئے، اپنے دریافت کردہ اِنجیلی اُصولوں کو تحریر کریں اور غور فرمائیں کہ آپ اِن کو اپنی زِندگی میں کیسے لاگو کرسکتے ہیں۔

اپنے تاثرات کو قلمبند کریں

کبھی کبھار، کلیسیائی راہ نما ہونے کے ناطے آپ کو کچھ سخت باتیں کہنی پڑتی ہیں۔ آج کی طرح پَولُس کے ایّام میں بھی یہ حقیقت واضح تھی۔ بظاہر کُرِنتھُس کے مُقدّسین کے نام لکھے گئے پَولُس کےسابقہ خط میں تنبِیہ شامل تھی جو مجروح جذبات کا سبب بنی تھی۔ اِس خط میں جو ۲ کُرنتھِیوں کہلایا، اُس نے اِس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ اُس نے سخت اِلفاظ استعمال کرنے کی تحریک کیوں پائی: ”کِیُونکہ مَیں نے بڑی مُصِیبت اور دِلگیری کی حالت میں بہُت سے آنسُو بہا بہا کر تُم کو لِکھا تھا لیکِن اِس واسطے نہِیں کہ تُم کو غم ہو بلکہ اِس واسطے کہ تُم اُس بڑی محبّت کو معلُوم کرو جو مُجھے تُم سے ہے“ (۲ کُرنتھِیوں ۲: ۴)۔ جب آپ کسی راہ نما کی جانب سے کچھ تنبِیہ پاتے ہیں، تو اِس سے یقینی طور پر یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ اُس نے مِثلِ مسِیح محبّت سے اِلہام پایا ہے۔ اور حتّیٰ کہ ایسے معاملات میں بھی جو کلیسیا سے متعلق نہیں، اگر ہم دُوسروں کو ویسی محبّت کے ساتھ دیکھنے کو تیار ہوں جو پَولُس نے محسوس کی تو، کسی قسم کی بھی دلآزاری کا مناسب جواب دینا آسان ہو جائے گا۔ جیسا کہ بزرگ جیفری آر ہالینڈ نے مشورت دی، ”اِنسانی کمزوری سے متعلق شفقت کا اظہار کریں—اپنے آپ سے اور اُن لوگوں سے بھی جو آپ کے ساتھ رضاکارانہ طور پر اُس کلیسیا میں خدمت کرتے ہیں، جس کی راہ نمائی فانی مرد اور خواتین کرتے ہیں۔ اُس کے کامِل اِکلَوتے بَیٹے کے سوا، خُدا کو ہمیشہ غیِر کامِل لوگوں کے ساتھ ہی کام کرنا پڑا ہے“ (”Lord, I Believe،“ انزائن یا لیحونا، مئی ۲۰۱۳، ۹۴)۔

آئکن برائے ذاتی مُطالعہ

تجاویز برائے ذاتی مُطالعہِ صحائف

۲ کُرنتھِیوں ۱: ۳–۷؛ ۴: ۶–۱۰، ۱۷–۱۸؛ ۷: ۴–۷

میری آزمائشیں برکت کا باعِث ہوسکتی ہیں۔

پَولُس کو اپنی خدمت کے دوران جتنی مُصِیبتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، یہ باعثِ حیرت نہیں کہ اُس نے مُصِیبتوں کے مقاصد اور برکتوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا۔ ۲ کُرنتھِیوں ۱: ۳–۷؛ ۴: ۶–۱۰، ۱۷–۱۸؛ اور ۷: ۴–۷ کو پڑھتے ہوئے اُن طریقوں کے بارے میں سوچیں جن کی بدولت آپ کی آزمائشیں باعثِ برکت ثابت ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ غور کریں گے کہ کیسے خُدا ”[ہماری] سب مُصِیبتوں میں [ہم] کو تسلّی دیتا ہے“ اور اِس کے بدلے میں، آپ کیسے، ”اُن کو بھی تسلّی دے سکیں گے جو کِسی طرح کی مُصِیبت میں ہیں “(۲ کُرنتھِیوں ۱: ۴)۔ یا آپ یِسُوع مسِیح کے نُور پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں جو ”ہمارے دِلوں میں چمکا،“ حتّیٰ کہ جب آپ ”مُصِیبت اُٹھاتے“ اور ”حَیران“ ہوتے ہیں (۲ کُرنتھِیوں ۴: ۶–۱۰

مزید دیکھیں مضایاہ ۲۴: ۱۳–۱۷۔

۲ کُرنتھِیوں ۲: ۵–۱۱

جب میں مُعاف کرتا ہوں تو مجھے برکتیں ملتی ہیں اور میں دُوسروں کے لیے باعثِ برکت بنتا ہے۔

ہم اُس شَخص کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے جس کا ذکر پَولُس نے ۲ کُرنتھِیوں ۲: ۵–۱۱ میں کیا ہے—صرف اِتنا ہی کہ وہ غم کا باعِث ہُؤا تھا (دیکھیں آیات ۵–۶) اور یہ کہ پَولُس چاہتا تھا کہ مُقدّسین اُسے مُعاف کریں (دیکھیں آیات ۷–۸)۔ جب کوئی ہماری دلآزاری کرتا ہے تو ہم کبھی کبھار اُس کے بارے میں ”[اپنی] محبّت کا فتویٰ“ دینے میں کیوں ناکام ہوتے ہیں؟ (آیت ۸)۔ مُعاف نہ کرنے کے باعِث دُوسروں اور خود کو کیا نقصان پہنچتا ہے؟ (دیکھیں آیات ۷، ۱۰–۱۱)۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ دُوسروں کو مُعاف نہ کرنے سے کیسے ”شَیطان … ہم پر داؤ“ چلاتا ہے؟ (آیت ۱۱

مزید دیکھیں عقائد اور عہود ۶۴: ۹–۱۱۔

۲ کُرنتھِیوں ۵: ۱۴–۲۱

یِسُوع مسِیح کے کفارہ کے وسِیلہ سے، میں خُدا سے میل مِلاپ کرسکتا ہوں۔

پَولُس سے بہتر اور کوئی نہیں جان سکتا، کہ ”نئی مخلُوق“ بننے سے کیا مراد ہے۔ وہ مسِیحیوں کے ستانے والے سے مسِیح کا نڈر ایلچی بن گیا۔ وہ خود سے جانتا تھا کہ کِس طرح یِسُوع، جو ”گُناہ سے واقِف نہ تھا“، ہمارے گناہ مِٹا سکتا ہے اور ہمیں اپنی ”راست بازی“ دے سکتا ہے، خُدا سے ہمارا دوبارہ مِلاپ کراتے ہوئے۔ اِن آیات کو پڑھتے ہوئے اِس بارے میں سوچیں کہ کسی دُوسرے شَخص سے مِلاپ کرنے کا کیا مطلب ہے۔ یہ کِس طرح خُدا کے ساتھ مِلاپ کرنے کا مطلب سمجھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے؟ غور کریں کہ آپ کو خُدا سے کون سی چِیز جدا کر رہی ہے۔ اُس کے ساتھ مکمل طور پر میل مِلاپ کے لیے آپ کو مزید کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

مزید دیکھیں ۲ نیفی ۱۰: ۲۳–۲۵۔

۲ کُرنتھِیوں ۷: ۸–۱۱

خُدا پرستی کا غم تَوبہ کی ترغیب دیتا ہے۔

ہم عام طور پر غم کو اچھی چیز نہیں سمجھتے، لیکن پَولُس نے تَوبہ کے ایک لازمی حصے کے طور پر ”خُدا پرستی کے غم“ کا بیان کیا ہے۔ خُدا پرستی کے غم کے بارے میں آپ درج ذیل سے کیا سیکھتے ہیں؟ ۲ کُرنتھِیوں ۷: ۸–۱۱؛ ایلما ۳۶: ۱۶–۲۱؛ مورمن ۲: ۱۱–۱۵۔ آپ نے کب خُدا پرستی کے غم کو محسوس کیا، اور آپ کی زِندگی میں اِس کا کیا اثر پڑا ہے؟

آئکن برائے خاندانی مُطالعہ

تجاویز برائے خاندانی مُطالعہِ صحائف و خاندانی شام

جب آپ اپنے خاندان کے ساتھ صحائف کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، رُوح آپ کی یہ جاننے میں مدد کرسکتا ہے کہ اپنی خاندانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کِن اُصولوں پر زور دینا اور گفتگو کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں:

۲ کُرنتھِیوں ۳: ۱–۳

کیا آپ کے خاندان کے اَرکان نے کبھی کسی کو اپنے لیے، ملازمت یا سکول کی درخواست کے لیے، توصیہی خط لکھنے کو کہا ہے؟ اُنھیں اِس بارے میں گفتگو کرنے کو کہیں کہ وہ تجربہ کیسا تھا اور اُس خط میں اُن کے بارے میں کیا تحریر تھا۔ پَولُس نے سِکھایا کہ مُقدّسین کی زِندگیاں خود مسِیح کی جانب سے اِنجیل کی نیک نامی کے خطوط کی مانند ہیں، جو ”سیاہی سے نہِیں بلکہ زِندہ خُدا کے رُوح سے“ لکھی گئیں۔ جب آپ اکٹھے ۲ کُرنتھِیوں ۳: ۱–۳ کو پڑھتے ہیں، تو اِس بات پر گفتگو کریں کہ ہماری مثالیں کِس طرح اِنجیل کی نیک نامی کے خطوط کی مانند ہیں جو ”سب آدمِی جانتے اور پڑھتے ہیں۔“ شاید خاندان کا ہر فرد ایک ایسا خط یا ”مراسلہ“ لکھ سکتا ہے جس میں یہ وضاحت دی گئی ہو کہ کِس طرح خاندان کے کسی دُوسرے فرد نے یِسُوع مسِیح کے اعلیٰ شاگِرد ہونے کی ایک عمدہ مثال پیش کی۔ وہ اپنے خطوط کو پورے خاندان کے سامنے پڑھ سکتے ہیں اور اُس فرد کو دے سکتے ہیں جس کے بارے میں اُنھوں نے تحریر کیا تھا۔ یہ سمجھنا کیوں ضروری ہے کہ ہماری زِندگیاں ”مسِیح کے خط[خطوط]“ ہیں؟

۲ کُرنتھِیوں ۵: ۶–۷

اِس سے کیا مراد ہے کہ ہم ”اِیمان پر چلتے ہیں، نہ کہ آنکھوں دیکھے پر“؟ ہم یہ ظاہر کرنے کے لیے کیا کر رہے ہیں کہ ہمیں اُن چِیزوں پر یقین ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتے؟

۲ کُرنتھِیوں ۵: ۱۷

کیا آپ کا خاندان فطرت میں سے ایسی چِیزوں کی مثالیں—سوچ—یا ڈھونڈ سکتا ہے جو کہ قابلِ ذکر تبدیلیوں سے گزر کر نئی مخلوق بنتی ہیں؟ (اِس خاکہ کے ساتھ منسلِک تصاویر دیکھیں)۔ یہ مثالیں ہمیں کیا سِکھاتی ہیں کہ یِسُوع مسِیح کی اِنجیل ہمیں کیسے تبدیل کرسکتی ہے؟

۲ کُرنتھِیوں ۶: ۱–۱۰

اِن آیات کے مطابق، ”خُدا کے خادِم“ ہونے سے کیا مراد ہے؟

۲ کُرنتھِیوں ۶: ۱۴–۱۸

اپنے اِرد گِرد کے لوگوں کے سامنے بھی اچھی مثال بنتے ہوئے، ہم پَولُس کی مشورت کی پیروی کیسے کرسکتے ہیں کہ، ”اُن [ناراستوں] میں سے نِکل کر الگ رہو اور ناپاک چِیز کو نہ چھُوؤ“؟

مزید تجاویز برائے تدریسِ اطفال کے لیے، آ، میرے پِیچھے ہو لے—برائے پرائمری میں اِس ہفتے کا خاکہ دیکھیں۔

اپنی تدریس کو بہتر بنانا

عملی اسباق کا اشتراک کریں۔ کفّارہ، جیسے اِنجیل کے چند تصورات، کو سمجھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ ایسی تصاویر یا اشیاء کو استعمال کرنے کے بارے میں غور فرمائیں جو صحائف میں سے دریافت کردہ اُصولوں کو سمجھنے میں آپ کے خاندان کی مدد کرسکتی ہیں۔

لاروا، نرم ریشمی خول، اور تتلی

جب ہم مسِیح کی اِنجیل کی طرف رُجُوع لاتے ہیں، تو ہماری تبدیلی اتنی گہری ہوتی ہے کہ پَولُس نے اُس کو ”نئی مخلوق“ بننے کے مترادف بیان کیا (۲ کُرنتھِیوں ۵: ۱۷