”ستمبر 7–13۔ ’وہ تیری راہ نُمائی کرے گا‘: اِمثال 1–4؛ 15–16؛ 22؛ 31؛ واعظ 1–3؛ 11–12،“ آ، میرے پیچھے ہو لے—برائے گھر اور کلِیسیا: پُرانا عہد نامہ 2026 (2026)
”ستمبر 7–13۔ ’وہ تیری راہ نُمائی کرے گا،‘“ آ، میرے پیچھے ہو لے: پُرانا عہد نامہ 2026
یِسُوع بچّوں کے ساتھ، اَز ڈیلین مارش
ستمبر 7–13: ”وہ تیری راہ نُمائی کرے گا“
اِمثال 1–4؛ 15–16؛ 22؛ 31؛ واعظ 1–3؛ 11–12
اِمثال کو محبّت کرنے والے والدین کی طرف سے حِکمت بھری مشورت سمجھ سکتے ہیں (دیکھیے اِمثال 1:8)۔ اِس کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اگر آپ حِکمت تلاش کرتے ہیں—خاص طور پر خُدا کی حِکمت—تو زِندگی خُوش گوار گُزرے گی۔ اِمثال کی کِتاب کے بعد واعظ کی کِتاب آتی ہے، جو گویا یہ کہہ رہی ہو، ”یہ اِتنا سادہ نہیں ہے۔“ واعظ کی کِتاب میں جس مُناد کا ذِکر کِیا گیا ہے، وہ اِس بات کا مُشاہدہ کرتے ہیں کہ اُنھوں نے حِکمت کے جاننے پر دِل لگایا مگر پھر بھی ”ہوا کی چران“ اور ”بُہت غم“ پایا (واعظ 1:17–18)۔ واعظ کی کِتاب مُختلف طریقوں سے یہ سوال اُٹھاتی ہے، ”کیا ایسی دُنیا میں جہاں سب کُچھ بے سُود، عارضی اور غیر یقینی لگتا ہے، حقیقت میں کوئی معانی ہو سکتا ہے؟“
اور پھر بھی، اگرچہ دونوں کِتابیں زِندگی کو مُختلف نُقطہِ نظر سے دیکھتی ہیں، مگر وہ مِلتی جُلتی سچّائیاں سِکھاتی ہیں۔ واعظ کی کِتاب اِعلان کرتی ہے: ”اَب سب کُچھ سُنایا گیا حاصلِ کلام یہ ہے: خُدا سے ڈرو، اور اُس کے حُکموں کو مان: کہ اِنسان کا فرضِ کُلی یہی ہے“ (واعظ 12:13)۔ پُوری اِمثال کی کِتاب میں ہر جگہ یہی اُصُول پایا جاتا ہے: ”سارے دِل سے خُداوند پر توّکل کر“ (اِمثال 3:5؛ مزید دیکھیے آیت 7)۔ زِندگی ہمیشہ بہتر ہوتی ہے—اگر ہمیشہ کامِل نہ بھی ہو—جب ہم خُداوند یِسُوع مسِیح پر توّکل کرتے اور اُس کی پیروی کرتے ہیں۔
اِن کِتابوں کا جائزہ لینے کے لیے، دیکھیے لُغتِ بائبل میں ”اِمثال، کی کِتاب“ اور ”واعظ کی کِتاب“۔
گھر اور کلِیسیا میں سیکھنے کے لیے تجاویز
اِمثال 1–4؛ 15–16؛ واعظ 1–3؛ 11–12
”حِکمت کی طرف کان لگائیں۔“
اِمثال اور واعظ کی کِتابیں حِکمت کے بارے میں بصیرت سے بھری ہُوئی ہیں۔ لفظ ”حِکمت“ اور مُتعلقہ الفاظ پر نِشان لگانے پر غور کریں، جیسے کہ ”عِلم“ اور ”فہم،“ جنھیں آپ اِنھیں اِمثال 1–4؛ 15–16؛ واعظ 1–3؛ 11–12 میں پاتے ہیں۔ یہ ابواب حِکمت کے بارے میں آپ کے سوچنے کے انداز کو کیسے مُتاثر کرتے ہیں؟ آپ نے جو تلاش کِیا اُس کی بُنیاد پر، آپ اُس حِکمت کو کیسے بیان کریں گے جو ”خُداوند دیتا ہے“؟ (اِمثال 2:6)۔ خُدا کی حِکمت سے کون سی برکات حاصِل ہوتی ہیں؟
مزید دیکھیے متّی 7:24–27؛ 25:1–13۔
مُتعلمین کو جو کُچھ وہ سیکھ رہے ہیں بیان کرنے میں مدد دیں۔ ”مُتعلمین کو ایک دُوسرے کے ساتھ بیان کرنے کے مواقع دیں جو وہ نجات دہندہ اور اُس کی اِنجِیل کے مُتعلق سیکھ رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے اُنھیں اِن سچّائیوں کو باطنی بنانے اور اِن کا اِظہار کرنے میں مدد مِلے گی۔ اِس سے اُنھیں دیگر صُورتوں میں سچّائی کا اِظہار کرنے کی صلاحیت پر پُراعتماد ہونے میں بھی مدد مِلے گی“ (نجات دہندہ کے طریق پر تعلیم دینا، 26)۔ مِثال کے طور پر، آپ مُتعلمین کو دعوت دے سکتے ہیں کہ وہ اِمثال کی کِتاب یا واعظ کی کِتاب سے کُچھ حوالہ جات لِکھیں جہاں اُنھوں نے خُدا کی حِکمت کی بابت بصیرت پائی ہو۔ پھر مُتعلمین کو دعوت دیں کہ وہ جو کُچھ سیکھتے ہیں اُس کے بارے میں بات کریں۔
اِمثال 1:7؛ 2:5؛ 3:7؛ 15:33؛ 16:6؛ 31:30؛ واعظ 12:13
”تُو اپنی ہی نِگاہ میں دانِش مند نہ بن: خُداوند سے ڈر۔“
اِمثال اور واعظ کی کِتاب میں ایک اور موضُوع جو بار بار مِلتا ہے وہ ”خُداوند کا خوف“ ہے۔ جب آپ پڑھتے ہیں تو اِس فِقرے کو دیکھیں۔ آپ کیا محسُوس کرتے ہیں کہ خُداوند سے ڈرنے سے کیا مُراد ہے؟ ایلڈر ڈیوڈ اے بیڈنار کے پیغام میں بصیرتیں تلاش کریں ”پس اُنھوں نے اپنے خوف کو دُور کِیا“ (لیحونا، مئی 2015، 46–49)۔ خُداوند کا خوف دیگر قِسم کے خوف سے کیسے مُختلف ہے؟
مزید دیکھیے اِمثال 8:13۔
اِمثال 3:5–7، 4
”سارے دِل سے خُداوند پر توّکل کر۔“
آپ کسی کو یہ قائل کرنے کی کوشِش کیسے کریں گے کہ ”خُداوند پر توّکل کرنا“ ”[اپنے] فہم پر … تکیہ کرنے“ سے بہتر ہے؟ (اِمثال 3:5)۔ آپ کون سے موازنے یا عملی اَسباق اِستعمال کریں گے؟ جب آپ اِمثال 3:5–7 پر غور کرتے ہیں، تو اِن جُملوں کو مُکمل کرنے کے طریقے سوچیں: خُداوند پر توّکل کرنا ایسا ہے جیسے … اپنے فہم پر تکیہ کرنا ایسا ہے جیسے …
اپنے فہم پر تکیہ کرنا کیوں غیر دانش مندانہ ہے؟ آپ نے کیسے دریافت کِیا ہے کہ خُداوند قابلِ بھروسا ہے؟
پھر بھی، بعض اوقات خُداوند پر بھروسا کرنا ہمارے لیے مُشکل ہو سکتا ہے۔ اَیسا کیوں ہے؟ ایلڈر گیرٹ ڈبلیو گانگ ”دوبارہ بھروسا کریں“ میں کُچھ وجوہات بیان کرتے ہیں، اور اِس کے ساتھ مُفید مشورت بھی دیتے ہیں (لیحونا، نومبر 2021، 97–99)۔ آپ کو اِس پیغام میں کون سی کہانیاں یا تعلیمات مِلتی ہیں جو کسی کی خُداوند پر توّکل بحال کرنے میں مُفید ہو سکتی ہیں؟
دونوں اِمثال 3:6 اور اِمثال 4 زِندگی کا موازنہ ”راہ“ یا ”راستے“ سے کرتے ہیں۔ آپ کے خیال میں ”[اپنی] راہوں کی راہ نُمائی خُداوند کو دینے“ سے کیا مُراد ہے؟ (اِمثال 3:6)۔ اِمثال کے باب 4 میں آپ کو کون سی باتیں مِلتی ہیں جو آپ کو ”اپنے پاؤں کے راستے کو ہموار بنانے“ میں مدد دیتی ہیں؟ (آیت 26)۔ مِثال کے طور پر، آیات 11–12 اور 18–19 صحیح راہ پر چلنے کی برکات کے بارے میں کیا سِکھاتی ہیں؟ آیات 26–27 آپ کے لیے کیا معانی رکھتی ہیں؟
مزید دیکھیے 2 نِیفی 31:18–31؛ ”خُداوند، مَیں تیری پیروی کرُوں گا،“ گیت، نمبر 220۔
اِمثال 15؛ 16:24–32
”نرم جواب قہر کو دُور کر دیتا ہے۔“
اِمثال 15–16 میں سے چند تجاویز آپ کو دُوسروں، خاص طور پر اپنے پیاروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے طریقے کو بہتر بنانے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔ مِثال کے طور پر، مخصُوص اوقات کے بارے میں سوچیں جب ”نرم جواب“ نے ”قہر کو دُور [کرنے]“ میں مدد دی (اِمثال 15:1)۔
آپ ایسے اوقات کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں جب نجات دہندہ نے اِمثال 15:1–4، 18 میں دی گئی تعلیمات کی مِثال پیش کی (دیکھیے مرقس 12:13–17؛ یُوحنّا 8:1–11)۔ دُوسرے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہُوئے آپ اُس کے نمونہ کی پیروی کیسے کر سکتے ہیں؟
امثال 15؛ 16:24–32 کی مشورت آج کے ڈیجیٹل مواصلات پر کس طرح لاگُو ہو سکتی ہے؟ کیا آپ اِن ابواب میں کوئی آیت تلاش کر سکتے ہیں جسے آپ سوشل میڈیا یا ٹیکسٹ کے ذریعے بات چیت کے بارے میں نصیحت کے طور پر دوبارہ بیان کر سکیں؟
مزید دیکھیے نیل ایل اینڈرسن، ”یِسُوع کی تقلید کرنا: بطور صُلح جو،“ لیحونا، مئی 2022، 17–20؛ رونلڈ اے ریس بینڈ، ”اَلفاظ اَہم ہوتے ہیں،“ لیحونا، مئی 2024، 70–77؛ برائے مضبُوطیِ نوجوانان: فیصلہ سازی کے لیے ہدایت نامہ (2022)، 11–12۔
نیکوکار عورت کس کو مِلتی ہے؟ II، اَز لوئیس پارکر
اِمثال 31:10–31
”وہ عورت جو خُداوند سے ڈرتی ہے، سِتُودہ ہو گی۔“
اِمثال 31:10–31 میں ”نیکوکار عورت،“ یا عظیم رُوحانی قُوت، صلاحیت اور اثر و رُسُوخ کی حامِل خاتون کو بیان کِیا گیا ہے۔ آپ اپنے الفاظ میں یہ خُلاصہ کرنے کی کوشِش کر سکتے ہیں کہ یہ آیات نیکوکار عورتوں کے بارے میں کیا کہتی ہیں۔ آپ اِن میں سے کون سی خصُوصیات اپنا سکتے ہیں؟
واعظ 1–3؛ 12
فانی زِندگی عارضی ہے۔
آپ کے لیے یہ یاد رکھنا کیوں قابلِ قدر ہے کہ اِس دُنیا میں، جیسا کہ واعظ 1–2 کہتا ہے کہ ”باطل“ (یا عارضی اور اکثر غیر اہم) ہیں؟ آپ کو واعظ 12 میں ایسا کیا مِلتا ہے جو زِندگی کو اَبَدی قدر دیتا ہے؟
مزید تجاویز کے لیے، اِس ماہ کے لیحونا اور برائے مضبُوطیِ نوجوانان رسالوں کے شُمارے دیکھیں۔
بچّوں کو سِکھانے کے لیے تجاویز
اِمثال 1:7؛ 2:5؛ 15:33؛ 16:6؛ واعظ 12:13
”خُدا سے ڈرنے“ کا مطلب ہے کہ اُس سے محبّت کرنا اور اُس کے حُکموں کو ماننا۔
-
اپنے بچّوں کو خُدا سے ڈرنے کے بارے میں آیات کو سمجھانے کے لیے، آپ ”ڈر“ کے لفظ کو احترام، محبّت، یا فرماں برداری جیسے الفاظ سے بدل سکتے ہیں (دیکھیے عبرانیوں 12:28)۔ یہ اِن آیات کو سمجھنے کے طریقے پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟ ہم کیسے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم خُداوند سے ڈرتے ہیں؟
اِمثال 3:5–7
مَیں اپنے پُورے دِل سے خُداوند پر بھروسا کر سکتا ہُوں۔
-
آپ اور آپ کے بچّے اِمثال 3:5–7 کے ساتھ جانے کے لیے اِقدامات کر سکتے ہیں، جیسے اپنے ہاتھوں سے دِل بنانا، ایک طرف جھُکنا، اپنی جگہ پر چلنا، اور اپنی آنکھوں کی طرف اِشارہ کرنا۔ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم اپنے سارے دِل سے یِسُوع مسِیح پر توّکل کرتے ہیں؟
-
”اپنے فہم پر تکیہ نہ کرنے“ (اِمثال 3:5) کا مطلب ظاہر کرنے کے لیے، آپ اپنے بچّوں کو کسی مضبُوط اور مُستحکم چیز جیسے دیوار کے ساتھ ٹیک لگانے کے لیے مدعُو کر سکتے ہیں۔ پھر وہ کسی غیر مُستحکم چیز، جیسے جھاڑُو کے ساتھ ٹیک لگا کر دیکھ سکتے ہیں۔ یا وہ کسی لکڑی یا پنسل کو مُختلف مضبُوط چیزوں جیسے کِتاب یا کاغذ کے ساتھ ٹیک لگانے کی کوشِش کر سکتے ہیں۔ یہ کیوں اہم ہے کہ ہم ”خُداوند پر توّکل کریں“ (آیت 5) اور اپنے ”فہم“ پر تکیہ نہ کریں؟
خُداوند پر توّکل کرنا سیکھنا، اَز کیتھلین پیٹرسن
اِمثال 15:1، 18
مَیں شفیق الفاظ اِستعمال کر سکتا ہُوں۔
-
شاید آپ اور آپ کی اولاد ایسے حالات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جب آپ یا وہ غُصہ محسُوس کر رہے تھے۔ اِمثال 15:1 کو ایک ساتھ پڑھیں اور اپنے بچّوں کی مدد کریں کہ وہ اِس آیت کو اُن حالات پر لاگُو کریں جن کے بارے میں اُنھوں نے سوچا۔ شاید وہ چند ایک ”نرم جوابات“ کی مشق کر سکتے ہیں۔ شفقت کے بارے میں گیت، جیسا کہ ”یہاں محبّت بولی جاتی ہے“ (بچّوں کے گیتوں کی کِتاب، 190–91)، اِس اُصُول کو تقویت دے سکتا ہے۔
-
یہ جاننے کے لیے کہ ”قہر میں دھیما ہونے“ سے کیا مُراد ہے (اِمثال 15:18)، آپ اور آپ کے بچّے ایسے اوقات بتا سکتے ہیں جب آپ (یا کسی جاننے والے) نے غُصہ محسُوس کِیا لیکن مہربان ہونے کا اِنتخاب کِیا۔ اپنے بچّوں کی اُن چیزوں کے بارے میں سوچنے میں مدد کریں جن میں ہم ”قہر کرنے میں دھیما“ ہونے میں جلدی کر سکتے ہیں۔ مِثال کے طور پر، ہم جلدی سے یِسُوع کی بابت سوچ سکتے ہیں، آسمانی باپ سے مدد مانگ سکتے ہیں، کسی پرائمری گیت کے مُتعلق سوچ سکتے ہیں، یا، اگر مُمکن ہو، تو وہاں سے چلے جا سکتے ہیں۔
مزید تجاویز کے لیے، اِس ماہ کے فرینڈ رسالے کا شُمارہ دیکھیں۔