آ، میرے پِیچھے ہولے ۲۰۲۴
ذہن میں رکھنے کے لیے خیالات: اَنبِیا اور نبُوت


”ذہن میں رکھنے کے لیے خیالات: اَنبِیا اور نبُوت،“ آ، میرے پیچھے ہو لے—برائے گھر اور کلِیسیا: پُرانا عہد نامہ 2026 (2026)

”اَنبِیا اور نبُوت،“ آ، میرے پیچھے ہو لے: پُرانا عہد نامہ 2026

خیالات کی علامت

ذہن میں رکھنے کے لیے خیالات

اَنبِیا اور نبُوت

پُرانے عہد نامے کی روایتی مسِیحی تقسیم میں، آخِری حِصّہ (یسعیاہ سے ملاکی) کو اَنبِیا کہا جاتا ہے۔ یہ حِصّہ، پُرانے عہد نامے کے تقریباً ایک چوتھائی حِصّہ میں، خُدا کے مجاز خادموں کے کلام پر مُشتمل ہے، جنھوں نے خُداوند سے کلام کِیا اور پھر اُس کے لیے کلام کِیا، لگ بھگ 900 سے 500 قبل اَز مسِیح کے درمیان لوگوں کے ساتھ اُس کا پیغام بانٹتے ہُوئے۔

نبی خُدا کی مرضی کو بیان کرتے ہیں

نبی اور نبُوت پُرانے عہد نامے میں اَہم کِردار اَدا کرتے ہیں۔ ابرہام، اِضحاق، اور یعقُوب نے رویا دیکھی اور آسمانی پیام بروں سے کلام کِیا۔ مُوسیٰ نے خُدا سے رُوبرُو بات کی اور بنی اِسرائیل سے اُس کی مرضی کا اِظہار کِیا۔ سلاطین کی پہلی اور دُوسری کِتابیں ایلیاہ اور الیشع نبی کے یادگار کاموں اور پیغامات کو بیان کرتی ہیں۔ پُرانے عہد نامے میں مریم اور دبُورہ جیسی نبیہ کی بابت بھی بات کی گئی ہے دیگر خواتین کے ہمراہ جنھیں نبُوت کی رُوح سے نوازا گیا، جیسا کہ رِبقہ اور حنّہ۔ اور اگرچہ زبُور باضابطہ نبیوں کی تحریر نہیں تھے، مگر وہ بھی نبُوت کی رُوح سے معمُور ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب وہ ممسُوح کی آمد کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔

اِس میں سے کُچھ بھی کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے اَرکان کے لیے حیران کُن نہیں ہے۔ دَرحقیقت، یِسُوع مسِیح کی بحال شُدہ اِنجِیل ہمیں سِکھاتی ہے کہ اَنبیا نہ صِرف دِل چسپ تاریخی شخصیات ہیں بلکہ خُدا کے منصُوبے کا اَہم حِصّہ ہیں۔ اگرچہ بعض لوگ نبیوں کو صرف پُرانے عہد نامے کے زمانے کے لیے خاص سمجھ سکتے ہیں، مگر ہم اِنھیں پُرانے عہد نامے کے زمانے کے ساتھ اپنی مُشترکہ نعمت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

لیکن یسعیاہ یا حِزقی ایل کا کوئی ایک باب پڑھنا کلِیسیا کے موجُودہ صدر کی طرف سے مجلسِ عامہ کے پیغام کو پڑھنے سے مُختلف محسُوس ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھار یہ سمجھنا مُشکل ہوتا ہے کہ قدیم نبیوں کے پاس ہمارے واسطے بھی کُچھ کہنے کو تھا۔ بہرحال، جس دُنیا میں ہم رہتے ہیں وہ اُس دُنیا سے بالکل مُختلف تھی جہاں اُنھوں نے مُنادی اور نبُوت کی تھی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس زندہ نبی موجُود ہے جو سوال پیدا کر سکتا ہے: کوشِش کی قدر و قِیمت کیوں ہے—اور قدیم نبیوں کے کلام کو پڑھنے کے لیے—کوشِش درکار ہوتی ہے؟

ایک قدیم نبی تحریر کرتے ہوئے

معمُوری کا وقت، اَز گریگ اولسن

قدیم اَنبِیا کے پاس ہم سے کہنے کے لیے کُچھ ہے

زیادہ تر، آج کے لوگ پُرانے عہد نامے کے نبیوں کے بُنیادی سامعین نہیں ہیں۔ وہ نبی اپنے وقت اور مقام کے فوری مسائل پر بات کرتے تھے—بالکل اُسی طرح جیسے ہمارے آخِری ایّام کے نبی آج ہمارے فوری مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں۔

اِسی کے ساتھ، اَنبیا فوری خدشات سے بھی پرے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ کسی بھی وقت اور مقام سے مُتعلق، اَبَدی سچّائیوں کی تعلیم دیتے ہیں۔ مُکاشفے کی برکت سے، وہ کارِ خُدا کا وسیع تر تناظر دیکھتے ہیں۔ مِثال کے طور پر، یسعیاہ نے اپنے زمانے میں لوگوں کو اُن کے گُناہوں کے بارے میں خبردار کِیا۔ اُس نے اُن بنی اِسرائیلیوں کی رہائی کے بارے میں بھی لِکھا جو 200 سال بعد کے زمانے میں زِندہ ہوں گے۔ اِس کے ساتھ ساتھ، اُس نے رہائی کے بارے میں سِکھایا جو خُدا کے تمام لوگ تلاش کرتے ہیں۔ اور اُس نے ایسی نبُوتیں بھی لِکھیں جو کہ، آج بھی، پُوری ہونے کی مُنتظر ہیں—جیسے کہ ”نئی زمین“ (یسعیاہ 65:‏17) کا وعدہ جو کہ ”خُداوند کے عِرفان معمُور“ ہو گی (یسعیاہ 11:‏9)، جہاں اِسرائیل کے پراگندہ قبیلے جمع کِیے جائیں گے اور جہاں ”اُمتیں“ ”پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گی“ (یسعیاہ 2:‏4)۔ پُرانے عہد نامے کے نبیوں جیسے کہ یسعیاہ کے کلام کو پڑھنے سے جو خُوشی اور حوصلہ مِلتا ہے، اِس کا ایک حِصّہ یہ سمجھنا ہے کہ ہم اِس عظیم زمانے میں اپنا کِردار اَدا کرتے ہیں جس کی رویا اُنھوں نے دیکھی تھی۔

لہٰذا جب آپ قدیم نبُوتوں کو پڑھتے ہیں، تو اِن کے سیاق و سباق کے مُتعلق جاننا مدد گار ہو سکتا ہے جس میں وہ لِکھی گئی تھیں—لیکن آپ کو خُود کو اِن میں بھی دیکھنا چاہیے، یا ”اِسے [اپنے] آپ پر لاگُو کریں“ (1 نِیفی 19:‏24؛ مزید دیکھیے آیت 23)۔ کبھی کبھی اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بابُل کو صِرف ایک قدیم شہر کے طور پر نہیں، بلکہ گُناہ اور تکبر کے نِشان کے طور پر پہچانا جائے۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بنی اِسرائیل کو کسی بھی وقت اور مقام میں خدا کی اُمّت کے طور پر سمجھا جائے۔ یا اِس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ صیون کو ایّامِ آخِر کے لیے دیکھنا جس کو خُدا کے لوگ قبُول کرتے ہیں، بجائے اِس کے کہ وہ اِسے یروشلیم کے لیے محض ایک اور کلام کے طور پر دیکھیں۔

ہم صحائف کا موازنہ اپنی زِندگیوں سے کر سکتے ہیں کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ نبُوت مُتعدد طریقوں سے پُوری ہو سکتی ہے۔ ایک اچھی مِثال یسعیاہ 40:‏3 میں کی گئی نبُوت ہے: ”پُکارنے والے کی آواز بیابان میں، خُداوند کی راہ دُرست کرو۔“ بابُل میں قید یہُودیوں کے لیے، یہ بیان شاید اِس بات کی طرف اِشارہ کرتا تھا کہ خُداوند قید سے آزادی اور یروشلیم واپس جانے کی راہ فراہم کرے گا۔ متّی، مرقس، اور لُوقا کے لیے، یہ نبُوت یُوحنّا بپتِسما دینے والے کی طرف اِشارہ کرتی تھی، جنھوں نے نجات دہندہ کی فانی خِدمت کے لیے راستا تیار کِیا۔ اور جوزف سمِتھ نے مُکاشفہ پایا کہ یہ نبُوت آج بھی مسِیح کی ہزار سالہ خِدمت کی تیاری میں پُوری ہو رہی ہے۔ ایسے طریقوں سے جنھیں ہم ابھی تک پُوری طرح سمجھنے کی کوشِش کر رہے ہیں، کہ قدیم نبی واقعی ہم سے مُخاطب تھے۔ اور اُنھوں نے بُہت سی بیش قیمت اور اَبَدی سچّائیاں سِکھائیں جو ہمارے واسطے اُتنی ہی اہم ہیں جتنی قدیم اِسرائیل کے لیے تھیں۔

قدیم اَنبِیا نے یِسُوع مسِیح کی گواہی دی

شاید پُرانے عہد نامے کی نبُوتوں میں اپنے آپ کو دیکھنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اِن میں یِسُوع مسِیح کو دیکھا جائے۔ اگر آپ اُسے ڈھُونڈیں گے، تو آپ اُسے ضرُور پائیں گے، چاہے اُس کا نام واضح طور پر ذِکر نہ کِیا گیا ہو۔ اِس بات کو ذہن میں رکھنا مددگار ہو سکتا ہے کہ پُرانے عہد نامےکا خُدا، یہوواہ خُداوند، یِسُوع مسِیح ہے۔ جب بھی نبی یہ بیان کرتے ہیں کہ خُداوند کیا کر رہا ہے یا کیا کرے گا، تو وہ مُنّجی کی بابت بات کر رہے ہوتے ہیں۔

جی اُٹھا یِسُوع ایک شخص کی طرف بڑھتا ہے

خُداوند ابرہام پر ظاہر ہوتا ہے، اَز کِیتھ لارسن

آپ کو ایک ممسُوح، مُخلصی دینے والے، اور داؤد کی نسل سے مُستقبل کے بادشاہ کے حوالہ جات بھی مِلیں گے۔ یہ سب یِسُوع مسِیح کی بابت نبُوتیں ہیں۔ عام طور پر، آپ رہائی، مُعافی، مُخلصی، اور بحالی کے بارے میں پڑھیں گے۔ جب آپ کے دِل و دماغ میں نجات دہندہ ہو، تو یہ پیشن گوئیاں قُدرتی طور پر آپ کو خُدا کے بیٹے کی طرف مبذُول کریں گی۔ آخِرکار، نبُوت کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ”نبُوت کی رُوح“ پائیں، جو یُوحنّا ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ”یِسُوع کی گواہی“ ہے (مُکاشفہ 19:‏10

حوالہ جات

  1. یسعیاہ، یرمیاہ، حِزقی ایل، اور دانی ایل کو اکثر اِن کی کِتابوں کی طوالت کی وجہ سے بڑے نبی کہا جاتا ہے۔ دُوسرے اَنبیا (ہوسیع، یوایل، عامُوس، عبدیاہ، یُوناہ، مِیکاہ، ناحُوم، حبقُوق، صفنیاہ، حجی، زکریاہ، اور ملاکی) کو چھوٹے نبی کہا جاتا ہے کیوں کہ اِن کی کِتابیں بُہت چھوٹی ہیں۔ نوحہ کی کِتاب کو نبیوں کی کِتابوں میں شامِل نہیں کِیا جاتا، بلکہ یہ تحریروں کا حِصّہ سمجھی جاتی ہے۔

  2. ہم نہیں جانتے کہ نبُوتی کِتابیں کیسے مُرتب کی گئی ہیں۔ کُچھ حالات میں، ایک نبی نے اپنی تحریروں اور نبُوتوں کے مجمُوعے کو مُرتب کرنے کی نِگرانی کی ہو گی۔ دیگر حالات میں، اُس کی تعلیمات کو اُس کی وفات کے بعد قلم بند اور مُرتب کِیا گیا ہو گا۔

  3. دیکھیے خروج 15:‏20؛ قضاۃ 4۔

  4. دیکھیے پیدایش 25:‏21–23؛ 1 سموئیل 1:‏20–28؛ 2:‏1–10۔

  5. ”صرف اِس سب کی عُجلت اور جُوش و خروش کے بارے سوچیں: آدم سے اِبتدا کرتے ہُوئے ہر نبی نے ہمارے زمانے کو دیکھا ہے۔ اور ہر نبی نے ہمارے زمانہ کے بارے بات کی ہے، جب اِسرائیل کو اِکٹھا کِیا جائے گا اور دُنیا مُنّجی کی آمدِ ثانی کے لیے تیار کی جائے گی۔ اِس کے بارے میں سوچیں! تمام لوگوں میں سے جو کبھی بھی سیارہ زمین پر آباد رہے ہیں، ہم اُن میں سے ہیں جو اِس حتمی، عظیم اِجتماع میں شامِل ہیں۔ یہ کِتنا دِل چسپ ہے! (رِسل ایم نیلسن، ”اِسرائِیل کی آس“ (عالم گیر عِبادت برائے نوجوانان، 3 جُون، 2018)، گاسپل لائبریری)۔ مزید دیکھیے رونلڈ اے ریس بینڈ، ”نُبُوّت کی تکمِیل،“ لیحونا، مئی 2020، 75–78۔

  6. نجات دہندہ، نے یسعیاہ کی بابت بات کرتے ہُوئے فرمایا، ”سب باتیں جو اُس نے کہی ہیں اور ہوں گی، حتیٰ کہ اُس کلام کے مُطابق جو اُس نے کِیا ہے“ (3 نِیفی 23:‏3؛ تاکید شامِل کی گئی ہے)۔

  7. دیکھیے متّی 3:‏1–3؛ مرقس 1:‏2–4؛ لُوقا 3:‏2–6۔

  8. دیکھیے عقائد اور عہُود 33:‏10؛ 65:‏3؛ 88:‏66۔

  9. دیکھیے یسعیاہ 9:‏6–7؛ 61:‏1؛ ہوسیع 13:‏14؛ زکریاہ 9:‏9۔