”ذہن نشین کرنے والی باتیں: ’یِسُوع تمام اسرائیل سے کہے گا، ”گھر آؤ،‘““ آ، میرے پیچھے ہو لے—برائے گھر اور کلِیسیا: پُرانا عہد نامہ 2026 (2026)
”ذہن نشین کرنے والی باتیں: ’یِسُوع تمام اسرائیل سے کہے گا، ”گھر آؤ،‘““ آ، میرے پیچھے ہو لے: پُرانا عہد نامہ 2026
ذہن نشین کرنے والی باتیں
”یِسُوع تمام اسرائیل سے کہے گا، ’گھر آؤ‘“
صحرائےِ سینا میں، موسیٰ نے بنی اسرائیل کو پہاڑ کے دامن میں اکٹھا کِیا۔ وہاں خُداوند نے اعلان کِیا کہ وہ حال ہی میں آزاد ہُوئے غلاموں کے اِس گروہ کو قوی لوگوں میں بدلنا چاہتا ہے۔ ” تُم میرے لیے،“ اُس نے فرمایا، ”کاہنوں کی ایک مُملکت، اور ایک مُقدّس قوم ہو گے“ (خروج 19:6)۔ اُس نے وعدہ کِیا کہ وہ پھلے پھولیں گے اور خُوشحال ہوں گے، حتیٰ کہ جب بڑے، زیادہ طاقتور دُشمنوں سے گھِرے ہُوئے ہوں گے۔
یہ سب اِس لیے نہیں ہو گا کیونکہ اسرائیلی بے شمار یا مضبُوط یا ہُنر مند تھے۔ ایسا ہو گا، خُداوند نے وضاحت کی، اگر وہ”[اُس] کی بات مانیں،اور [اُس] کے عہد پر چلیں“ (خروج 19:5)۔ خُدا کی قُدرت، اُنھیں قوی بنائے گی، اُن کی اپنی نہیں۔
پھر بھی اسرائیلیوں نے ہمیشہ خُدا کی آواز کو نہ مانا، اور وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے اُس کے عہد پر قائم رہنا ترک کر دیا۔ بُہت سوں نے دُوسرے دیوتاؤں کی پُوجا کی اور اپنے اِرد گِرد کے ثقافتی اطوار کو اپنا لیا۔ اُنھوں نے اُسی چیز کو رد کِیا جس نے اُنھیں ایک منفرد قوم بنایا—خُداوند کے ساتھ اُن کا تعلقِ عہد۔ اُن کے خُدا کی قُدرت سے تحفط پائے بغیر، اُن کے دشمنوں کو کُچھ بھی نہیں روک سکتا تھا۔
پراگندگی
تقریبا 735 سے 720 ق م کے درمیان، اسوری کئی مرتبہ اسرائیل کی شمالی بادشاہت، دس قبیلوں کےگڑھ پرحملہ آور ہُوئے، اور ہزاروں اسرائیلیوں کو اسوری سلطنت کے مُختلف حِصّوں میں قیدی بنا کر لے گئے۔ یہ اسرائیلی ”کھوئے ہُوئے قبیلے“ کے نام سے مشہور ہُوئے، جزوی طور پر اِس لیے کیوں کہ اُنھیں اُن کے آبائی وطن سے نکال کر دُوسری قوموں کے درمیان پراگندہ کر دیا گیا تھا۔ مگر وہ مزید گہرے معنوں میں بھی کھو گئے تھے: وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے بحثیتِ خُدا کے موعودہ لوگ اپنی شناخت کھو دی تھی۔
آخرکار یہوداہ کی جنوبی بادشاہت میں سے بھی بُہت سے لوگ خُداوند سے دُور ہو گئے تھے۔ اسُوریوں نے حملہ کِیا اور اُس کی زیادہ تر بادشاہت پر فتح پا لی تھی؛ ماسواے یروشلیم کے معجزانہ تحفظ کے علاوہ۔ بعد ازاں، 597 اور 580 ق م کے درمیان میں، بابلیوں نے بشمُول ہَیکَل، یروشلیم کو تباہ کر دیا، اور بُہت سے لوگوں کو اسیر کر لیا۔ تقریباً 70 برس بعد، یہوداہ کے بقیہ کو یروشلیم واپس جانے اور ہَیکَل کی تعمیر نو کی اجازت دی گئی۔ تاہم، بُہت سے، بابل ہی میں مُقیم رہے۔
نبوکدنضریوں سے یروشلیم کی تباہی، از ولیم براسی ہول، © Providence Collection/licensed from goodsalt.com
جیسے جیسے وقت گُزرا، تمام قبیلوں سے اسرائیلی ”اُن سب قُوموں میں جن سے ناواقف ہیں … پراگندہ“ ہُوئے (زکریاہ 7:14)۔ کُچھ کو خُداوند دُوسری سرزمینوں کی طرف لے گیا۔ دیگر اسیری سے بچنے یا سیاسی یا معاشی وجوہات کی بِنا پر بھاگ گئے۔
ہم اُن تمام واقعات کو اسرائیل کی پراگندگی کا نام دیتے ہیں۔ اور کئی وجوہات کی بنا پر پراگندگی کے متعلق جاننا ضروری ہے۔ ایک بات کے لیے، یہ پُرانے عہد نامہ کا ایک اہم موضوع ہے—پُرانے عہد نامہ کے بُہت سے نبی رُوحانی پستی کے گواہ تھے جو اِس پراگندگی کا موجب تھی۔ اُنھوں نے اِسے پیشگی دیکھا اور اِس کے بارے میں خبردار کِیا۔ حتیٰ کہ اُن میں سے کُچھ اِس عرصہ کے دوران میں جیے بھی۔ جب آپ پُرانے عہد نامہ کے آخری حِصّہ میں یسعیاہ، یرمیاہ، عاموس، اور دیگر انبیا کی کتابیں پڑھتے ہیں یہ یاد رکھنا مددگار ہے۔ اِس سیاق و سباق کو ذہن میں رکھتے ہُوئے، جب آپ اسوریہ اور بابل، کی بُت پرستی اور اسیری، تباہی اور بالآخر بحالی کے بارے میں اُن کی نبوتوں کو پڑھتے ہیں، آپ جانیں گے کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے پراگندہ ہونے کا فہم آپ کو مورمن کی کِتاب کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گا، کیوں کہ مورمن کی کِتاب اسرائیل کی پراگندہ شاخ کی رُوداد ہے۔ اِس سرگذشت کا آغاز تقریباً 600 ق م میں بابلیوں کے حملہ آور ہونے سےذرا پہلے، یروشلیم سے لحی کے خاندان کے بھاگنے سے ہوتا ہے۔ لحی اِن انبیا میں سے ایک تھا جس نے اسرائیل کے پراگندہ ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔ اور اُس کے خاندان نے اُس نبوت، اسرائیل کی اپنی شاخ کو لینے اور اِسے دُنیا کی دُوسری جانب، امریکہ میں بونے کو پُورا کرنے میں مدد کی۔
اجتماع
تاہم، اسرائیل کا پراگندہ ہونا صرف نصف کہانی ہے۔ خُداوند اپنے لوگوں کو فراموش نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ اُنھیں ترک کرتا ہے، حتیٰ کہ جب اُنھوں نے اُسے ترک کر دیا ہو۔ بُہت سی نبوتیں کہ خُدا اسرائیل کو مُنتشر کرے گا بُہت سے وعدوں کے ہمراہ تھیں کہ وہ ایک روز اُنھیں اکٹھا کرے گا۔
وہ دن آج ہے—ہمارا زمانہ۔ اجتماع پہلے ہی شُروع ہو چُکا ہے۔ 1836 میں، موسیٰ کے بنی اسرائیل کو کوہِ سینا کے قدموں میں جمع کرنے کے ہزاروں برس بعد، وہ جوزف سمِتھ کو ”زمِین کے چاروں کونوں سے اِسرائیل کے جمع کرنے کی کُنجیاں“ سپرد کرنے کے لیے کرٹ لینڈ ہَیکَل میں ظاہر ہُوا (عقائد اور عہُود 110:11)۔ اب، اُن کنجیوں کے حامِل لوگوں کی ہدایت سے، اسرائیل کے قبیلے ہر اُس قوم سے اکٹھے ہو رہے ہیں جہاں خُداوند کے خادم جانے کے قابل ہیں۔
موسیٰ، الیاس، اور ایلیاہ کرٹ لینڈ ہیکل میں ظاہر ہوتے ہیں، از گیری ای سمِتھ
صدر رسل ایم نیلسن نے اِس اجتماع کو ”زمین پر رونُما ہونے والا اہم ترین کام کہا ہے۔ وسعت میں کُچھ بھی اِس کا مقابلہ نہیں کرتا، اہمیت میں کُچھ بھی اِس کا مقابلہ نہیں کرتا، عظمت میں کُچھ بھی اِس کا مقابلہ نہیں کرتا ہے۔ اگر آپ انتخاب کریں، اگر آپ چاہتے ہیں، تو آپ اِس کا بڑا حِصّہ ہو سکتے ہیں۔“
ہم کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ اسرائیل کو اکٹھا کرنے سے کیا مُراد ہے؟ کیا اِس سے مراد بارہ قبیلوں کو اُس سرزمین پر بحال کرنا ہے جہاں وہ کبھی آباد تھے؟ درحقیقت، اِس کے معنی نہایت عظیم الشان، بُہت زیادہ اَبَدی ہیں۔ جَیسے صدر نیلسن نے وضاحت کی ہے:
”جب ہم اکٹھا ہونے کی بات کرتے ہیں، ہم صرف یہ بُنیادی سچّائی بتا رہے ہیں: ہمارے آسمانی باپ کے بچّوں میں سے ہر کوئی، پردے کے دونوں اطراف، یِسُوع مسِیح کی بحال شُدّہ اِنجِیل کے پیغام کو سُننے کا حقدار ہے۔
”کسی بھی کام میں کسی بھی وقت جو کُچھ بھی—پردے کی کسی بھی جانب—خُدا کے ساتھ عہُود باندھنے اور قائم رکھنے اور بپتِسما اور ہَیکَل کی ضرُوری رُسُوم کو قبُول کرنے میں آپ مدد کرتے ہیں، تو آپ اِسرائیل کو اِکٹھا کرنے میں مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ اِنتہائی آسان ہے۔“
یہ واقع ہوتا ہے، جیسا کہ یسعیاہ نے کہا، ”ایک ایک کر کے“ (یسعیاہ 27:12) یا جیسا کہ یرمیاہ نے پیش گوئی کی، ”ہر ایک شہر میں سے ایک اور ہر ایک گھرانے میں سے دو“ (یرمیاہ 3:14)۔
اجتماعِ اسرائیل کا مطلب خُدا کے بچّوں کو اُس کے پاس واپس لانا ہے۔ اِس کا مطلب اُنھیں اُس کے ساتھ اُن کے تعلقِ عہد میں بحال کرنا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُس ”پاک قوم“ کو از سر نو قائم کرنا جو اُس نے بُہت پہلے قائم کرنے کی تجویز دی تھی (خروج 19:6)۔
گھر آؤ
جِس کسی نے خُدا کے ساتھ عہد باندھا ہے، آپ اسرائیل کے گھرانہ کا حِصّہ ہیں۔ آپ کو اکٹھا کِیا گیا ہے، اور آپ اکٹھا کرنے والے ہو۔ موعودہ لوگوں کی صدیوں طویل کہانی اپنے عروج کو پہنچ رہی ہے، اور آپ ایک اہم کھلاڑی ہیں۔ اب وہ وقت ہے جب ”یِسُوع تمام اسرائیل سے کہے گا، ’گھر آؤ۔‘“
یہ مجتمع کرنے والوں کا پیغام ہے: عہد کے لیے گھر آؤ۔ صیون کے گھر آؤ۔ یِسُوع مسِیح، اسرائیل کے قُدَّوس کے پاس گھر آؤ، اور وہ تُمھیں خُدا تُمھارے باپ، کے پاس گھر لے جائے گا۔