”پُرانے عہد نامے كا مُطالعہ كرتے ہُوئے: ذہن نشین کریں،“ آ، میرے پیچھے ہو لے—برائے گھر اور کلِیسیا:پُرانا عہد نامہ 2026(2026)
”پُرانے عہد نامے کا مُطالعہ کرتے ہُوئے،“ آ، میرے پیچھے ہو لے: 2026
ذہن نشین کریں
پُرانے عہد نامے کا مُطالعہ کرتے ہُوئے
جب نیفی اپنے بھائیوں کو خُداوند پر بھروسا کرنے کی ترغیب دینا چاہتا تھا، اُس نے موسیٰ اور یسعیاہ کی تعلیمات کے بارے میں کہانیاں بتائیں۔ جب پولس رسُول ابتدائی مسِیحیوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا تھا کہ وہ خُدا کے وعدوں پر ایمان لائیں، تو اُس نے اُنھیں نوح، ابراہام، سارہ، راحب، اور دیگر کے ایمان کے بارے میں یاد دِلایا۔ اور جب یِسُوع مسِیح نے یہودیوں کے راہ نماؤں کو کہا کہ وہ ”صحائف میں سے ڈھونڈیں،“ اُس بات کی وضاحت کرتے ہُوئے کہ وہ ”میری گواہی دیتے ہیں“ (یُوحنّا 5:39)، جِن صحائف کی وہ بات کر رہا تھا یہ وہ تحریریں ہیں جِسے ہم پُرانا عہد نامہ کہتے ہیں۔
دُوسرے لفظوں میں، جب آپ پُرانے عہد نامہ کو پڑھتے ہیں تو، آپ ایسے الفاظ پڑھ رہے ہوتے ہیں جنھوں نے واقعی ہزاروں سالوں سے خُدا کے لوگوں کو الہام بخشا، تسلی دی اور حوصلہ بخشا ہے۔
لیکن کُچھ ایسا جو بُہت پہلے لکھا گیا تھا کیا وہ واقعی آپ کو آج کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد کر سکتا ہے؟ جی ہاں، یہ کر سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر آپ کو یاد ہو کہ پُرانا عہد نامہ حقیقت میں کِس کے متعلق ہے۔
یِسُوع مسِیح کی بابت ایک عہد نامہ
آپ اور آپ کے خاندان کو جو بھی چنوتیاں درپیش ہوں، جواب ہمیشہ یِسُوع مسِیح ہے۔ لہٰذا پُرانے عہد نامے میں جوابات تلاش کرنے کے لیے، اُس کی تلاش کریں۔ یہ ہمیشہ آسان نہیں ہو گا۔ آپ کو صبر سے غور کرنے اور رُوحانی ہدایت کے خواہاں ہونے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بعض اوقات اُس کے حوالہ جات بالکل براہِ راست لگتے ہیں، جیسا کہ یسعیاہ کے فرمان میں ہے، ”ہمارے لِئے ایک لڑکا تولُّد ہُوا، ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا: … اور اُس کا نام … سلامتی کا شاہزادہ پُکارا جائے گا“ (یسعیاہ 9:6)۔ دُوسری جگہوں پر، نجات دہندہ کو علامتوں اور مماثلتوں کے ذریعے زیادہ باریک بینی سے دِکھایا گیا ہے—مثال کے طور پر، جانوروں کی قُربانیوں کے ذریعے سے یا جوزف کے اپنے بھائیوں کو مُعاف کرنے اور اُنھیں قحط سے بچّانے کے بیان کے ذریعے سے۔
دُنیا کا نُور، از سکاٹ سمنر
اگر آپ پُرانے عہد نامہ کا مُطالعہ کرتے ہُوئے نجات دہندہ پر زیادہ ایمان کے خواہاں ہوتے ہیں، تو آپ اِسے پائیں گے۔ شاید یہ اِس سال آپ کے مُطالعہ کا مقصد ہو سکتا ہے۔ دُعا کریں کہ رُوح آپ کو اُن حوالہ جات، کہانیوں، اور نبوتوں کو پانے اور اُن پر توجہ مرکوز کرنے میں راہ نُمائی کرے جو آپ کو یِسُوع مسِیح کے قریب لائیں گے۔
خُدا كی طرف سے محفُوظ
توقع نہ کریں کہ پُرانا عہد نامہ قدیم انسانیت کی مُکمل اور درست تاریخ پیش کرے گا۔ یہ وہ نہیں ہے جو اصل مُصنّفین اور مرتب کرنے والے تخلیق کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اُن کی سب سے بڑی فِکر تھی کہ خُدا کے بارے میں کُچھ سِکھائیں—اُس کے بچّوں کے لئے اُس کے منصُوبے کے بارے میں، اُس کے موعودہ لوگ ہونے کا کیا مطلب ہے، اور اُس بارے میں کہ جب ہم زوال پذیر ہوتے ہیں تو نجات کیسے حاصل کی جائے۔ بعض اوقات وہ تاریخی واقعات کو بیان کرتے تھے جِس طرح وہ سمجھتے تھے، جِس میں عظیم نبیوں کی زندگیوں کی کہانیاں بھی شامل تھیں۔ پیدایش اِس کی ایک مثال ہے، اور اِسی طرح یشوع، قضات، اور 1 اور 2 سلاطین کی کِتابیں بھی ہیں۔ لیکن پُرانے عہد نامے کے دُوسرے مصنفین کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ تاریخی ہوں۔ بجائے اِس کے، اُنھوں نے شاعری اور ادّب جیسے فن کے کاموں کے ذریعے تعلیم دی۔ زبور اور امثال اِس زمرے میں آتے ہیں۔ اور پھر انبیا کے انمول الفاظ ہیں، جیسا کہ یسعیاہ اور ملاکی، جنھوں نے خُدا کا کلام قدیم اسرائیل کو پُہنچایا—اور، بائبل کے معجزے کے ذریعے، آج بھی ہم سے کلام کرتے ہیں۔
کیا اِن تمام نبیوں، شاعروں، اور مصنفوں کو معلُوم تھا کہ اِن کے الفاظ ہزاروں سال بعد دُنیا بھر کے لوگ پڑھیں گے؟ ہم نہیں جانتے۔ لیکن ہم حیران ہیں کہ بالکل ایسا ہی ہُوا ہے۔ قومیں بڑھتی اور گرتی رہیں، شہر فتح ہُوئے، بادشاہ جِیے اور مرے، لیکن پُرانا عہد نامہ نسل در نسل، کاتب سے کاتب تک، ترجمہ سے ترجمہ تک چلتا رہا۔ یقیناً کُچھ چیزیں کھو گئی تھیں یا اِن میں تبدیلی کی گئی تھی، اور پھر بھی کسی نہ کسی طرح بُہت کُچھ معجزانہ طور پر محفُوظ کِیا گیا تھا۔
پُرانے عہد نامہ کا نبی، از جوڈتھ اے مہر (تفصیل)
اِس سال جب آپ پُرانے عہد نامہ کو پڑھیں تو یہ چند باتیں ذہن نشین کر لیں۔ خُدا نے اِن قدیم نوشتوں کو محفُوظ رکھا کیوں کہ وہ آپ کو اور جن حالات سے آپ گُزر رہے ہیں جانتا ہے۔ اُس نے اِن الفاظ میں آپ کے لیے رُوحانی پیغام تیار کِیا ہے، جو آپ کو اُس کے قریب تر کرے گا اور اُس کے منصُوبے اور اُس کے پیارے بیٹے پر آپ کے ایمان كو مضبُوط کرے گا۔ شاید وہ آپ کو کسی ایسے اقتباس یا بصیرت کی طرف لے جائے گا جو آپ کے جاننے والے کو برکت دے گی—ایک پیغام جس کا اشتراک آپ کسی دوست، خاندان کے کسی رُکن، یا ساتھی مُقدّس/رُكن کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ بُہت سارے امکانات ہیں۔ کیا اِس کے بارے میں سوچنا دلچسپ نہیں ہے؟
نیفی نے کہا، ”میری جان صحائف سے خُوش ہوتی ہے“ (2 نیفی 4:15)۔ ہو سکتا ہے کہ آپ بھی ویسا ہی محسُوس کریں جب آپ نیفی کے اُن الفاظ کو پڑھتے ہیں—جِسے اب ہم پُرانا عہد نامہ کہتے ہیں۔
پُرانے عہد نامے كی کِتابیں
پُرانے عہد نامے کے زیادہ تر مسِیحی ورژنز میں، کِتابوں کو اِس سے مُختلف ترتیب دی گئی ہے جب وہ پہلی بار ایک مجمُوعے میں مرتب کِی گئی تھیں۔ پَس جبکہ عبرانی بائبل کِتابوں کو تین زمروں میں تقسیم کرتی ہے—شریعت، انبیا اور تحریریں—زیادہ تر مسِیحی بائبلیں کِتابوں کو چار زمروں میں تقسیم کرتی ہیں: شریعت (پیدایش–استثنا)، تاریخ (یشوع–آستر)، شعری کِتابیں (ایُّوب–سلیمان کا گیت) اور انبیا (یسعیاہ–ملاکی)۔
یہ زمرہ جات کیوں اہم ہیں؟ کیوں کہ یہ جاننا کہ آپ کس قسم کی کتاب کا مُطالعہ کر رہے ہیں آپ کو یہ سمجھنے میں مدد مِل سکتی ہے کہ اِس کا مُطالعہ کیسے کِیا جائے۔
جب آپ ”شریعت،“ یا پُرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کِتابیں پڑھنا شُروع کرتے ہیں تو یہاں كُچھ ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ یہ کتابیں، جو روایتی طور پر موسیٰ سے مَنسُوب کی جاتی ہیں، شاید وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ بے شمار کاتبوں اور مصنفوں کے ہاتھوں سے گُزری تھیں۔ اور ہم جانتے ہیں کہ، صدیوں سے، ”بُہت سے ایسے حِصّے جو سادہ اور بیش قیمت ہیں“ بائبل سے نِكال لیے گیے تھے (دیکھیں 1 نیفی 13:23–26)۔ پھر بھی، موسیٰ کی کِتابیں خُدا کا الہامی کلام ہیں، اگرچہ ایسا ہی ہے—خُدا کے کسی بھی کام کی مانند جو فانی انسانوں کے ذریعے مُنتقل ہوتا ہے—انسانی خامیوں کے تابع ہیں (دیکھیں موسیٰ 1:41؛ ایمان کے ارکان 1:8)۔ مرونی کے الفاظ، مورمن کی مُقدّس کِتاب کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے، جسے اُس نے مرتب کرنے میں مدد کی تھی، یہاں مددگار ہیں: ”اگر کوئی غلطی ہے تو وہ انسانوں کی غلطیاں ہیں پس خُدا کی باتوں کی مذمت نہ کرو“ (مورمن کی کِتاب کا سرورق)۔ دُوسرے لفظوں میں، صحائف کی کِتاب کو خُدا کا کلام ہونے کے لیے انسانی غلطی سے آزاد ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔