اپنے پُورے دِل سے اُسے ڈھُونڈو
اگر یِسُوع مسِیح نے خُدا سے ہم کلام ہونے اور اُس سے تقویت پانے کے لیے لمحاتِ خاموشی تلاش کِیے، تو ہمارے لیے بھی یہی دانِش مندی ہو گی کہ ہم بھی اَیسا کریں۔
کئی برس قبل، میری اہلیہ اور مَیں ٹوکیو، جاپان میں قائدینِ مِشن کے طور پر خِدمات اَنجام دیتے رہے ہیں۔ ہمارے مِشن کے دورے کے دوران میں اُس وقت کے ایلڈر رسل ایم نیلسن، سے ایک مِشنری نے پُوچھا کہ جب کوئی شخص ہمیں یہ کہتا ہے کہ وہ بہت مصروف ہے کہ ہماری بات سُننے کے لیے اُس کے پاس وقت نہیں ہے تو اِس کا بہترین جواب کیسے دِیا جائے۔ ایلڈر نیلسن نے، تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے ساتھ کہا، ”مَیں پُوچھُوں گا کہ کیا وہ اُس دِن دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے بھی بُہت مصرُوف ہیں اور پھر اُنھیں یہ سِکھاؤں گا کہ اُن کے پاس جِسم اور رُوح دونوں ہیں، اور جیسے اگر اُس کے جِسم کو غِذا نہ مِلے تو وہ مَر جائے گا، تو اِسی طرح رُوح بھی اگر خُدا کے اچھے کلام سے سیر نہ کی جائے تو وہ بھی مَر جائے گی۔“
یہ بات دِلچسپ ہے کہ جاپانی زُبان میں ”مصرُوف،“ کا لفظ، اِیسو گاسی، دو علامتوں (忙) پر مُشتمل ہے۔ بائیں طرف کی علامت کا مطلب ہے ”دِل“ یا ”رُوح،“ اور دائیں طرف کی علامت کا مطلب ہے ”مَوت“—شاید یہ ظاہر کرتا ہے، جیسا کہ صدر نیلسن نے سِکھایا، کہ اپنی رُوحوں کی پرورش کے لیے بُہت مصرُوف ہونا ہمیں رُوحانی مَوت کی طرف لے جا سکتا ہے۔
خُداوند جانتا تھا—کہ اِس تیز رفتار دُنیا میں، جو کہ خلفشار اور اَفراتفری سے بھری ہُوئی ہے—اُس کے واسطے معیاری وقت نِکالنا ہمارے زمانے کی سب سے بڑی آزمایشوں میں سے ایک ہو گا۔ یسعیاہ نبی کے وسیلے کلام کرتے ہُوئے، خُداوند نے نصیحت اور تنبیہ کے یہ الفاظ فراہم کِیے، جو اِن ہنگامہ خیز ایّام سے مُشابہت رکھتے ہیں جن میں ہم آج زِندگی بسر کر رہے ہیں:
واپس آنے اور خاموش بیٹھنے میں تُمھاری سلامتی ہے؛ خاموشی اور توّکل میں تُمھاری قُوت ہے: پر تُم نے یہ نہ چاہا۔
”تُم نے کہا، نہیں، ہم تو گھوڑوں پر چڑھ کر بھاگیں گے؛ اِس لیے تُم بھاگو گے: اور، کہا ہم تیز رفتار جانوروں پر سوار ہوں گے؛ بس تُمھارا پیچھا کرنے والے تیز رفتار ہوں گے۔“
دُوسرے الفاظ میں، حالاں کہ ہماری نجات کا اِنحصار اِسی پر ہے کہ ہم بار بار اُس کی طرف واپس لوٹیں اور دُنیاوی فِکروں سے خاموش بیٹھیں، مگر ہم اَیسا نہیں کرتے۔ اور حالاں کہ ہمارا توّکل اُس قُوت سے پَیدا ہو گا جو خاموش لمحات میں خُداوند کے ساتھ مراقبے اور غور و خوض کے دوران پروان چڑھے گی، مگر ہم اَیسا نہیں کرتے۔ کیوں نہیں؟ چُوں کہ ہم کہتے ہیں، ”نہیں، ہم دیگر کاموں میں مصرُوف ہیں“—گویا، ہم اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر بھاگ رہے ہیں۔ چُناں چہ، ہم خُدا سے دُور اور دُور ہوتے چلے جائیں گے؛ ہم اِس بات پر زور دیں گے کہ ہم تیز رفتاری سے آگے بڑھیں؛ اور جتنی تیزی سے ہم بڑھیں گے، شیطان بھی اُتنی ہی تیز رفتاری سے ہمارا تعاقب کرے گا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ صدر نیلسن نے بارہا ہم سے اِلتجا کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں خُداوند کے لیے وقت نِکالیں—”ہر ایک دِن۔“ وہ ہمیں یاد دِلاتے ہیں کہ ”خاموشی کے لمحات مُقدّس وقت ہے—وقت جو ذاتی مُکاشفہ کو سہل بناتا اور اِطمینان بھرتا ہے۔“ لیکن خداوند کی دھیمی آواز سُننے کے لیے، اُنھوں نے نصیحت کی کہ، ”تم بھی خاموش رہو۔“
تاہم، خاموش رہنے، کا تقاضا محض خُداوند کے لیے وقت نِکالنا نہیں ہے—بلکہ ہمیں اپنے شکی اور خوف زدہ خیالات کو چھوڑنے اور اپنے دِل و دِماغ کو اُس پر مرکُوز کرنے کی ضرُورت ہے۔ ایلڈر ڈیوڈ اے بیڈنار نے سِکھایا کہ، ”خُداوند کی نصیحت کہ ’خاموش رہو‘ فقط بات چیت نہ کرنے یا مُتحرک نہ ہونے سے کہیں بڑھ کر ہے۔“ ”خاموش رہنا،“ اُنھوں نے تجویز کیا، ”ایک طریقہِ کار ہے کہ ہمیں مُنّجی پر مُسلسل توجہ مرکُوز کرنے کی یاد دِہانی کرائے۔“
خاموش رہنا اِیمان کا عمل ہے اور اِس کے لیے خاصی کوشِش دَرکار ہوتی ہے۔ اِیمان پر خُطبات میں بیان کِیا گیا ہے کہ، ”جب کوئی شخص اِیمان کے ساتھ کام کرتا ہے تو وہ ذہنی مَشقت سے کام کرتا ہے۔“ صدر نیلسن نے اعلان کِیا کہ: ”ہماری توجہ کا مرکز مُنّجی اور اُس کی اِنجِیل ہونی چاہیے۔ ہر ایک خیال میں اُس کی طرف دیکھنا ذہنی طور پر مُشکل لگتا ہے۔ مگر جب ہم اَیسا کرتے ہیں تو ہمارے شُکوک اور خوف بھاگ جاتے ہیں۔“ اپنے ذہنوں کو مرکوز کرنے کی ضرورت پر کلام کرتے ہوئے، صدر ڈیوڈ او مَکے نے کہا کہ: ”مَیں سمجھتا ہُوں کہ ہم مراقبے کی قدر پر بُہت کم توجہ دیتے ہیں، جو عِبادت کا اُصُول ہے۔ … مراقبہ … سب سے مُقدّس ترین دروازوں میں سے ایک ہے جس میں سے گُزر کر ہم خُداوند کی حُضُوری میں آتے ہیں۔“
جاپانی زُبان میں ایک لفظ، مِیو ہے، جو، میرے نزدیک، خاموش رہنے کے اِس اِیمان سے بھرپُور، غور و خوض کرنے والے مفہُوم کو بخُوبی بیان کرتا ہے۔ یہ دو حُرُوف (無為) پر مُشتمل ہے۔ بائیں جانب والا ”کُچھ نہیں“ یا ”عَدم“ کے معانی دیتا ہے، جب کہ دائیں جانب والے حَرف کا مطلب ”کرنا“ ہے۔ یہ دونوں مِل کر ”کُچھ نہ کرنا“ کے معانی دیتے ہیں۔ لفظ کو، لُغوی طور پر سمجھا جائے تو اِس کا مفہُوم ”کُچھ نہ کرنا“ لِیا جا سکتا ہے، اِسی طرح جیسے ”خاموش رہنے“ کو ”نہ بولنے یا حرکت نہ کرنے“ کے طور پر غلط سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم، ”خاموش رہنے“ کے فِقرے کی طرح اِس کا ایک اعلیٰ مفہُوم ہے؛ جو کہ میرے لیے یاد دِہانی ہے کہ اپنی رفتار کو کم کرُوں اور زیادہ رُوحانی شعُور کے ساتھ زِندگی بسر کرُوں۔
ایشیا شُمالی عِلاقے کی صدارت میں ایلڈر تکاشی واڈا کے ساتھ خِدمت کرتے ہُوئے، مَیں نے جانا کہ اُن کی اہلیہ، بہن ناؤمی واڈا، ماہر جاپانی خطاط ہیں۔ مَیں نے بہن واڈا سے پُوچھا کہ کیا وہ میرے لیے مِیو کے جاپانی حُرُوف لِکھ سکتی ہیں۔ مَیں چاہتا تھا کہ اِس خطاطی کو اپنی دیوار پر آویزاں کرُوں تاکہ یہ مُجھے خاموش رہنے اور نجات دہندہ پر توجہ مرکُوز رکھنے کی یاد دِلاتی رہے۔ جب اُنھوں نے اِس بظاہر سادہ سی درخواست پر فوراً رضا مندی نہ دِکھائی تو مَیں حیران ہُوا۔
اگلے دِن، یہ جانتے ہُوئے کہ مَیں نے شاید اُن کی ہچکچاہٹ کو صحیح طور پر نہیں سمجھا، ایلڈر واڈا نے وضاحت کی کہ اِن حُرُوف کو لِکھنے کے لیے خاصی محنت دَرکار ہوتی ہے۔ بہن واڈا کو اِس تصوُّر اور حُرُوف پر غور و فِکر اور مراقبہ کرنا ہو گا، تاکہ وہ اِس کے مفہُوم کو اپنی رُوح میں گہرائی سے محسُوس کر سکے تاکہ اپنے برش کے ہر ضَرب کے ساتھ اُن کے دِل سے نکلنے والے تاثرات کا بہترین اِظہار کر سکے۔ مَیں شرمندہ ہُوا کہ مَیں نے اِتنی بے پروائی سے اُن سے اَیسی مُشکل درخواست کر دی۔ مَیں نے ایلڈر واڈا سے درخواست کی کہ وہ میری نادانی کے لیے اُن سے مُعافی طلب کریں اور اُنھیں بتائیں کہ مَیں اپنی درخواست واپس لے رہا ہُوں۔
آپ میری حیرت اور تشکُّر کا اَندازہ لگا سکتے ہیں کہ میرے جاپان چھوڑتے وقت، بہن واڈا نے بغیر کسی درخواست کے مُجھے مِیو کے جاپانی حُرُوف کی اِس خُوب صُورت خطاطی کا تُحفہ دِیا۔ یہ اَب میرے دفتر کی دیوار پر نُمایاں طور پر آویزاں ہے، جو مُجھے ہر روز اپنے سارے دِل، ساری جان، ساری عقل، اور ساری طاقت کے ساتھ خُداوند کو ڈھُونڈنے کی یاد دِلاتی ہے۔ اِس بے لوث عمل میں، اُس نے مِیو یا خاموشی کے مفہُوم کو بہتر طریقے سے پیش کِیا، جو کسی بھی الفاظ سے زیادہ مؤثر تھا۔ بغیر سوچے سمجھے اور فرضی طور پر حُرُوف لِکھنے کی بجائے، اُنھوں نے اپنی خطاطی کو دِل کے کامِل اِرادے اور خُلُوصِ نیت کے ساتھ انجام دِیا۔
اِسی طرح، خُدا چاہتا ہے کہ ہم اپنے وقت کو اُس کے ساتھ اِسی دِلی عقیدت اور پُختہ لگن کے ساتھ گُزاریں۔ جب ہم اَیسا کرتے ہیں، تو ہماری عِبادت اُس کے لیے ہماری محبّت کا مظہر بن جاتی ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے ساتھ ہم کلام ہوں۔ ایک موقع پر، صدارتِ اوّل کی مجلِس میں اِفتتاحی دُعا کرنے کے بعد، صدر نیلسن نے میری طرف رُخ کِیا اور کہا، ”جب آپ دُعا کر رہے تھے، تو مَیں نے سوچا کہ خُدا کِتنی قدر کرتا ہو گا جب ہم اپنے مصرُوف اوقاتِ کار میں سے وقت نِکال کر اُس کا ذِکر کرتے ہیں۔“ یہ سادہ مگر قوّی یاد دِہانی تھی کہ جب ہم آسمانی باپ کے ساتھ ہم کلام ہونے کے لیے رُکتے ہیں تو اُس کے لیے یہ کتنی اَہمیت رکھتا ہو گا۔
جِتنا وہ ہماری توجہ کا خواہاں ہے، وہ ہمیں اپنی طرف آنے پر مجبُور نہیں کرے گا۔ جی اُٹھے خُداوند نے نیفیوں سے فرمایا، ”مَیں نے کِتنی بار چاہا کہ تُمہیں اِکٹھا کرُوں جس طرح مُرغی اپنے چُوزوں کو اپنے پَروں تلے اِکٹھا کرتی ہے، مگر تُم نہ ہُوئے۔“ اِس کے بعد، اُس نے یہ پُراُمید دعوت دی جو آج بھی ہم پر لاگُو ہوتی ہے: ”مَیں کِتنی بار تُمھیں اِکٹھا کرُوں گا جس طرح مُرغی اپنے چُوزوں کو اپنے پَروں تلے اِکٹھا کرتی ہے، اگر تُم توبہ کرو اور دِل کے کامِل اِرادے سے میری طرف رُجُوع لاؤ۔“
یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل ہمیں بار بار اُس کی طرف رُجُوع لانے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اِن مواقعوں میں روزانہ کی دُعائیں، مُطالعہِ صحائف، عِشائے ربّانی کی رسم، سبت کا دِن، اور ہَیکل میں پرستش شامِل ہیں۔ کیا ہو گا اگر ہم اِن مُقدّس مواقعوں کو اپنی کام کرنے کی فہرست سے نِکال کر ”کُچھ نہ کرنے“ کی فہرست میں ڈال دیں—یعنی اُنھیں اُسی غور و فِکر اور توجہ کے ساتھ انجام دیں جیسے بہن واڈا نے اپنی خطاطی کو بنایا؟
آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ، ”میرے پاس اِس کے لیے وقت نہیں ہے۔“ مَیں نے بھی اکثر اَیسا ہی محسُوس کِیا ہے۔ لیکن مَیں یہ تجویز کرتا ہُوں کہ شاید ہمیں مزید وقت دینے کی نہیں بلکہ اُن لمحات میں ہی خُدا کی طرف زیادہ متوجہ ہونے اور آگہی پانے کی ضرُورت ہے جو ہم نے پہلے ہی اُس کے لیے مُختص کیے ہیں۔
مِثال کے طور پر، جب دُعا کرتے ہیں، کیا ہو اگر ہم بولنے میں کم اور خُدا کی قُربت میں زیادہ مَحو رہیں؛ اور جب لب ہِلائیں، تو زیادہ مخصُوص اَنداز میں دِلی تشکُّر اور محبّت کے نذرانے پیش کریں؟
صدر نیلسن نے نصیحت کی ہے کہ ہم صحائف کو محض پڑھنے کے بجائے اِس کی لذّت سے لُطف اَندوز ہوں۔ اِس سے کیا فرق پڑے گا اگر ہم کم پڑھیں اور اِس کی لذّت سے زیادہ لُطف اَندوز ہوں؟
کیا ہو اگر ہم اپنے ذہنوں کو عِشائے ربّانی میں شِرکت کے لیے تیار کرنے کے لیے بہتر تیار کریں اور خُوشی سے اِس پاک رسم کے دوران میں یِسُوع مسِیح کے کفّارے کی برکات پر غور کریں؟
سبت کے دِن، جس کا عبرانی مفہُوم ”آرام کرنے،“ کا ہے، کیا ہو اگر ہم باقی ساری فِکروں سے آرام کریں اور خاموشی سے خُدا کے ساتھ بیٹھنے کا وقت نِکالیں اور اُس کے لیے اپنی منتیں پُوری کریں؟
اپنی ہَیکل کی عِبادت کے دوران میں، کیا ہو اگر، ہمیں خاموشی سے غور و فِکر کے لیے مزید نظم و نسق کی کاوِش کرنی چاہیے یا سیلیسٹیئل کمرے میں تھوڑی دیر اور ٹھہرنا چاہیے؟
جب ہماری توجہ اعمال پر کم اور اپنے عہد کو آسمانی باپ اور یِسُوع مسِیح کے ساتھ مضبُوط کرنے پر زیادہ ہو گی، تو مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ یہ مُقدّس لمحات مزید بابرکت ہو جائیں گے، اور ہم اپنی ذاتی زِندگیوں میں دَرکار راہ نُمائی پائیں گے۔ ہم، بھی لُوقا کی کِتاب میں بیان کردہ مرتھا کی طرح، اکثر ”بُہت سی چیزوں کے بارے میں فِکرمند اور پریشان رہتے ہیں۔“ تاہم، جب ہم روزانہ خُداوند سے ہم کلام ہوتے ہیں، تو وہ ہمیں اِس بات کا شعُور عطا کرے گا کہ سب سے زیادہ ضرُوری کیا ہے۔
خُود نجات دہندہ نے بھی اپنی خِدمت کے دوران وقت نِکالا کہ خاموشی اِختیار کرے۔ صحائف میں بے شُمار مِثالیں موجُود ہیں جہاں خُداوند کسی تنہائی کی جگہ—پہاڑ، بیابان، صحرائی مقام، یا ”تھوڑا دُور جا کر“—باپ سے دُعا کرنے کے لیے علیحدہ ہو جاتا تھا۔ اگر یِسُوع مسِیح نے خُدا سے ہم کلام ہونے اور اُس سے تقویت پانے کے لیے لمحاتِ خاموشی تلاش کِیے، تو ہمارے لیے بھی یہی دانِش مندی ہو گی کہ ہم بھی اَیسا کریں۔
جب ہم اپنے دِلوں اور ذہنوں کو آسمانی باپ اور یِسُوع مسِیح پر مرکُوز کرتے ہیں اور رُوحُ القُدس کی دبی ہُوئی ہلکی آواز کو سُنتے ہیں، تو ہمیں سب سے ضرُوری باتوں کی زیادہ وضاحت حاصِل ہو گی، گہری شفقت پَیدا ہو گی، اور ہم اُس میں آرام اور قُوت پائیں گے۔ اِس کے بَرعکس، خُدا کے نجات و سرفرازی کے کام کو تیز کرنے میں مدد کے لیے مُمکن ہے کہ ہمیں اپنی رفتار کم کرنی پڑے۔ ہمیشہ حرکت میں رہنا شاید ہماری زِندگیوں میں اَفراتفری کا اِضافہ کر رہا ہے اور ہمیں اُس اِطمینان سے محرُوم کر رہا ہے جس کے ہم طالِب ہیں۔
مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ جب ہم دِل کے کامِل اِرادے کے ساتھ بار بار خُدا کی طرف واپس لوٹتے ہیں، تو ہم خاموشی اور اعتماد کے ساتھ اُسے جانیں گے اور اُس کی لامحدُود موعُودہ محبّت کو محسُوس کریں گے۔
خُداوند نے وعدہ کِیا:
”تم میری طرف رُجُوع لاؤ تو مَیں تُمھاری طرف رُجُوع لاؤں گا؛ جاں فِشانی سے مُجھے ڈھُونڈو تو تُم مُجھے پاؤ گے۔“
”اور تُم مُجھے ڈھُونڈو گے، اور پاؤ گے، جب پُورے دِل سے میرے طالِب ہو گے۔“
مَیں گواہی دیتا ہوں کہ یہ وعدہ سچّا ہے۔ یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔