اپنی مرضی کو اُس کی رضا کے موافق بنانا
اپنی زِندگی میں خُداوند کی مرضی پُوری کرنا ہمیں اِس جہان میں قیمتی ترین موتی—آسمان کی بادِشاہی پانے کے قابل بنائے گا۔
ایک خاص موقع پر، نجات دہندہ نے ایک سوداگر کا تذکرہ کیا جو ”عمدہ موتی“ کی تلاش میں تھا۔ سوداگر کی تلاش کے دوران میں اُس نے ایک ”بیش قیمت موتی“ پایا۔ بہر حال، اُس شاندار موتی کو حاصل کرنے کی خاطر، اُس شخص کو اپنا تمام مال اسباب فروخت کرنا پڑا، جِو اُس نے فی الفور اور بڑی مُسرت سے کیا۔
اِس مُختصر اور قابلِ غَور تمثیل کے ذریعے، نجات دہندہ نے بڑے دلکش انداز میں سِکھایا کہ آسمان کی بادِشاہی بیش قیمت موتی کی مانند ہے، حقیقتاً ایک انمول خزانہ جِس کی کسی بھی چیز سے زیادہ خواہش کی جانی چاہیے۔ یہ حقیقت کہ سوداگر نے اُس انمول موتی کو خریدنے کے لیے فوری طور پر اپنا سب کُچھ بیچ دیا ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں اپنی سوچ اور خواہشات کو خُداوند کی رضا کے موافق بنانا چاہیے اور خُدا کی بادِشاہی کی ابدی برکات پانے کے لیے اپنے فانی سفر کے دوران میں سب کُچھ کرنے کے لیے رضا مند رہنا چاہیے۔
اِس ارفع اجر کو پانے کا اہل ہونے کی خاطر، ہمیں یقیناً، دُوسری اشیا کے ساتھ ساتھ، تمام خُود غرض خواہشات کو ایک طرف رکھنے اور کسی بھی الجھن کو ترک کرنے کی ضرُورت ہے جو ہمیں خُداوند اور اُس کی اعلیٰ اور پاکیزہ راہوں پر پُورے عزم کے ساتھ چلنے سے روکتی ہیں۔ پولُس رسُول نے اِس مُقدّس کرنے والی جُستجُو کو ”مسِیح کی عقل [رکھنے] کی مانند بیان کیا ہے۔ جیسا کہ یِسُوع مسِیح نے مثال پیش کی، اس کا مطلب ہے اپنی زندگیوں میں ”ہمیشہ وہ کام [کرنا] جو [خُداوند] کو پسند آتے ہیں“ یا جیسا کہ کچھ لوگ آج کل کہتے ہیں، یہ ”وہ کرنا جو خُداوند کو اچھا لگتا ہے۔“
اِنجیلی تناظر میں، ”ہمیشہ وہ کام [کرنا] جو [خُداوند] کو خُوش کرتے ہیں“ اُن کا تعلق اپنی مرضی کو اُس کی مرضی کے تابع کرنا ہے۔ نجات دہندہ نے اپنے شاگردوں کو ہدایت دیتے ہُوئے قصداً اِس اُصُول کی اہمیت سِکھائی۔
”کِیُوں کہ مَیں آسمان سے اِس لِیے نہِیں اُترا ہُوں کہ اپنی مرضی کے مُوافِق عمل کرُوں بلکہ اِس لِیے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے مُوافِق عمل کرُوں۔
”اور باپ کی مرضی یہ ہے جس نے مُجھے بھیجا ہے، کہ جو کُچھ اُس نے مُجھے دِیا ہے مَیں اُس میں سے کُچھ کھو نہ دُوں بلکہ اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں۔
”اور میرے بھیجنے والے کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو دیکھے اور اُس پر اِیمان لائے ہمیشہ کی زِندگی پائے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں۔“
مُنجّی نے اپنی مرضی باپ کی مرضی کے سپرد کرنے سے باپ کی کامل اور الہٰی درجہ کی تابع داری حاصل کی۔ ایک دفعہ اُس نے فرمایا؛ ”جِس نے مُجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے: باپ نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا؛ کیوں کہ مَیں ہمیشہ وہ کام کرتا ہُوں جو اُسے پسند آتے ہیں۔“ نبی جوزف سمتھ کو کفارہ کے دُکھ اور تکلیف کے متعلق سِکھاتے ہُوئے، مُنجّی نے فرمایا:
”پَس دیکھ، مُجھ، خُدا نے یہ چِیزیں سب کے لیے جھیلی ہیں، تاکہ اُنھیں نہ جھیلنا پڑے اگر وہ توبہ کرتے ہیں؛ …
”وہ اَذِیت، جِس نے، مُجھ، یعنی خُدائے عظیم و برتر کو درد سے لرزا دیا، اور ہر مسام سے خون بہایا، اور رُوح اور جِسم دونوں کو دُکھ اُٹھانا پڑا—اور چاہا کہ مَیں یہ کڑوا پیالہ نہ پیوں، اور پیچھے ہٹوں—
”تاہم، باپ پُر جلال ہو، اور مَیں نے پیالہ پیا اور بنی آدم کے لیے اپنی تیاری مکمل کی۔“
اپنے فانی قیام کے دوران میں، ہم اکثر اُس کے ساتھ طَبع آزمائی کرتے ہیں جو ہم سوچتے ہیں ہم جانتے ہیں، جِسے ہم بہترین سمجھتے ہیں، اور جِس کو ہم محسُوس کرتے ہیں ہمارے لیے کام کرے گا، یہ سمجھنے کے برخلاف کہ در اصل آسمانی باپ کیا جانتا ہے، ابدی طور پر سب سے بہتر کیا ہے، اور جو اُس کے منصوبے میں اُس کے بچوں کے لیے بالکل کام کرتا ہے۔ یہ عظیم لڑائی نہایت پیچیدہ ہو سکتی ہے، خصوصاً ہمارے زمانہ کی بابت نوشتوں میں موجود نبوتوں پر دھیان دیتے ہُوئے: ”یہ جان رکھ کہ اخیر زمانہ میں … آدمی خُود غرض ہوں گے، … خُدا کی نسبت عَیش و عشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہوں گے۔“
ایک نشان جو اِس پیشین گوئی کی تکمیل کا اشارہ کرتا ہے دُنیا میں موجودہ بڑھتا ہوا رجحان ہے، جِسے بہت سوں نے اپنایا ہے، لوگوں کا اپنی ذات میں مگن ہونا اور مسلسل ڈنڈھورا پیٹتے رہنا ہے، ”چاہے کُچھ بھی ہو، مَیں اپنی سچّائی جیوں گا یا مَیں وہ کروں گا جو مُجھے اچھا لگتا ہے۔“ جیسے پولُس رسُول نے فرمایا ہے، وہ ”سب اپنی اپنی باتوں کی فِکر میں ہیں نہ کہ یِسُوع مسِیح کی۔“ سوچ کا یہ انداز اکثر ان لوگوں کے ذریعہ ”مستند“ ہونے کے طور پر جائز قرار دیا جاتا ہے جو خُود غرضی کے حصول کے لیے، ذاتی ترجیحات پر توجہ دیتے ہیں، یا خاص قسم کے طرز عمل کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں جو اکثر خُدا کے پیارے منصُوبے اور اُن کے لیے اُس کی مرضی سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے قلوب و اذہان کو اِس انداز فکر کو قبول کرنے دیتے ہیں، ہم اپنے لیے اُس نہایت انمول موتی کو حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے ٹھوکر کھلانے کے پتھروں کو وضع کر سکتے ہیں جو خُدا نے اپنی اُمت کے واسطے بڑی محبّت سے تیار کیا ہے—ابدی زِندگی۔
اگرچہ یہ سچ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی، اپنے دِلوں اور ذہنوں کو یِسُوع مسِیح پر مرکوز رکھنے کی سعی کرتے ہُوئے راہِ عہد پر شاگردی کا سفر انفرادی طور پر طے کرتا ہے، ہمیں اپنی زِندگی میں اِس طرز کے دُنیاوی فلسفے کو اپنانے کی آزمایش میں نہ پڑنے کے لیے محتاط اور پیہم چوکنا رہنے کی ضرُورت ہے۔ ایلڈر کوئنٹن ایل کُک نے فرمایا ہے کہ ”مستند ہونے کی بجائے مُخلص طور پر مانند مسِیح ہونا اور زیادہ اہم مقصد ہے۔“
میرے پیارے دوستو، جب ہم اپنی زِندگی میں اپنی ذات کو تسکین دینے والے رجحانات پر خُدا کو سب سے زیادہ اثر و رسوخ دینا مُنتخب کرتے ہیں، تو ہم اپنی شاگردی میں ترقی کر سکتے ہیں اور اپنے دل و دماغ کو نجات دہندہ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں۔ اِس کے برعکس، جب ہم اپنی زِندگیوں میں خُدا کے طریق کو غلبہ نہیں پانے دیتے، ہم اکیلے چھوڑ دیے جاتے ہیں، اور خُداوند کی الہام یافتہ ہدایت کے بغیر، ہم تقریباً ہر چیز کو حق بجانب ٹھہرا سکتے ہیں جو ہم کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ ہم اپنے انداز میں کاموں کو کرتے ہُوئے خُود کے لیے بہانے تراش سکتے ہیں درحقیقت یہ کہہ کر، ”مَیں تو بس اپنے انداز سے کام کر رہا ہوں۔“
ایک موقع پر، جب نجات دہندہ اپنی تعلیم کی مُنادی کر رہا تھا، چند لوگوں، خصوصاً خُود راست فریسیوں نے اُس کے پیغام کو رد کیا اور دلیری سے اعلان کیا کہ وہ ابرہام کی نسل سے ہیں، یعنی کہ اُن کا حسب نسب اُنھیں خُدا کی نظر میں خصوصی مراعات سے نوازے گا۔ اِس ذہنیت نے اُنھیں اپنے فہم پر تکیہ کرنے اور مُنجّی کی تعلیم کا مُنکر ہونے پر مجبور کیا۔ یِسُوع کے بارے میں فریسیوں کا ردعمل اِس بات کا واضح ثبوت تھا کہ ان کے متکبرانہ رویے نے اُن کے دِلوں میں نجات دہندہ کے کلام اور راہِ خُدا کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی تھی۔ جواب میں، یِسُوع نے دانش مندی اور ہمت سے کہا کہ اگر وہ ابرہام کی حقیقی موعودہ نسل ہیں، تو وہ ابرہام کے سے کام کریں گے، خاص طور پر یہ غور کرتے ہُوئے کہ ابرہام کا خُدا اُن کے سامنے کھڑا تھا اور اُسی گھڑی اُنھیں سچّائی سِکھا رہا تھا۔
بھائیو اور بہنوں، جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ”مُجھے کیا پسند ہے بمقابلہ وہ کرنا جو سدا خُداوند کو پسند آتا ہے“ کی ذہنی کثرت کرنا کوئی جدید رجحان نہیں ہے جو ہمارے دور کے لیے منفرد ہے۔ یہ قدیم ذہنیت ہے جو صدیوں سے چل رہی ہے اور اکثر عقل مندوں کو خُود اُن ہی کی آنکھوں میں اندھا کر دیتی ہے اور خُدا کے بہت سے بچوں کو الجھا اور تھکا دیتی ہے۔ یہ ذہنیت، درحقیقت، دُشمن کا ایک پُرانا داؤ ہے؛ یہ ایک گم راہ کُن راہ ہے جو اُمتِ خُدا کو بڑے محتاط انداز سے سچّی اور وفادار راہِ عہد سے دور لے جاتی ہے۔ اگرچہ ذاتی حالات جیسے کہ نسل، جغرافیہ، اور جِسمانی اور ذہنی مسائل، اُن معاملات میں جو نہایت اہم ہیں، ہمارے سفر کو متاثر کرتے ہیں، ایک باطنی مُقام ہے جہاں ہم فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں چاہے ہم اُس نمونہ کی تقلید کرنے کا فیصلہ کریں یا نہ کریں جو خُداوند نے ہمارے لیے تیار کیا ہے۔ حقیقتاً، ”اُس نے راہ سُجھائی اور راہ دِکھلائی، اور ہر نشانی [بتلائی]۔“
مسِیح کے شاگردوں کی حیثیت سے، ہم اُس راستے پر چلنا چاہتے ہیں جِس کی اُس نے اپنی فانی زِندگی میں ہمارے لیے نشان دہی کی تھی۔ ہم نہ صرف اُس کی منشا بلکہ وہ سب جو اُسے خُوش کرے وہی کرنا چاہتے ہیں بلکہ اُس کی تقلید کرنے کے بھی خواہاں ہیں۔ جب ہم ہر اُس عہد سے وفادار رہنے کی کوشش کرتے ہیں جِس میں ہم داخل ہوتے ہیں اور ”ہر بات جو خُدا کے منہ سے نکلتی ہے،“ اُس پر عمل کرتے ہیں تو ہم جہان کے گناہوں اور خطاؤں کا شکار ہونے سے محفوظ رکھے جائیں گے—تعلیم اور فلسفے کی خطائیں جو ہمیں اُن قیمتی ترین موتیوں سے دور لے جاتی ہیں۔
مَیں اس بات سے ذاتی طور پر متاثر ہُوا ہوں کیسے خُدا کے لیے ایسی رُوحانی تابع داری نے مسِیح کے وفادار شاگردوں کی زِندگیوں کو متاثر کیا ہے جب وہ اُن کاموں کو کرنا مُنتخب کرتے ہیں جو خُداوند کو پسند ہیں اور اُس کی نظر میں خُوش کُن ہیں۔ مَیں ایک نوجوان کو جانتا ہُوں جو مشن پر جانے کے بارے میں ڈانواں ڈول تھا لیکن جب اُس نے کلِیسیا کے سینئر راہ نُما کو اپنی ذاتی گواہی اور بطور مُناد خدمت کرنے کے مُقدّس تجربے کو بتاتے ہُوئے سُنا تو خُداوند کی خدمت کرنے کی تحریک محسوس کی۔
اُس کے اپنے الفاظ میں، اِس نوجوان نے، جو کہ اب ایک لوٹا ہُوا مُناد، ہے کہا: ”جب مَیں نے نجات دہندہ یِسُوع مسِیح کے رسُول کی گواہی سُنی، تو مَیں اپنے لیے خُدا کی محبّت کو محسُوس کرنے کے قابل ہُوا، اور مَیں نے اُس محبّت کو دُوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہا۔ اُس موقع پر مَیں جانتا تھا کہ مُجھے اپنے خوف، شکوک، اور تفکرات کے باوجود مشن پر جانا چاہیے۔ مَیں نے کُلی طور پر خُدا کے اپنے بچّوں کے لیے برکات اور وعدوں پر اعتماد محسُوس کیا۔ آج، مَیں ایک نیا شخص ہُوں، مُجھ میں یہ گواہی ہے کہ اِنجِیل سچّی ہے اور کہ کلِیسیائے یِسُوع مسِیح زمین پر بحال ہو چُکی ہے۔ اِس نوجوان نے خُداوند کی راہ کو چُنا اور ہر طرح سے ایک سچّے شاگرد کی مثال بنا۔
ایک وفادار نوجوان خاتون نے اپنے معیارات پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا جب اسے فیشن کمپنی کے بزنس ڈویژن میں فٹ ہونے کے لیے بے حیا لباس زیب تن کرنے کو کہا گیا جہاں وہ کام کرتی تھی۔ یہ سمجھتے ہُوئے کہ اُس کا بدن آسمانی باپ کی عطا کی گئی مُقدس نعمت ہے اور یہی جگہ جہاں رُوح قیام کر سکتا ہے، اُس نے دُنیا کے معیار سے بالا تر عمل کرنے کی تحریک پائی۔ اُس نے نہ صرف اُن لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جِنھوں نے اُسے یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کی سچّائی پر عمل پیرا ہوتے ہُوئے دیکھا بلکہ اپنی ملازمت کو بھی محفوظ رکھا، جو لمحہ بھر کو خطرے میں تھی۔ دُنیا کو راضی کرنے والے کام کی بجائے، جو خُداوند کی نظر میں خُوش کُن ہے اُسے کرنے کی اُس کی آمادگی نے اُس کو مُشکل فیصلوں کے درمیان میں عہد پر چلنے کا اعتماد بخشا۔
بھائیوں اور بہنوں، ہم اپنے روزانہ کے سفر میں ایسے ہی فیصلوں کا مسلسل سامنا کرتے ہیں۔ ہماری زِندگی میں بشریت کی کمزوریوں کی موجودگی کو تسلیم کرنے کے لیے توقف کرنے اور اُس کی پیروی کرنے کے لیے ایک جرات مند اور آمادہ دل کی ضرُورت ہوتی ہے جو خُود کو خُدا کے حوالے کرنے کی ہماری صلاحیت میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اور آخر کار اپنی راہ کی بجائے اُس کی راہ کو اپنانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہماری شاگردی کا حتمی امتحان اپنی پُرانی ذات کو کھونے اور اپنے دِل اور اپنی ساری جان کو خُدا کے تابع کرنے کی آمادگی میں ہے تاکہ اُس کی مرضی ہماری رضا بن جائے۔
فنا پذیری کے شان دار لمحات تب رُونما ہوتے ہیں جب ہم اُس کی خُوشی دریافت کرتے ہیں جب سدا وہ کام کرنا جو ”خُداوند کو پسند آتے اور اُس کے لیے اچھے ہیں“ اور ”جو ہمارے لیے اچھا ہے“ سب ایک ہو جاتے ہیں۔ خُداوند کی رضا کو اپنی اٹل اور بلا شبہ مرضی بنانے کے لیے جلیل اور جری شاگردی درکار ہے! اُس شان دار لمحے میں، ہم خُداوند کے لیے مخصوص ہو جاتے ہیں، اور مکمل طور پر اپنی مرضی اُس کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ایسی رُوحانی تابع داری، کہنے کو، خُوبصورت، قوی، اور کایا پلٹ دینے والی ہوتی ہے۔
مَیں آپ کو گواہی دیتا ہُوں کہ اپنی زِندگی میں خُداوند کی مرضی پُوری کرنا ہمیں اِس جہان میں قیمتی ترین موتی—آسمان کی بادِشاہی پانے کے قابل بنائے گا۔ مَیں دُعا گو ہُوں کہ ہم میں سے ہر کوئی، اپنے وقت اور باری پر، عہد پر اعتماد کے ساتھ، اپنے آسمانی باپ اور یِسُوع مسِیح کو یہ کہنے کے قابل ہُوں کہ ”جو تیرے لیے اچھا ہے، میرے لیے اچھا ہے۔“ مَیں یہ باتیں یِسُوع مسِیح کے پاک نام سے کہتا ہُوں، آمین۔