اِن چند برسوں میں نہیں
اگر ہم وفادار اور فرماں بردار نہیں ہیں، تو ہم خُوش حالی کی خُدا کی عطا کردہ برکت کو تکبُر کی لعنت میں تبدیل کر سکتے ہیں جو ہمیں بدحواس اور مُنحرف کرتی ہے۔
میرے پیارے بھائیو اور بہنو، آج مِنبر پر بیٹھے ہُوئے، میں نے اِس کانفرنس سینٹر کو، کووِڈ کے بعد پہلی بار تین بار بھرتے دیکھا ہے۔ آپ یِسُوع مسِیح کے عقیدت مند شاگِرد ہیں جو سِیکھنے کے مُشتاق ہیں۔ مَیں آپ کی وفاداری کی قدر کرتا ہُوں۔ اور مَیں آپ سے پیار کرتا ہُوں۔
عزرا ٹافٹ بینسن نے نومبر 1985 سے مئی 1994 تک کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسینِ آخِری ایّام کے صدر کی حیثیت سے خِدمات انجام دیں۔ میری عمُر 33 برس تھی جب صدر بینسن کلِیسیا کے صدر بنے اور جب اُن کا انتقال ہُوا تو مَیں 42 سال کا تھا۔ اور اُن کی تعلیمات اور گواہی نے مُجھے گہرے اور پُرزور طریقوں سے مُتاثر کِیا۔
صدر بینسن کی خِدمت کی خصوصیات میں سے ایک مورمن کی کِتاب کے مقصد اور اہمیت پر اِن کی توجہ مرکوز کرنا تھا۔ اُنھوں نے بار بار اِس بات پر زور دِیا کہ ”مورمن کی کِتاب ہمارے مذہب کا کلیدی پتھر ہے—ہماری گواہی کا کلیدی پتھر، ہماری تعلِیم کا کلیدی پتھر، اور ہمارے خُداوند اور نجات دہندہ کی گواہی میں کلیدی پتھر۔“ اُنھوں نے اکثر یِسُوع مسِیح کے آخِری ایّام کے اِس عہد نامہ میں پائے جانے والے تکبُر کے گُناہ کی تعلیمات اور تنبیہات پر بھی زور دِیا۔
صدر بینسن کی نرالی تعلیم نے مُجھے بُہت مُتاثر کِیا اور یہ مورمن کی کِتاب کے میرے مُطالعہ پر پیہم اَثر انداز ہو رہی ہے۔ اُنھوں نے فرمایا:
”مورمن کی کِتاب … ہمارے زمانہ کے لِیے لِکھی گئی تھی۔ بنی نِیفی کے پاس کبھی یہ کِتاب نہ تھی؛ بنی لامن قدیم کے پاس بھی نہ تھی۔ یہ ہمارے ہی نصِیب میں تھی۔ مورمن نے اِس کو بنی نِیفی کی تہذیب کے خاتمہ کے قریب قریب لِکھا تھا۔ خُدا سے اِلہام پا کر، جو اَزل سے ساری چیزوں کو دیکھتا ہے، مورمن نے صدیوں کے نوشتوں کا خلاصہ لِکھا، اُن کہانیوں، پیغاموں، اور ماجروں کو چُنا جو ہمارے لِیے سب سے زیادہ مددگار ثابت ہونے تھے۔“
صدر بنسن نے مزید فرمایا: ”مورمن کی کِتاب کے بڑے مُصنفین میں سے ہر ایک نے گواہی دی کہ اُس نے آنے والی نسلوں کے لِیے لِکھا ہے۔ … اگر اُنھوں نے ہمارے دِن کو دیکھا، اور اُن باتوں کو چُنا جو ہمارے لِیے سب سے زیادہ قابل قدر ہوں گی، تو پِھر ہمیں مورمن کی کِتاب کا مُطالعہ کیسے کرنا چاہیے؟ ہمیں اپنے آپ سے مسلسل سوال کرنا چاہیے، ’خداوند نے مورمن کو اپنی سرگُزشت میں … [اِس نوشتہ] کو شامل کرنے کا اِلہام کیوں دِیا؟ اِس دَور اور زمانہ میں زِندگی بسر کرنے کے لِیے مَیں [اِس نصیحت] سے کیا سبق سِیکھ سکتا ہُوں؟‘“
صدر بینسن کے بیانات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ مورمن کی کِتاب بُنیادی طور پر ماضی میں دیکھنے والی تارِیخی کہانی نہیں ہے۔ بلکہ، پاک کلام کا یہ صحیفہ مُستقبل کی بات کرتا ہے اور اِس میں ہمارے دَور کے حالات اور مسئلوں کے لِیے اہم اُصُول، تنبیہیں اور سبق شامِل ہیں۔ لہذا، مورمن کی کِتاب اِس دَور کی کِتاب ہے جِس میں ہم اب ہیں اور ہمارے مُستقبل کی بھی جِس میں ہم زِندگی بسر کریں گے۔
مَیں رُوحُ القُدس کی مدد کے لِیے دُعا کرتا ہُوں چُوں کہ اب ہم مورمن کی کِتاب میں ہِیلیمن کی کِتاب سے جُڑے اسباق پر غَور کرتے ہیں۔
بنی نِیفی اور بنی لامن
ہِیلیمن اور اُس کے بیٹوں کا صحِیفہ اَیسی قَوم کا ذِکر کرتا ہے جو یِسُوع مسِیح کی پیدایش کی مُنتظر تھی۔ صحائف میں بیان کی گئی نصف صدی بنی لامن کی تبدیلی اور راست بازی اور بنی نِیفی کی بدی، برگشتگی، اور مکروہات کی تفصِیل بتاتا ہے۔
اس قدیم صحِیفہ سے بنی نِیفی اور بنی لامن کے درمیان موازنہ اور تضادات کا سلسلہ آج ہمارے لِیے سب سے زیادہ سبق آموز ہے۔
اور بنی لامن کا بیشتر حِصّہ، راست باز اُمّت بن گیا تھا، یہاں تک کہ اُن کی ثابت قدمی اور اُن کے مُستحکم اِیمان کی بدولت، اُن کی راست بازی بنی نِیفی سے بھی بڑھ گئی تھی۔
”[اور] بُہتیرے نِیفی سخت دل، اور نافرمان ہو گئے، اور نہایت بدکار ہو چُکے تھے، یہاں تک کہ اُنھوں نے خُدا کے کلام نِیز ساری مُنادی اور نبُوّت کو جو اُن میں کی گئی، رد کر دِیا تھا۔“
”اور یُوں ہم دیکھتے ہیں کہ بنی نِیفی بے اعتقادی میں بھٹکنے لگے، اور بدکاری اور مکروہات میں بڑھنے لگے، جب کہ بنی لامن اپنے خُدا کے عِرفان میں نہایت بڑھنے لگے؛ ہاں، وہ اُس کے آئین اور حُکموں کو ماننے لگے، اور اُس کے حُضُور سچّائی اور راستی میں چلنے لگے۔
”اور یُوں ہم دیکھتے ہیں کہ خُداوند کا رُوح اُن کی بدکاریوں اور اُن کے دِلوں کی سنگِینی کے باعث بنی نِیفی سے پِیچھے ہٹنے لگا۔
”اور یُوں ہم دیکھتے ہیں کہ خُداوند نے بنی لامن پر اپنا رُوح اُنڈیلنا شُروع کر دِیا، چُوں کہ اُس کے کلام پر اِیمان لانے کے لِیے تیار اور لائق تھے۔“
غالباً بنی نِیفی کی برگشتگی کے زوال کا سب سے بڑا حیران کُن اور فکر اَنگیز پہلو یہ ہے کہ ”یہ سب بدیاں اُن میں اِن چند برسوں کی مُدت میں نہ بڑھیں تھیں۔“
بنی نِیفی نے خُدا سے مُنہ موڑ لیا۔
ایک زمانہ سے راست اُمّت اتنے مختصر عرصے میں کیسے سخت دِل اور بدکار بن سکتی ہے؟ لوگ اُس خُدا کو اِتنی جلدی کیسے بھُول سکتے ہیں جِس نے اُنھیں بڑی فراوانی سے نوازا تھا؟
پُر اثر اور عمیق انداز میں، بنی نِیفی کی بُری مثال آج ہمارے لِیے سبق آموز ہے۔
”تکبُّر … سرایت کرنے لگا تھا … خُدا کی کلِیسیا میں نہیں، بلکہ اُن لوگوں کے دِلوں میں جو خُدا کی کلِیسیا سے وابستگی کا دعویٰ کرتے تھے … اَیسا مُلک میں اُن کی بُہت زیادہ دولت و امارت اور خُوش حالی کے سبب سے تھا۔“
”[اُنھوں] نے [اپنے] اپنے دِلوں کو دولت، اور دُنیا کی بے کار چیزوں پر لگا لِیا ہے“ ”اِس تکبُّر کے باعث جِسے [اُنھوں] … نے [اپنے] دِلوں میں داخل ہونے دِیا، جِس نے [اُن کی] نہایت امیری کے باعث [اُنھیں] نیکی سے بُہت زیادہ دُور کر کے مُتکبر بنا دِیا ہے!“
قدیم آوازیں خاک میں سے آج ہمیں پُکارتی ہیں کہ اِس دائمی سبق کو سِیکھیں: دولت، خُوش حالی، اور آرام طلبی اَیسا زبردست نشہ ہے کہ راست بازوں کو بھی تکبُر کا رُوحانی زہر پِینے پر آمادہ کر سکتا ہے۔
غرُور کو اپنے دِلوں میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے ہم مُقدّس چیزوں کا ٹھٹھا اُڑانے؛ نبُوّت اور مُکاشفہ کی رُوح کے مُنکر ہونے؛ خُدا کے حُکموں کو اپنے پیروں تلے رَوندنے؛ خُدا کے کلام کا اِنکار کرنے؛ نبیوں کو نِکال دینے، ٹھٹھوں میں اُڑانے، اور اُن کو لعن طعن کرنے کا سبب بن سکتے ہیں؛ اور خُداوند اپنے خُدا کو بھُول جانے کا سبب بن سکتے ہیں اور ”نہیں چاہتے کہ خُداوند [ہمارا] خدا، جِس نے [ہمیں] خلق کِیا ہے، [ہمارا] فرماں روا اور حُکم ران ہو۔“
لہٰذا، اگر ہم وفادار اور فرماں بردار نہیں ہیں، تو ہم خُوش حالی کی خُدا کی عطا کردہ برکت کو تکبُر کی لعنت میں تبدیل کر سکتے ہیں جو ہمیں اَبَدی سچّائیوں اور اہم رُوحانی ترجیحات سے ہٹاتی اور دُور لے جاتی ہے۔ ہمیں غرُور سے پُھولی ہُوئی اَنا اور احساسِ خُود بِینی کی مبالغہ آمیزی، اپنی بد دماغی کے گُم راہ کُن احساس، اور دُوسروں کی خِدمت کرنے کی بجائے ذاتی بڑھائی کے خِلاف ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے۔
جب ہم تکبُر کے ساتھ اپنی ذات کو مرکز بناتے ہیں، تو ہم رُوحانی اندھے پن کا شِکار بھی ہوتے ہیں اور ہم اپنے اندر اور آس پاس رُونما ہونے والے کئی، زیادہ تر، یا شاید سارے مواقع کھو دیتے ہیں۔ اگر ہم صرف اپنے آپ کو دیکھتے ہیں تو ہم یِسُوع مسِیح کو ”نِشان“ کے طور پر نہ دیکھ سکتے اور نہ مُتوجہ ہو سکتے ہیں۔
اَیسا رُوحانی اندھا پن ہمیں راست بازی کی راہ ترک کرنے، ممنوعہ راہ پر چل نِکلنے اور کھو جانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ جب ہم آنکھیں بند کر کے ”[اپنی] ہی راہوں پر چل نِکلتے ہیں“ اور تباہ کُن مُتبادل راستوں پر چلتے ہیں، تو ہم اپنے فہم پر تکیہ کرنے، اپنی طاقت پر گھمنڈ کرنے، اور اپنی عقل پر بھروسا کرنے کے لِیے مائل ہوتے ہیں۔
سموئیل لامنی نے بنی نیفی کا خُدا سے منہ موڑنے کا مختصراً خلاصہ بیان کیا ہے: ”تُم نے اپنی زِندگی کے تمام ایّام اُس کی تلاش میں گُزارے ہیں، جِس کو تُم پا نہ سکتے تھے؛ اور تُم نے سِیہ کاری میں خُوشی ڈُھونڈی، جو کہ راست بازی کی فِطرت کے خِلاف ہے جو ہمارے عظِیم و قدِیر اور اَبَدی آقا میں ہے۔“
مورمن نبی نے مُشاہدہ کِیا، ”لوگوں کا بیشتر حِصّہ ہنوز اپنے گُھمنڈ اور بدی میں [پڑ ہوا تھا]، اور بُہت کم لوگ خُدا کی حُضُوری میں بڑی اَحتیاط سے [چلتے] تھے۔“
بنی لامن نے خُدا کی طرف رُجُوع کِیا
ہِیلیمن کی کِتاب میں، بنی لامن کی بڑھتی ہُوئی راست بازی بنی نِیفی کی تیزی سے رُوحانی زوال کے بالکُل برعکس ہے۔
بنی لامن نے خُدا کی طرف رُجُوع کِیا اور پاک صحیفوں اور نبیوں کی تعلیمات پر اِیمان لا کر، خُداوند یِسُوع مسِیح پر اِیمان لا کر، اپنے گُناہوں سے تَوبہ کر کے، اور دِل کی زبردست تبدیلی کا تجربہ کر کے اُنھیں عِرفانِ حق کی طرف لایا گیا۔
”پَس، جِتنے اِس طرف آئے ہیں، تُم خُود جانتے ہو کہ اِیمان میں، اور اُن باتوں میں مضبُوط اور ثابت قدم ہیں جِس میں وہ آزاد کِیے گئے ہیں۔“
”غَور کرو کہ [بنی لامن] کی اکثرِیّت اپنے فرض کی راہ پر، اور خُدا کے حُضُور دانِش مندی سے چلتی ہے، اور وہ مُوسیٰ کی شرِیعت کے مُوافِق اُس کے حُکموں اور اُس کے آئین پر پابندی سے چلتی ہے۔ …
”… وہ اَن تھک جاں فشانی سے کوشِش کر رہی ہے تاکہ وہ اپنے باقی ماندہ بھائیوں کو عِرفانِ حق کی طرف لائے۔“
نتیجتاً، ”[بنی لامن کی] ثابت قدمی اور اُن کے مُستحکم اِیمان کی بدولت، اُن کی راست بازی بنی نِیفی سے بھی بڑھ گئی تھی۔“
تنبِیہ اور وعدہ
مرونی نے فرمایا: ”دیکھو، خُداوند نے اُن کے مُتعلق جو یقِیناً جلد ہونے کو ہیں، حیرت انگیز اور نرالی باتیں مُجھ پر ظاہر کی ہیں، اُس روز جب یہ باتیں تُمھارے درمیان میں ظاہر ہوں گی۔
”دیکھو، مَیں تُم سے ایسے ہم کلام ہُوں گویا تُم موجُود ہو، اگرچہ تُم نہیں ہو۔ مگر دیکھو، یِسُوع مسِیح نے تُمھیں مُجھ پر ظاہر کِیا ہے، اور مَیں تُمھارے اَعمال سے واقِف ہُوں۔“
براہ کرم یاد رکھیں کہ مورمن کی کِتاب مستقبل کی بات کرتی ہے اور اِس میں اہم سچّائیاں، تنبِیہیں، اور سبق شامِل ہیں جو آج ہمارے دَور کے حالات و واقعات اور مسائل کے حوالے سے میرے اور آپ کے لِیے ہیں۔
برگشتگی دو بُنیادی سطحوں پر ہو سکتی ہے—اِدارہ جاتی اور اِنفرادی۔ اِدارہ کی سطح پر، کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسینِ آخِری ایّام نہ برگشتگی کے ذریعے سے گُم راہ ہوگی نہ دُنیا سے اُٹھائی جائے گی۔
نبی جوزف سمتھ نے اِعلان فرمایا: ”سچائی کا پرچم بلند کر دیا گیا ہے؛ کوئی ناپاک ہاتھ اِس کام کی ترقی میں حائل نہیں ہو سکتا؛ … ایذا رسانیاں ہو سکتی ہیں، بلوہ باز اکٹھے ہو سکتے ہیں، فوجیں صف بندی کر سکتی ہیں، تُہمتیں بدنام کر سکتی ہیں، لیکن خُدا کی سچّائی دلیری، عالی ظرفی، اور آزادانہ طور پر آگے بڑھے گی، جب تک یہ ہر براعظم میں داخل نہ ہو جائے، ہر آب و ہوا کو چُھو نہ لے، ہر مُلک میں سرایت نہ کر جائے، اور ہر کان میں سُنائی نہ دے؛ جب تک خُدا کے اِرادے پُورے نہ ہو لیں، اور عظیم و قدِیر یہوواہ یہ نہ کہے کہ کام مُکمل ہُوا۔“
اِنفرادی سطح پر، ہم میں سے ہر ایک کو ”تکبُر سے ہوشیار رہنا چاہیے، اَیسا نہ ہو کہ [ہم] قدیم دَور کے بنی نِیفی کی مانند بن جائیں۔“
کیا مَیں تجویز کر سکتا ہُوں کہ اگر آپ کو یا مجُھے یقِین ہے کہ ہم غرُور کے تکبُر سے بچنے کے لِیے کافی مضبُوط اور ثابت قدم ہیں تو شاید ہم پہلے ہی اِس مُہلک رُوحانی بیماری کا شِکار ہیں۔ آسان لفظوں میں، اگر آپ کو یا مُجھے یقِین نہیں ہے کہ ہم گُھمنڈ میں مُبتلا ہیں اور تکبُر سے مغلوب ہو سکتے ہیں، تو ہم کم زور ہیں اور رُوحانی خطرے میں ہیں۔ زیادہ دِنوں، ہفتوں، مہینوں، یا برسوں کی مُدت نہ گُزرے گی کہ، ہم مسُور کی دال سے بھی کم قِیمت پر اپنا رُوحانی پیدایشی حق کھو بیٹھیں گے۔
بہرکیف، اگر، آپ کو یا مُجھے یقِین ہے کہ ہم گُھمنڈ میں مُبتلا اور تکبُر سے مغلوب ہو سکتے ہیں، تو ہم مُستقل طور پر معمُولی اور سادہ کام کریں گے جو ہماری حفاظت کریں گے اور ”بچّے کی مانِند مُنکسر، حلیم، فروتن، صابر، محبّت سے معمُور“ بننے میں ہماری مدد کریں گے، اور ”خُود کو اُن تمام چِیزوں کے حوالے کرنے کے لِیے رضامند جو خُداوند [ہم] پر لانا واجب سمجھتا ہے۔“ ”مُبارک ہیں وہ جو اپنے تئِیں فروتن ہوتے ہیں بِنا بے بس کِیے فروتن ہوتے ہیں۔“
جب ہم صدر بینسن کی تلقین پر عمل کرتے ہیں اور اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ خُداوند نے مورمن کو اپنے خلاصہ میں ہِیلیمن کی کِتاب کے اُن ماجروں، نصیحتوں اور تنبیہوں کو شامِل کرنے کا اِلہام کیوں عطا کِیا جو اُس نے کِیے تھے، تو مَیں وعدہ کرتا ہُوں کہ ہم اِدراک و فہم پائیں گے کہ کس طرح آج اپنی اِنفرادی اور خاندانی زِندگیوں کے مخصُوص حالات میں اِن تعلیمات کو لاگُو کریں۔ جب ہم اِس اِلہامی صحِیفہ کا مُطالعہ کرتے اور غَور و فِکر کرتے ہیں، تو ہمیں دیکھنے کے لِیے آنکھیں، سُننے کے لِیے کان، اِدراک کے لِیے عقل، اور سمجھنے کے لِیے دِل عطا ہوں گے وہ سبق جو ہمیں سِیکھنا چاہیے یہ ہے کہ ”تکبُر سے خبردار رہیں، اَیسا نہ ہو کہ [ہم] آزمایش میں پڑیں۔“
مَیں خُوشی سے گواہی دیتا ہُوں کہ خُدا اَبَدی باپ ہمارا باپ ہے۔ یِسُوع مِسیح اُس کا اِکلوتا اور المحبُوب بیٹا ہے۔ وہ ہمارا نجات دہندہ ہے۔ اور مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ جب ہم خُداوند کے رُوح کی فروتنی میں چلتے ہیں، تو ہم غرُور سے کِنارہ کریں گے اور اُس پر غالِب آئیں گے اور خُداوند میں تسلّی پائیں گے۔ مَیں خُداوند یِسُوع مسِیح کے مُقدّس نام پر یہی گواہی دیتا ہُوں، آمین۔