”جون 8–14۔ ’خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے‘: 1 سموئیل 8–10؛ 13؛ 15–16،“ آ، میرے پیچھے ہو لے—برائے گھر اور کلِیسیا: پُرانا عہد نامہ 2026 (2026)
”جون 8–14۔ ’خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے،‘“ آ، میرے پیچھے ہو لے: پُرانا عہد نامہ 2026
آبِ ساکن کے قریب، از سائمن ڈیوی
جون 8–14: ”خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے“
1 سموئیل 8–10؛ 13؛ 15–16
ساؤل گدھوں کا رکھوالا تھا۔ اگرچہ وہ قد آور اور خُوبصورت تھا، ”وہ [اپنی] نظر میں حقیر“ اور اپنے خاندانی ورثہ کے بارے میں خُود احساسی کا شکار تھا (دیکھیں 1 سموئیل 9:2–3، 21؛ 15:7)۔ جس روز اُسے اسرائیل کے سامنے اُن کے بادشاہ کے طور پر پیش ہونا تھا، وہ سامنے ہی نہیں آیا؛ وہ اتنا پریشان تھا کہ اُس نے ”اپنے آپ کو چھُپا لیِا“ (1 سموئیل 10:21–22)۔ ساؤل کو دیکھتے ہُوئے، آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ وہ بنی اسرائیلیوں کو اپنے دشمنوں پر فتح دِلائے گا—یا یہ کہ وہ بعد ازاں مُتکبر ہو جائے گا اور خُداوند کے خلاف بغاوت کرے گا۔
داؤد گلہ بان تھا۔ وہ اپنے سات بڑے بھائیوں کی مانند جسمانی طور پر مُتاثر کُن نہیں تھا۔ جس روز سموئیل اسرائیل کے لیے ایک نئے بادشاہ کا انتخاب کرنے آیا، داؤد کو مُمکنہ اُمِّیدواروں میں شامل کرنا بھِی قابل قدر نہیں لگتا تھا، لہذا وہ بھیڑوں کے ساتھ کھیتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ داؤد کو دیکھتے ہُوئے، شاید آپ اندازہ نہ کر سکیں کہ وہ ایک دیوقامت کو شکست دینے اور اسرائیل کا کامیاب ترین بادشاہ بننے کے لیے ایمان اور حوصلہ رکھتا ہو گا۔
لیکن خُداوند ہمارے لیبلوں، ہمارے جسمانی قد کاٹھ، ہمارے عدم تحفظ سے پرے دیکھتا ہے۔ اِس کی بجائے،وہ ”دِل پر نظر کرتا ہے“ (1 سموئیل 16:7)۔ اور حتیٰ کہ جب ہمارا دِل صحیح سمت پر نہ بھی ہو، اگر ہم رضامند ہوں گے، تو وہ ہمیں ”ایک اور دِل“ عطا کرے گا (1 سموئیل 10:9)۔
گھر اور کلِیسیا میں سیکھنے کے لیے تجاویز
1 سموئیل 8
یِسُوع مسِیح میرا بادشاہ ہے۔
1 سموئیل 8 ایک واقعہ بتاتا ہے جو ہمیشہ کے لیےاسرائیلیوں کی تقدیر بدل دے گا۔ اپنے دُشمنوں کے خلاف تحفظ کے لیے،اسرائیلی وہ ہی چاہتے تھے جو اُن کے پڑوسیوں کے پاس تھا—اُن پر حکُومت کرنے کے لیے ایک بادشاہ۔ جب آپ اُن کی درخواست اور خُداوند کے جواب کے بارے میں پڑھتے ہیں، تو سوچیں کہ آپ تحفظ اور ہدایت کی خاطر کس کو دیکھتے ہیں۔ غور کریں کہ خُداوند کو ”[آپ] کا بادشاہ ہونے“ دینے سے کیا مُراد ہے (1 سموئیل 8:7)۔
آئندہ ہفتوں میں، آپ اسرائیل کی راہ نُمائی کے لیے بُلائے گئے کئی بادشاہوں کے بارے میں پڑھیں گے۔ جب آپ اُن کے بارے میں سیکھتے ہیں، درج ذیل سوالات پر غور کریں:
-
1 سموئیل 8:10–18 میں خُداوند کی تنبیہات کیسے پُوری ہُوئی ہیں؟
-
بنی اسرائیل زمینی بادشاہ کے لیے اپنے انتخاب سے کیسے مُتاثر ہُوئے تھے؟
-
یِسُوع مسِیح زمینی بادشاہوں سے کیسے مُختلف ہے؟ غور کریں کہ مسِیح کو اپنا بادشاہ بنانے کے لیے آپ کو اپنی زندگی سے کون سے دُنیاوی اثرات دور کرنے کی ضرورت ہے۔
مزید دیکھیں: ”شادمان ہو، خُداوند ہے بادشاہ!،“ گِیت، نمبر 66۔
1 سموئیل 9–10؛ 16:1–13
خُدا اپنی بادشاہی میں خِدمت کرنے کے لیے لوگوں کو نبوت کے وسیلے سے بُلاتا ہے۔
خُدا اسرائیل کے بادشاہ کا کیسے انتخاب کرتا ہے 1 سموئیل 9–10 اور 16 میں اِس کے مُتعلق پڑھیں (خصُوصاً دیکھیں 9:15–17؛ 10:1–12؛ 16:1–13)۔ اُن عبارتوں کو تلاش کریں جو آپ کی سمجھنے میں مدد کریں کہ آج خُداوند کی کلِیسیا میں ”خُدا کی طرف سےنبوت کے ذریعے بُلاہٹ پانے“ سے کیا مُراد ہے (ایمان کے اَرکان 1:5)۔ آپ خُود کو بُلاہٹ دینے والے راہ نُما (سموئیل) اور بُلائے جانے والے شخص (ساؤل اور داؤد) اور لوگ جن کی خِدمت کرنے کے لیے وہ بُلائے گئے ہیں (اسرائیلی) اُن کی جگہ پر رکھیں۔ اِن ابواب میں آپ اُن کے اقوال و افعال سے کیا سیکھتے ہیں؟
خاکہ کشی سموئیل ساؤل کو مَسح کرتے ہُوئے، از پی مان، © لائف وے کولیکشن/ سند یافتہ از goodsalt.com
1 سموئیل 13:5–14؛ 15
”حُکم ماننا قُربانی چڑھانے سے بہتر ہے۔“
اِس بات پر غور کرتے ہُوئے کہ 1 سموئیل 10 میں ساؤل کتنا ڈرپوک لگتا ہے، بادشاہ بننے کے بعد اُس کی ”بغاوت“ اور ”سرکشی“ کے بارے میں پڑھنا حیران کُن بات ہے (1 سموئیل 15:23)۔ آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہُوا؟ 1 سموئیل 13:5–14 میں، آپ کون سے رویے اور طرزِ عمل دیکھتے ہیں جو اُس کی تنَزّلی کا مُوجِب بنے؟
1 سموئیل 15 میں، آپ خُداوند کے ایک حُکم کے بارے میں پڑھیں گے جس کی ساؤل نے فرماں برداری نہیں کی تھی کیونکہ اُس کے خیال میں اُس کے پاس ایک اچھی وجہ تھی۔ ساؤل کے ناقص انتخابات سے سیکھنے کے لیے، آیت 22 پر نظر کریں اور اِلفاظ ”قربانی“ اور ”مینڈھوں کی چربی“ کو ایسی چیزوں سے بدلیں جو اچھی لگتی ہیں مگر خُداوند کی فرمان برداری کرنے اور شنوا ہونے سے زیادہ اہم نہیں ہیں۔ اپنی زِندگی میں رضائےِ خُداوندی کو اولین ترجیح دینے سے آپ کیسے بابرکت ہُوئے ہیں؟
1 سموئیل 16:6–12
”خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے۔“
کیا آپ نے کبھی کسی چیز یا کسی کی ”ظاہری صورت“ کو بُنیاد بنا کر کوئی فیصلہ کِیا ہے، صرف یہ معلُوم کرنے کے لیے کہ آپ غلط تھے؟ شاید آپ نے کُچھ ایسا کھا لیا ہو جو بظاہراً اتنا خُوش نُما نہ ہو۔ یا شاید آپ نے ناحق کسی پر نُکتَہ چینی کی ہو۔
جب سموئیل اسرائیل کے نئے بادشاہ کی تلاش میں تھا، تو خُداوند نے اُسے اِس سے بہتر طریقہ سِکھایا۔ اِس کی بابت 1 سموئیل 16:6–7 میں پڑھیں، اور اُن طریقوں کی فہرست بنانے پر غور کریں جن سے لوگ دُوسروں کی ”ظاہری صورت پر“ فیصلہ کرتے ہیں۔ آپ ایلڈر کرسٹوف جی جیرائوڈ-کیرئیر کے پیغام ”ہم اُس کے بچَے ہیں“ (لیحونا، نومبر 2023، 114–16) میں سے چند مثالیں ڈھونڈ سکتے ہیں۔ خُداوند کی مانند ”دِل پر“ نظر کرنے سے کیا مُراد ہے؟ (1 سموئیل 16:7)۔ آپ ایلڈر جیرائوڈ-کیریئر کے پیغام میں اِس کی مثالیں بھی پا سکتے ہیں۔ شاید آپ دُوسرے اوقات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جب نجات دہندہ نے کسی شخص کی ظاہری صورت کو دیکھا ہو۔ (دیکھیں، مثال کے طور پر، مرقس 12:41–44؛ لُوقا 5:1–11؛ 19:1–9؛ یُوحنّا 4:5–30؛ موسیٰ 6:31–36۔) آپ اِن مثالوں سے کیا سیکھتے ہیں؟
آپ دُوسروں کو—اور خُود کو کیسے دیکھتے ہُوئے نجات دہندہ کے نمونہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ایسا کرنا دُوسروں کے ساتھ آپ کے تعاملات پر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے؟ کسی کو اُس اچھائی کی بابت بتائیں جو آپ اُن کے دِل میں دیکھتے ہیں۔
مزید دیکھیں اولیسس سوارز، ”مسِیح میں بھائی اور بہنیں،“ لیحونا، نومبر 2023، 70–73۔
مزید تجاویز کے لیے، اِس ماہ کے لیحونا اور برائے مضبوطیِ نوجوانان رسالوں کے شُمارے دیکھیں۔
بچّوں کو سِکھانے کے لیے تجاویز
1 سموئیل 8
یِسُوع مسِیح میرا بادشاہ ہے۔
-
جب آپ اپنے بچُوں کے ہمراہ 1 سموئیل 8 پڑھتے ہیں، تو اُن کی ایسی وجوہات ڈھونڈنے میں مدد کریں جو سموئیل نے بنی اسرائیل کو بتائیں کہ بادشاہ رکھنے کا خیال بُرا تھا۔ یِسُوع مسِیح کا ہمارا بادشاہ ہونا کیوں بہتر ہے؟ آپ اکٹھے کاغذ کا تاج بنا سکتے ہیں اور اِسے باری باری پہن سکتے ہیں اور کُچھ ایسا بتا سکتے ہیں جو دِکھاے کہ ہم چاہتے ہیں کہ یِسُوع ہمارا بادشاہ ہو۔ (مزید دیکھیں یرمیاہ 23:5؛ عقائد اور عہُود 45:59۔)
۱ سموئیل 8:6؛ 9:15–17؛ 10:1–24؛ 16:1–13
کلِیسیا میں خِدمت کرنے والے لوگ خُدا کی طرف سے بُلائے گئے ہیں۔
-
ساؤل اور داؤد کے خُدا کی طرف سے بادشاہ چُنے جانے کے واقعات آپ کے بچّوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ آج لوگوں کو کلِیسیا میں خِدمت کرنے کے لیے کیسے مُکاشفہ کے ذریع بُلایا جاتا ہے۔ اُنھیں یہ کہانیاں سِکھانے کے لیے، آپ کہانیوں میں سے واقعات کو کاغذ کی پرچیوں پر لکھ سکتے ہیں، اور آپ کے بچّے اُنھیں صحیح ترتیب سے رکھ سکتے ہیں جب آپ صحائف کے حوالہ جات کو اکٹھے پڑھتے ہیں (مزید دیکھیں ”نوجوان داؤد“ پُرانے عہد نامہ کی کہانیاں، 110–11، میں)۔ پھر آپ اُن اوقات کے بارے میں بات کر سکتے ہیں جب خُدا نے آپ کو کسی مُقررہ ذمہ داری یا بُلاہٹ کو پُورا کرنے کے لیے روحانی قُدرت سے نوازا ہو (دیکھیں 1 سموئیل 10:9–10)۔
1:16Young David
-
اپنے بچّوں کو ایمان کا پانچواں رُکن سِکھانے کا یہ اچھا موقع ہو سکتا ہے۔ اُنھیں بتائیں کہ آپ نے کلِیسیا میں اپنی بُلاہٹ کیسے پائی ہے۔ آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ خُدا کی طرف سے بُلائے گئے ہیں؟
سموئیل نبی داؤد کو بیت الحم میں اسرائیل کا بادشاہ مَسح کرتے ہُوئے، از بالاج بلوگ
1 سموئیل 16:1–13
خُداوند دِل پر نظر کرتا ہے۔
-
کوئی عملی سبق آپ کے بچّوں کی 1 سموئیل 16:7 میں پائے گئے اُصُول کو سمجھنے میں مدد کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، آپ اُنھیں کسی کھانے یا ریپر یا کور کے ساتھ کِتاب دِکھا سکتے ہیں جو اِس کے حقیقی مواد سے مُطابقت نہیں رکھتی۔ 1 سموئیل 16:7 اور یہ عملی سبق اِس بارے میں کیا تجویز کرتا ہے کہ ہمیں خُود کو اور دُوسرے لوگوں کو کیسے دیکھنا چاہیے؟ گیت گائیں جو اِس اُصُول پر زور دیتا ہے، مثلاً ”ایک دُوسرے سے محبّت رکھو“ (بچّوں کے گیتوں کی کِتاب، 136)۔
عملی اسباق کا اِستعمال کریں۔ جب آپ کے بچّوں کو اِنجِیلی اُصُول سے مُتعلقہ کوئی چیز دیکھنے اور چھونے کے لیے حاصل ہو، تو امکان ہے وہ اُسے یاد رکھیں گے۔ مثال کے طور پر، جب آپ 1 سموئیل 16:7 کو اُن کے ساتھ پڑھتے ہیں، تو آپ اُنھیں اِس نقطہِ نظر کو عیاں کرنے کے لیے فریبِ نظر کی مثالوں کو ڈھونڈنے میں اپنی مدد کرنے دے سکتے ہیں کہ ہمیں ویسے ہی دیکھنا چاہیے جیسے خُداوند —”ظاہری صورت“ پر مبنی فیصلے کرنے کی بجائے”دِل پر نظر“ کرتا ہے۔
-
آپ اور آپ کے بچّے اِن تجربات کا اشتراک کر سکتے ہیں جن میں آپ نے سیکھا کہ آپ کو کیوں ”دِل پر نظر“ کرنی چاہیے، نہ صرف ”ظاہری صورت“ پر (آیت 7)۔ آپ باری باری ایک دُوسرے کو اُن اچھی خوبیوں کے بارے بتا سکتے ہیں جو آپ ایک دُوسرے کے دِلوں میں دیکھتے ہیں۔
مزید تجاویز کے لیے، اِس ماہ کے فرینڈ رسالے کا شُمارہ دیکھیں۔