”ہماری زِندگیوں کی سچّائی،“ لیحونا، اگست 2025۔
ماہانہ لیحونا پیغام، اگست 2025
ہماری زِندگیوں کی سچّائی
ہمارے پیارے آسمانی باپ نے ہمارے ماضی، حال، اور مُستقبل کی سچّائیوں کو آشکار کِیا ہے، بشمُول تمام نعمتوں میں سے عظیم ترین نعمت کیسے حاصِل کی جا سکتی ہے۔
22 جنوری، 1833 کو کرٹ لینڈ، اوہائیو میں نیویل کے وِٹنی کے سٹور سے اُوپر ایک چھوٹے، تنگ کمرے میں، کلِیسیا کے ایلڈرز نبی جوزف سمِتھ کے ساتھ اِکٹھے ہُوئے۔ پچھلے سال دِسمبر میں، جوزف کو مُکاشفہ حاصِل ہُوا تھا جس میں اُسے بُنیادی طور پر بھائیوں کو مِشن کے لیے تیار کرنے کے لیے ایک سکُول قائم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
”مَیں تُمھیں حُکم دیتا ہُوں،“ خُداوند نے اِعلان فرمایا، ”کہ تُم ایک دُوسرے کو بادشاہی کی تعلیم دینا۔
”تُم جاں فِشانی سے تعلیم دو اور میرا فضل تُمھارے ساتھ ہو گا، تاکہ تُم عقیدے میں، اُصُول میں، سچّائی میں، اِنجِیل کے آئین میں، خُدا کی بادشاہی سے وابستہ ساری باتوں میں زیادہ کامِل طور سے ہدایت پاؤ، جنھیں سمجھنا تُمھارے لیے لازم ہے؛ …
”تاکہ تُم سب چیزوں میں مُستعِد ہو جاؤ جب تُمھیں جس بُلاہٹ کے لیے مَیں نے بُلایا ہے دوبارہ اُس بُلاہٹ کی بڑائی کے لیے مَیں تُمھیں بھیجُوں گا، اور اُس ذِمہ داری کے لیے جو مَیں نے تُمھیں سونپی ہے“ (عقائد اور عہُود 88:77–78، 80)۔
اِس ”اَنبیا کے سکُول،“ نے جیسے کہ اِسے کہا جاتا تھا، شاندار رُوحانی فیض فراہم کِیا۔ کلِیسیا کے بُہت سے اِبتدائی راہ نُماؤں کو وہاں تعلیم دی گئی۔ آج دُنیا بالکل مُختلف جگہ ہے، لیکن خُداوند نے جو ہدایت اُس وقت دی وہ اَب بھی ناقابلِ یقین حد تک قابلِ اِطلاق ہے۔ ہمیں، بھی، عِلم اور سچّائی کی تلاش کرنی چاہیے ”جیسے وہ ہیں، اور جیسے وہ تھیں، اور جیسے وہ ہوں گی“ (عقائد اور عہُود 93:24)۔
سچّائی کے لیے ہماری تلاش
اِس زمانے میں جس میں ہم رہتے ہیں، ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ عِلم و عِرفان مُیسر ہے۔ ماضی میں، اگر آپ کُچھ جاننا چاہتے تھے، تو آپ کو لائبریری میں جا کر اُسے ڈھُونڈنا پڑتا تھا۔ آج اِنٹرنیٹ اور دستی آلات ہمیں لَگ بھَگ بے اِنتہا معلُومات تک رسائی فراہم کرتے ہیں جو ہم تقریباً فوری طور پر تلاش کر سکتے ہیں۔
جب ہم اپنے دَستیاب وسائل کا دانِشمندانہ اِستعمال کرتے ہیں تو خُداوند شاد ہوتا ہے، لیکن اُس نے یہ لازوال مشورت فراہم کی ہے: ”تُم جاں فِشانی سے حِکمت کے عِلم کی جُستجُو میں رہو اور ایک دُوسرے کو سِکھاؤ؛ ہاں، تُم اعلیٰ کِتابوں میں سے حِکمت کی تعلیم کو تلاش کرو؛ سیکھنے کے مُشتاق رہو، یعنی مُطالعہ سے اور اِیمان سے بھی“ (عقائد اور عہُود 88:118)۔ وہ ہماری حوصلہ اَفزائی کرتا ہے کہ ہم اپنے اِرد گِرد کی دُنیا کے مُتعلق جانیں (دیکھیں عقائد اور عہُود 88:79؛ 93:53)، لیکن سچّائی کی ہماری تلاش میں، ہمیں خُدا کی طرف دیکھنا چاہیے، جس کو ”سب باتوں کا اِدراک ہے، اور سب چیزیں اُس کے حُضُور ہیں، … اور وہ سب چیزوں سے بالا ہے، … اور سب چیزیں اُس کے وسیلے سے ہیں، اور اُسی کی ہیں“ (عقائد اور عہُود 88:41)۔
جن سچّائیوں میں سے خُدا نے ہمیں نوازا ہے، اُن میں سے ایک جو ہماری زمین پر زِندگی کے لیے سب سے زیادہ بُنیادی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ہمارا آسمانی باپ ہے۔ ہم اُس کے رُوحانی بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ وہ ہمیں کامِل طور پر جانتا اور محبّت کرتا ہے۔ اور اُس کے رُوحانی بچّوں کی حیثیت سے، ہم اِلہٰی فِطرت اور تقدیر کے حامِل ہیں۔ اِن اَبَدی سچّائیوں کو سمجھنا اور اِن کو اپنانا ہمیں شناخت، قدر، اور مقصد فراہم کرتا ہے جس نے ہماری قبل اَز زمینی زِندگی میں ہمیں برکت اور ہدایت بخشی اور اَب اور ہمیشہ تک اَیسا کرنا جاری رکھے گا۔
ہم اِبتدا میں باپ کے ساتھ تھے
جب ہم چیزوں کی سچّائی کی تلاش کرتے ہیں ”جیسے وہ تھیں،“ تو ہمیں اپنے مُنّجی، یِسُوع مسِیح کے یہ الفاظ مِلتے ہیں: ”اور اَب، مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں، مَیں اِبتدا میں باپ کے ساتھ تھا، اور مَیں پہلوٹھا ہُوں،“ اور ”تُم بھی اِبتدا میں باپ کے ساتھ تھے“ (عقائد اور عہُود 93:21، 23)۔
زمین پر ہماری زِندگی سے پہلے، ہم آسمان پر ایک مجلس میں شامِل ہُوئے جہاں ہمارے آسمانی باپ نے خُوشی کا عظیم منصُوبہ پیش کِیا۔ نبی جوزف سمِتھ نے سِکھایا کہ خُدا کے اپنے منصُوبے کے لیے ترغیب یہ ہے کہ ہمیں ”اپنی مانند آگے بڑھنے کا اعزاز بخشے [اور] … اُس کے ساتھ سرفرازی پائیں۔“ اُس کا اَمر اور جلال یہ ہے کہ ”اِنسان کی لافانی اور اَبَدی زِندگی کا سبب پَیدا کرے“ (مُوسیٰ 1:39)۔
ہم نے اپنی خُود مُختاری کا اِستعمال کِیا اور آسمانی باپ کے منصُوبے پر عمل کرنے کا اِنتخاب کِیا۔ ہمیں اِس زِندگی میں پیدا ہونے کی برکت مِلی ہے، جہاں ہم مُختاری حاصِل کرنا جاری رکھیں گے اور ہم فانیت کا تجربہ کر سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں، اور اَبَدی زِندگی کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
اپنے فانی سفر کے دوران میں، ہم چنوتیوں اور مُشکلات کا تجربہ کریں گے۔ مگر ہمیں زِندگی کی مُصیبتوں کا اکیلے سامنا کرنے کی ضرُورت نہیں ہے۔ جوزف سمِتھ نے سِکھایا کہ آسمانی باپ، ”کائنات کا عظیم باپ[،] پُوری نسلِ اِنسانی کو باپ جیسی شفقت اور پِدرانہ دیکھ بھال سے دیکھتا ہے۔“
ہمارا آسمانی باپ، ”رحمتوں کا باپ، اور ہر طرح کی تسلّی کا خُدا،“ ہمیں برکت دے گا، ہمیں اُٹھائے گا، اور ہمیں تسلّی بخشے گا ”ہماری سب مُصیبتوں میں، تاکہ ہم اُس تسلّی کے سبب سے جو خُدا ہمیں بخشتا ہے، اُن کو بھی تسلّی دے سکیں جو کسی طرح کی مُصیبت میں ہیں“ (2 کرنتھیوں 1:3–4)۔ اپنے منصُوبے کے لازمی حِصّہ کے طور پر، آسمانی باپ نے ہمارے لیے اپنی طرف لوٹنے کی راہ مُہیا کی ہے۔
ہمارے باپ کی طرف راہ
باتوں کی بابت سچّائی ”جیسے وہ اَصل میں ہیں“ (یعقُوب 4:13) واضح ہے: ہم صِرف اپنے آسمانی باپ کے بچّوں کی حیثیت سے اپنی پُوری صلاحیت تک نہیں پُہنچ سکتے۔ یِسُوع مسِیح، رُوح میں باپ کے پہلوٹھے بیٹے نے، ہمارا نجات دہندہ اور مُخلصی دینے والا بننے کا عہد کِیا۔
یِسُوع مسِیح، ”باپ کا اِکلوتا، فضل اور سچّائی سے بھرا، یعنی سچّائی کے رُوح سے، … جو آیا اور مُجسم ہُوا، اور ہمارے درمیان رہا“ (عقائد اور عہُود 93:11)۔ وہ ہمیں اِس زِندگی اور اَبَدیت میں خُوشی، مقصد، اور شادمانی تلاش کرنے کی راہ دِکھلانے آیا تھا۔
”کِیُونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی محبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بَیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔
”کِیُونکہ خُدا نے بَیٹے کو دُنیا میں اِس لیے نہیں بھیجا کہ دُنیا پر سزا کا حُکم کرے بلکہ اِس لیے کہ دُنیا اُس کے وسِیلہ سے نِجات پائے“ (یُوحنّا 3:16–17)۔
نجات دہندہ کا زمینی تجربہ اَہم ہے۔ اُس نے ”پہلے مَعمُوری نہ پائی، مگر فضل پر فضل پایا“ (عقائد اور عہُود 93:12)۔ وہ اُس وقت تک بڑھتا گیا جب تک ”اُس نے باپ کے جلال کی مَعمُوری پائی“ اور ”دونوں آسمانوں اور زمین میں، ساری قُدرت پائی، اور باپ کا جلال اُس کے ساتھ تھا، کیوں کہ وہ اُس میں بستا تھا“ (عقائد اور عہُود 93:16–17)۔ نجات دہندہ نے سِکھایا:
”اور یہ باتیں مَیں تُجھے اِس لیے دیتا ہُوں کہ تُو جانے اور سمجھے کہ کیسے عِبادت کرنا ہے، اور جان لے کہ تُجھے کس کی عِبادت کرنا ہے، تاکہ تُو باپ کے پاس میرے نام سے آئے، مُقررہ وقت میں اُس کی مَعمُوری پائے۔
”کیوں کہ اگر تو میرے اَحکام پر عمل کرے گا تو اُس کی مَعمُوری پائے گا، اور مُجھ میں پُرجلال ہو گا جیسا مَیں باپ میں ہُوں؛ پَس، مَیں تُم سے کہتا ہُوں، تُم فضل پر فضل پاؤ گے“ (عقائد اور عہُود 93:19–20)۔
گتسِمنی باغ میں اور صلیب پر، یِسُوع مسِیح نے دُنیا کے گُناہ اپنے اُوپر لے لِیے اور ”ہر قسم کے دُکھوں اور مُصیبتوں اور آزمایشوں“ کو برداشت کِیا (ایلما 7:11)۔ اِس نے ”[اُس]، … یعنی خُدائے عظیم و برتر، کو درد سے لرزا دِیا، اور ہر مسام سے خُون بہایا“ (عقائد اور عہُود 19:18)۔ فقط یِسُوع مسِیح اور اُس کے کفّارے اور جی اُٹھنے کے وسیلے سے ہی نجات اور سرفرازی مُمکن ہے۔
نجات دہندہ کے فضل اور کفّارہ بخش قُربانی کے وسیلے سے، ہم بڑھ سکتے ہیں جب تک کہ ہم مَعمُور نہ ہوں اور ایک دِن کاملیت تک پُہنچ سکتے ہیں۔ اگر ہم نجات دہندہ کی مِثال کی پیروی کریں گے اور اُس کے اَحکام کی فرماں برداری کریں گے، تو وہ ہمارے آسمانی باپ کی پُرجلال حُضُوری میں واپس جانے کے راستے پر ہماری راہ نُمائی اور قیادت کرے گا۔
یرُوشلیم کی راہ پر مسِیح، اَز مائیکل کولمن، نقل نہیں کی جا سکتی
کیا آپ اُس کی نعمت حاصِل کریں گے؟
چیزوں کی سچّائیوں کے درمیان ”جیسے وہ اَصل میں ہوں گی“ (یعقُوب 4:13)، ہم سیکھتے ہیں کہ اَبَدیت میں ہمارا تجربہ یِسُوع مسِیح کی پیروی کرنے اور اُس کے پیش کردہ اِنعامات کو حاصِل کرنے کے اِنتخاب سے طے کِیا جائے گا۔ صحائف سِکھاتے ہیں کہ ہم ”اُس مَسرت کو پائیں گے جو [ہم] پانے کے لیے آمادہ ہیں۔“ افسوس سے، کُچھ لوگ ”آمادہ نہ تھے کہ اُس مَسرت کو پائیں جو وہ پا سکتے تھے“ (عقائد اور عہُود 88:32)۔
میرے صدرِ مِشن، ایلڈر میریون ڈی ہینکس (1921–2011)، جنھوں نے ستّر کے اعلیٰ حُکام کے طور پر خِدمت کی، اپنے مِشنریوں کو سِکھایا کہ جس چیز کو ہم پانے اور لُطف اَندوز ہونے کے لیے آمادہ ہیں ایک طریقہ ہے جس سے ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہم اپنے رُوحانی سفر میں کہاں ہیں۔ ”پَس اِس سے آدمی کو کیا فائدہ کہ اُسے اِنعام بخشا جائے اور وہ اُس اِنعام کو قَبُول نہ کرے؟“ جب ہم خلُوصِ دِل سے نجات دہندہ کی نعمتیں مانگنے اور اُس کی پیروی کرنے سے پاتے ہیں، تو ہم اَبَدی زِندگی کی اُمید میں شادمان ہوں گے اور ”اُس میں جو [اُس] اِنعام کا دینے والا ہے“ (عقائد اور عہُود 88:33)۔ یہ محبّت سے دِیا گیا اِنعام ”خُدا کی سب نعمتوں میں سے اعلیٰ و اَرفع نعمت ہے“ (عقائد اور عہُود 14:7)۔
خُدا ہمارا آسمانی باپ ہے۔ وہ ہمیں جانتا اور محبّت کرتا ہے۔ جب ہم سچّائی کی تلاش میں اُس کی طرف رُجُوع کرتے ہیں، تو ہم فہم سے جُڑے رہ سکتے ہیں، حِکمت پا سکتے ہیں، سچّائی کو قبول کر سکتے ہیں، پاکیزگی کو پیار کر سکتے ہیں، اور نُور سے جُڑے رہتے ہیں جو اُس کی طرف سے آتا ہے (دیکھیں عقائد اور عہُود 88:40)۔ پھر ہم اپنی زِندگیوں میں اُس وقت تک جاری رہتے ہیں جب تک کہ وہ دِن آتا ہے جب [ہم] خُدا کو قبُول کریں گے، کیوں ہم اُس میں اور اُس کے وسیلے سے جِلائے جاتے ہیں“ (عقائد اور عہُود 88:49)۔
یہ اِنتہائی پُرجلال اور پُرمَسرت دِن ہو گا۔
© 2025 by Intellectual Reserve, Inc. All rights reserved. یُو ایس اے میں چھپا۔ منظُوری برائے انگریزی: 19/6۔ منظُوری برائے ترجمہ: 19/6۔ ترجمہ برائے Monthly Liahona Message, August 2025. Urdu. 19613 434