کرسمس کی عِبادات
کرِسمس کا جشن منانا


14:2

کرِسمس کا جشن منانا

صدارتِ اوّل کی کرِسمس کی عِبادت 2024

اِتوار، 8 دِسمبر، 2024

میرے پیارے بھائیو اور بہنو، ہم نے بہن رُونیا، ایلڈر پالمر، اور ایلڈر کُک کے زبردست پیغامات سُنیں ہیں جن سے ہمیں بے حد برکت مِلی ہے۔ مُجھے خُوشی ہے کہ مَیں اُن باتوں کو دوبارہ پیش کر رہا ہُوں جو اُنھوں نے پہلے ہی بیان کی ہیں۔

کرِسمس سال کا شان دار تہوار ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے مُنّجی کی وِلادت کا جشن مناتے ہیں، تو ہمارے دِل زِندگی کی سب سے اَہم باتوں کی طرف مبذُول ہو جاتے ہیں۔ کرِسمس ہمیں اُن قُربانیوں کا گہرا شعور بخشتا اور زیادہ شُکرگُزار بناتا ہے جو ہمارے واسطے دی گئی ہیں۔

کرِسمس ہمیں ایک دُوجے کی بابت سوچنے کی یاد دِلاتا ہے۔ ہم اپنے اہل و عیال کو مزید سراہتے ہیں۔ ہم پُرانے دوستوں سے روابط تازہ کرتے ہیں۔ ہم اُن رُکاوٹوں کو عُبور کر لیتے ہیں جو سال کے باقی دِنوں میں ہمیں ایک دُوسرے سے جُدا رکھتی ہیں۔ اَجنبی بِلا جھجک ایک دُوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ شفقت اور خیال رکھنے کا جذبہ دوبارہ اپنا رنگ جمانا شُروع کرتا ہے۔ کرِسمس کا جذبہ ہمارے باطن کا بہترین پہلُو اُجاگر کرتا ہے۔

کرِسمس کی گرم جوشی اور روشنی دَراَصل مسِیح کا نُور ہے۔ جیسے کہ ہم جدید صحائف میں پڑھتے ہیں، نجات دہندہ ”حقیقی نُور ہے جو ہر شخص کو مُنوّر کرتا ہے جو اِس دُنیا میں آتا ہے۔“ سب جو وِلادت المسِیح کا جشن مناتے ہیں—سب جو ”کرِسمس کی رُوح“ رکھتے ہیں—اُن کے اندر اُس نُور کا کُچھ حِصّہ شامِل ہوتا ہے۔

ایک اَرب سے زائد لوگ کرِسمس کی اِس رُت میں یِسُوع مسِیح کی پَیدایش کا جشن منائیں گے۔ سارے عالم کو اَیسا کرنا بھی چاہیے۔ دُنیاوی طور پر بھی، یِسُوع ناصری سب سے عظیم ترین شخصیت ہے جس نے کبھی اِس زمین پر قدم رکھا۔ وہ 6000 سال سے زائد عرصے تک نبیوں اور شاعروں کا مرکزی موضُوع رہا ہے۔ وہ دُنیا کی سب سے عظیم موسیقی اور فن پاروں کا مرکز ہے۔ وہ سب سے عظیم مُعلم ہے جو کبھی اِس دُنیا میں آیا۔ سب سے اَہم بات یہ ہے، کہ وہ خُدا اَبَدی باپ کا اِکلوتا بیٹا ہے۔ وہ خُدا ہے جس کے سامنے ہر گھُٹنا جھُکے گا اور ہر زُبان اِقرار کرے گی کہ وہ ہمارا خالِق اور فِدیہ دینے والا، نجات دہندہ اور اِس دُنیا کا خُدا ہے۔

”آدمیوں میں، اَمن اور صُلح“ کرِسمس کا پیغام ہے۔ یہ وہ غالِب موضُوع ہے جو شاعروں اور موسیقاروں نے اپنی تخلیقات میں پیش کِیا اور ہمیں کرِسمس کی جلالی موسیقی بخشی۔ ہمیں کرِسمس کے گیت نہایت پسند ہیں جو اِس موضُوع کی گُونج بن کر سُنائی دیتے ہیں۔

دُور، بُہت دُور یہُودیہ کے میدانوں میں،

قدیم چرواہوں نے سُنے خُوشی کے ترانے:

خُدا کی تمجید ہو، خُدا کی تمجید ہو،

عالمِ بالا میں خُدا کی تمجید ہو؛

زمین پر آدمیوں میں، جن سے وہ راضی ہے صُلح ہو؛

زمین پر آدمیوں میں، جن سے وہ راضی ہے صُلح ہو!

اِس جیسے الفاظ، جو ہمارے تہوار کی تقریبات میں بارہا گائے جاتے ہیں، ہمیں یاد دِلاتے ہیں کہ کرِسمس کے جشن اور نغموں میں کوئی چیز نئی نہیں ہے۔ پیغام قدیم اور معرُوف ہے۔ یہ آدم کو سُنایا گیا تھا۔ اِس کی مُنادی بنی اِسرائیل کو سُنائی گئی تھی۔ اِس کی باپ لِحی کی اولاد کے درمیان مُںادی کی گئی تھی۔ بار بار، اَنبیا نے یِسُوع مسِیح کے کفّارے کی مرکزی سچّائیوں کو بیان کِیا تھا۔ بار بار، اُنھوں نے اُس کے حُکم کا اِعلان کِیا کہ ہم اُس سے محبّت رکھیں اور اُس کی خِدمت کریں اور ایک دُوسرے سے بھی محبّت رکھیں اور اُن کی خِدمت کریں۔ اور، اُس نے مزید فرمایا، ”اگر تُم مُجھ سے محبّت رکھتے ہو، تو میرے حُکموں پر عمل کرو۔“ یہ اِعلانات جو صدیوں سے دہرائے جاتے ہیں، تمام اَبَدیت کے سب سے اَہم پیغامات ہیں۔ یہ ہمارے واسطے ہیں، ہمارے فائدے کے لیے۔

زِندگی کی سب سے اَہم باتیں بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ ہم کبھی اپنے نجات دہندہ کے مُقدّس نام کو سُننے سے نہیں تھکتے۔ ہم کبھی اپنے پیاروں کی رفاقت سے نہیں تھکتے۔ ہم کبھی ”مَیں تُم سے محبّت کرتا ہُوں“ سُننے سے نہیں تھکتے۔

اِسی واسطے کرِسمس کا بار بار دہرایا جانے والا پیغام تبدیل ہونے والا پیغام نہیں، بلکہ ایسا پیغام ہے جس کی ہماری زِندگیوں میں تجدید کی جانی چاہیے۔

II۔

اپنے بچپن کے وقت سے ہی، ہم میں سے ہر ایک جانتا ہے کہ کرِسمس خاندانوں اور دوستوں کے درمیان تحائف دینے کا وقت ہے۔ یہ اپنے پیاروں کے ساتھ خصُوصی شفقت کا وقت ہوتا ہے۔ مگر کرِسمس پر دینے کا رُوح ہمیں اپنے خاندان اور دوستوں کے دائرے سے بڑھا کر دُوسروں تک پھیلانا چاہیے۔ آج، ہمارے نوجوانوں کو کورم، کلاسوں اور دیگر کلِیسیائی گروہوں کے ذریعے ہسپتالوں، نرسنگ ہومز، گوشہ نشینوں اور دیگر ضرُورت مندوں کو کرِسمس کے تُحفے دے کر یاد رکھنے کا مُنفرد تجربہ حاصِل ہوتا ہے۔ اَن گِنت کرِسمس کی راتوں میں، بھلے مَرد و خواتین، غم زدہ والدین کی حالتِ زار کو جان کر، کھِلونے، کھانے اور مِٹھائیاں لے کر آتے ہیں تاکہ معصُوم، بھروسا مند بچّے کرِسمس کی صُبح شادمانی سے یاد کِیے جانے کا احساس حاصل کر سکیں۔ ہزاروں عظیم مَرد و خواتین کرِسمس کے خیراتی کاموں میں اپنے وسائل کو یک جا کرتے ہیں تاکہ بھُوکوں کو کھانا، غریبوں کو کپڑے، بے گھروں کو گھر، بیماروں اور فَراموش اَفراد کی عیادت، اور بچّوں کو خُوشی فراہم کی جا سکے۔ خُدا اِن مددگار ہاتھوں کو اپنی برکت سے نوازے! ہم سب کو اِن کی حمایت کرنی چاہیے۔ جو لوگ محبّت اور بے غرضی سے خِدمت کرتے ہیں وہ اَمن کے شہزادے کے حقیقی خادِم ہیں۔

III۔

”زمین پر آدمیوں میں، جن سے وہ راضی ہے صُلح ہو“ کا کیا مطلب ہے؟ ”اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبّت … رکھو،“ یہ تعلیم سب سے پہلے نجات دہندہ نے دی۔ اُس نے یہاں تک سِکھایا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم ”[اپنے] دُشمنوں سے محبّت رکھیں، جو [ہم] پر لعنت کریں اُن کے لیے برکت چاہیں، جو [ہم] سے نفرت کرتے ہیں اُن سے نیکی کریں، اور جو [ہمارے] ساتھ بدسلُوکی کرے اور [ہمیں] ستائے، اُن کے لیے دُعا کریں۔“

جب ہم اِن تعلیمات میں بیان کردہ مقصد کے لیے کوشِش کرتے ہیں، تو کرِسمس مُعاف کرنے کا وقت ہے، پُرانے زخموں کی شِفا کا وقت اور بِگڑے ہُوئے رِشتوں کو بحال کرنے کا وقت بھی ہے۔

اِقتباس: ”پس، مَیں تُم سے کہتا ہُوں، کہ تُمھیں ایک دُوسرے کو مُعاف کرنا لازِم ہے، کیوں کہ جو اپنے بھائی کے قصور مُعاف نہیں کرتا وہ خُداوند کے حُضُور مُجرم ٹھہرایا جاتا ہے؛ کیوں کہ اِس میں اُس کا گُناہ بڑا ہے۔

”مَیں، خُداوند، جِسے مُعاف کرنا چاہُوں مُعاف کروں گا، مگر تُمھارے لیے تمام آدمیوں کو مُعاف کرنا ضرُوری ہے۔“

لہٰذا، کرِسمس ایسا وقت ہے جب ہمیں محبّت اور دوستی کے معمُول کے بندھنوں سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو دُوسروں کے واسطے پیش کرنا چاہیے۔ ”زمین پر آدمیوں میں، جن سے وہ راضی ہے صُلح ہو“ فقط اُن کے لیے پیغام نہیں ہے جن کے ساتھ ہم پہلے ہی محبّت اور ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں، جیسے کہ ہماری کلِیسیا یا قوم کے ہم وطن، ہمارے شہر یا مُحلے کے باشندے، یا مُشترک ثقافت رکھنے والے لوگ۔ اُس آسمانی لشکر نے اِعلان کِیا کہ یہ صُلح سب آدمیوں کے لیے ہے—یعنی عام دوستوں، اَجنبیوں، حتیٰ کہ دُشمنوں کے لیے بھی۔ کرِسمس یہ یاد رکھنے کا وقت ہے کہ ہم سب آسمانی باپ کے بچّے ہیں، جِس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ سب موت سے بچائے جائیں۔ ہمارے آسمانی باپ نے تمام نوعِ اِنسانی کو نجات اور اِقبال مندی کی برکات یکساں شرائط پر پیش کی ہیں: یعنی خُداوند، یِسُوع مسِیح پر اِیمان؛ توبہ؛ بپتِسما؛ اور اِنجِیل کے قوانین و رُسُوم کی پیروی۔

IV۔

کرِسمس کی رُوح ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ ہم اِس تہوار کو اپنے آپ کو تمام نسلوں، عقائد اور قومی پسِ منظر کے لوگوں کے درمیان رُکاوٹوں کو عُبور کرنے اور محبّت و فہم کو فروغ دینے کے لیے اِستعمال کریں۔ چاہے مُقدّسِینِ آخِری ایّام یُوٹاہ میں اَکثریت میں ہوں، یا دُنیا کے دیگر حِصّوں میں اَقلیت میں، ہمیں خُدا کے تمام بیٹوں اور بیٹیوں تک پُہنچنے کی کوشِش کرنی چاہیے۔ ہمیں تمام اَفراد، چاہے وہ ہمارے اِیمان سے وابستہ ہوں یا نہ ہوں، دِل سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے۔ ہمیں اُس حُکم پر عمل کرنا چاہیے جو خُدا نے مُوسیٰ نبی کے ذریعے بنی اِسرائیل کو دِیا تھا:

”اور اگر کوئی پردیسی تیرے ساتھ تیرے مُلک میں بُود و باش کرتا ہو، تو تُم اُسے آزار نہ پُہنچانا۔ بلکہ جو پردیسی تُمھارے ساتھ رہتا ہو اُسے دیسی کی مانند سمجھنا، بلکہ تُو اُس سے اپنی مانِند محبّت کرنا۔“

ہم اپنے بچّوں کو سِکھائیں کہ وہ بھی سب کے ساتھ مہربان اور مِلنسار ہوں۔ مُجھے افسوس ہوتا ہے جب بھی مَیں اِس کمیونٹی میں غیر مُقدّسِینِ آخِری ایّام والدین کے بارے میں سُنتا ہُوں جو اِس وجہ سے غمگین ہوتے ہیں کہ اُن کے بیٹے اور بیٹیوں کو ہمارے ارکان بچّوں یا نوجوانوں نے نظرانداز یا الگ تھلگ کر دِیا ہے۔ مَیں اُمید کرتا ہُوں کہ اَیسی مِثالیں شاذ و نادِر اور کم ہوتی جائیں۔ ہم جہاں بھی ہوں سب لوگوں کے ساتھ دوستانہ اور سب سے زیادہ مِلنسار ہوں۔

بِلاشُبہ، ہمیں، ایسی صُحبتوں اور تعلقات کو ختم کرنا چاہیے جو ہمارے طرزِ عمل پر سمجھوتہ کرواتے یا ہمارے اِیمان اور عِبادت کو مُتاثر کرتے ہیں۔ لیکن اِس قِسم کی علیحدگی ہمیں دُوسروں کی اَہمیت کو نظر انداز کرنے سے آزاد نہیں کرتی۔ اور نہ ہی یہ ہمیں اُن بے شُمار صُحبتوں سے جُدا کرتی ہے جو مُشترکہ مفادات کے وسیع دائرے میں تعاون کی ضرُورت رکھتی ہے جس میں تمام لوگ شامِل ہیں۔

جس رُوح کے ساتھ ہمیں ”زمین پر آدمیوں میں، جن سے وہ راضی ہے صُلح ہو“ کا پیغام قبُول کرنا چاہیے وہ دُوسروں کی خِدمت میں خُود کو پیش کرنے کی رُوح ہے۔ جس طرح کرِسمس اُس ذات کے جنم کا جشن مناتا ہے جس نے ہم سب کے واسطے اپنی جان دے دی، ویسے ہی ہمیں کرِسمس کو ایک موقع کے طور پر اِستعمال کرنا چاہیے تاکہ اپنے ہم عصروں کو دینے کے طریقوں میں بہتری لائیں۔

جب ہم اَیسا کریں گے—جب کرِسمس کی دینے والی رُوح ہمارے خیالات اور اَعمال میں رَچ بس جائے گی—تو ہم میں سے ہر ایک ”زمین پر آدمیوں میں، جن سے وہ راضی ہے صُلح ہو“ کے اَبَدی مقصد میں اپنا حِصّہ ڈالے گا۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب اَیسا کریں، چُوں کہ ہر دِن ہمیں خُداوند کی آمدِ ثانی کے قریب تر لا رہا ہے۔ جیسا کہ صدر رسل ایم نیلسن نے گُزشتہ اکتوبر کی مجلسِ عامہ میں ہمیں سِکھایا کہ، اِقتباس، ”عُمدہ چِیزوں کا آنا اَبھی باقی ہے کیوں کہ خُداوند اپنے کام میں تیزی لا رہا ہے۔ عُمدہ چِیزوں کا ابھی آنا باقی ہے جب ہم اپنے سارے دِل اور اپنی ساری زِندگی پُورے طور پر یِسُوع مسِیح کی طرف پھیرتے ہیں۔“ خاتمہِ اِقتباس۔

اَبھی مَیں ”زِندہ مسِیح :رسُولوں کی گواہی۔“ سے اِقتباس پیش کرُوں گا۔ اِس میں بیان ہے، اِقتباس:

”یِسُوع مسِیح کی پَیدایش کے دو ہزار سال گُزر جانے کی یادگاری مناتے ہُوئے، ہم اُس کی بے نظیر زِندگی اور عظیم کفّارہ بخش قُربانی کی لامحدُود قُدرت کی گواہی پیش کرتے ہیں۔ وہ تمام جو اِس زمین پر بَسیرا کر چُکے ہیں یا کریں گے اِتنا گہرا اَثر نہ کِسی اور کا تھا نہ ہی ہو سکتا ہے۔“

اِقتباس جاری رکھتے ہُوئے، ”ہم باضابطہ گواہی دیتے ہیں کہ اُس کی زِندگی، جو کہ تمام تاریخِ اِنسانی کا مرکز ہے، نہ تو بیت لحم میں شُروع ہُوئی اور نہ کلوری پر ختم ہوئی۔ وہ باپ کا پہلوٹھا، جِسم کے لحاظ سے اِکلوتا بیٹا، جہان کا مُخلصی دینے والا تھا۔ …

”ہم نہایت سنجیدگی سے اِعلان کرتے ہیں کہ اُس کی کہانت اور اُس کی کلِیسیا زمِین پر بحال ہو چُکی ہے—’اور رَسُولوں اور نبیوں کی نِیو پر … جِس کے کونے کے سِرے کا پتھر خُود مسِیح یِسُوع ہے، تعمیر کی گئی ہے۔‘“

اِقتباس جاری رکھتے ہُوئے، ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ ایک دِن زمِین پر واپس آئے گا۔ ’خُداوند کا جلال آشکارا ہو گا، اور تمام بشر اُس کو دیکھے گا۔‘“ خاتمہِ اِقتباس۔ ”اور وہ بادِشاہوں کے بادِشاہ اور خُداوندوں کے خُداوند کی حیثیت سے حُکُومت کرے گا، اور ہر ایک گُھُٹنا جُھکے گا اور ہر ایک زُبان اُس کی پرستِش کرے گی۔

”اُس کے باضابطہ مُقرر شُدہ رَسُولوں کی حیثیت سے—ہم گواہی دیتے ہیں، کہ—یِسُوع زِندہ مسِیح، خُدا کا لافانی بیٹا ہے۔ وہ عظیم بادِشاہ عمانُوایل ہے، جو آج اپنے باپ کے دہنے ہاتھ کھڑا ہے۔“ مَیں دوبارہ اِقتباس پیش کر رہا ہُوں، ”وہ دُنیا کا نُور، زِندگی، اور دُنیا کے لیے اُمید ہے۔ اُس کا طریق وہ واحد راستہ ہے جو اِس زِندگی میں خُوشی اور آئندہ دُنیا میں اَبَدی زِندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ اُس کے اِلہٰی بیٹے کی بے مِثل نعمت کے لیے خُدا کا شُکر ہو۔“

یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔