بچّہ یِسُوع آپ کے لیے تولُّد ہُؤا
صدارتِ اوّل کی کرِسمس کی عِبادت 2024
اِتوار، 8 دِسمبر، 2024
ہم کتنے خُوش قسمت ہیں کہ ہم ایسی خوبصورت موسیقی سُنتے ہیں؟ اِس كوائر، آرکیسٹرا اور کنڈکٹرز کا بُہت بُہت شُکریہ۔ مَیں آپ کو اِن درختوں کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی، لیکن مَیں جانتی ہوں کہ آپ وہاں موجود ہیں۔
”پاک شِیر خوار، عاجز شِیر خوار“ میرے پسندیدہ کرسمِس کیرلز میں سے ایک ہے۔
گَلّے ہیں محوِ نیند، گڈریے معمورِ رکھوالی
صُبحِ نو تک بالکل بیدار؛
دیکھا جلال، سُنی کہانی
سچّی اِنجیل کی بشارت۔
پس خُوش ہوتے، غم سے آزاد،
ثنا کی آوازیں، کل کو پیش کرتی سلام،
بچّہ یِسُوع آپ کے لیے تولُّد ہُؤا۔
بچّہ یِسُوع آپ کے لیے تولُّد ہُؤا!
ایک چھوٹی سی لڑکی کے طور پر، میرے والدین نے میرا لاڈ پیار کا نام ”ٹیمی لیمب،“ رکھا، لہٰذا جب صحیفوں میں چرواہے اور اُس کے برّوں کے بارے میں بات کی جاتی تھی، تو مُجھے ہمیشہ محسُوس ہوتا تھا کہ وہ مُجھ سے بات کر رہے ہیں۔
یہ خاص طور پر کرسمس کی کہانی اور چرواہوں پر ظاہر ہونے والے فرشتوں کے بارے میں سچ تھا، جو رات کو اپنے گَلّوں، اپنے برّوں کی نگہبانی کرتے تھے۔ مَیں نے خُود کو وہاں تَصّور کیا اور گمان کِیا کہ چرنی میں بچّے کے پاس جانا کیسا ہوگا۔ مَیں اب بھی ہر سال اِن تَصّورات کو پسند کرتی ہُوں جب مَیں اُس کی پیدائش پر غور کرتی ہُوں۔
ایک اور پسندیدہ تَصّور ایلڈر جان آر لاسیٹر کی بیان کردہ کہانی سے آتا ہے۔
بُہت سال پہلے، ایلڈر لاسیٹر نے ایک سرکاری رسمی وفد کے حصے کے طور پر افریقہ کے ایک مُلک کا دورہ کیا تھا۔
ایک دِن، جب وہ صحرا میں کالی لیموزینوں کے قافلے میں سفر کر رہے تھے تو ایک حادثہ پیش آیا۔ جِس گاڑی میں وہ تھے وہ پہاڑی پر چڑھ گئی، اور اُنھوں نے دیکھا کہ آگے والی گاڑی سڑک سے اُتر گئی ہے۔ اُنھوں نے كہا، ”ہمارے ساتھ پیش آنے والا منظر اِتنے سالوں سے میرے ساتھ رہا۔“
ایک بوڑھا چرواہا، نِجات دہندہ کے دور کے لمبے ڈھیلے ڈھالے چوغے میں، لیموزین کے پاس کھڑا ڈرائیور سے بات کر رہا تھا۔ قریب ہی تقریباً 15 بھیڑوں کا ایک چھوٹا سا ریوڑ کھڑا تھا۔
ایلڈر لاسیٹر كے ڈرائیور نے وضاحت کی کہ راہنُمائی کرنے والی گاڑی نے ایک بھیڑ کو ٹکر مار کر زخمی کر دیا تھا۔ اور چونکہ یہ بادشاہ کی گاڑی تھی، تو چرواہا چھوٹے بّرے کے بھر پور جوان ہونے پر اُس کی ملنے والی قیمت کے 100 گُنا کا حقدار تھا۔ لیکن اُسی قانون کے تحت، برّے کو ذبح کیا جائے گا اور گوشت کو لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
پھر ڈرائیور نے کہا، ”مگر صرف غور کریں، بوڑھا چرواہا پیسے نہیں لے گا؛ وہ کبھی نہیں لیتے۔“ جب پوچھا گیا كیوں، اُس نے مزید كہا، ”اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی ہر بھیڑ سے پیار کرتا ہے۔“
وہ دیکھ رہے تھے کہ بوڑھا چرواہا زخمی بّرے کو اپنی گود میں اٹھائے، اور اُسے اپنے چوغے میں لپیٹے ہوئے نیچے آ رہا ہے۔ وہ برّے کو پیار سے تھپ تھپا رہا تھا، ایک ہی لفظ کو بار بار دہراتا رہا، اور جب ایلڈر لاسیٹر نے اُس لفظ کا مطلب پوچھا، تو اُنھیں بتایا گیا، ”اوہ، وہ اُس کا نام پُکار رہا ہے۔ اُس کی تمام بھیڑوں کے نام ہیں، کیونکہ وہ اُن کا چرواہا ہے، اور اچھے چرواہے اپنی ہر بھیڑ کو نام سے جانتے ہیں۔“
یسعیاہ میں ہمیں وعدہ كِیا گیا ہے، ”وہ برّوں کو اپنے بازُوؤں میں جمع کرے گا اور اپنی بغل میں لے کر چلے گا۔“
اگر ہمیں اِس کرسمس كے موقع پر کچھ بھی یاد كرنا ہے یا کچھ محسُوس كرنا ہے، تو وہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم اُس کے ہیں۔ یاد ہے جب مسِیح نے پطرس سے کہا، ”میرے برّے …میری بھیڑیں چرا“؟
”کہ آج داؤد کے شہر میں تُمھارے لیے ایک مُنّجی پَیدا ہُوا ہے، یعنی مسِیح خُداوند۔“
”کیوں کہ ہمارے لِئے ایک لڑکا تولُّد ہُؤا، اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا۔“
وہ ہم میں سے ہر ایک کو ذاتی طور پر اُٹھانے کے لئے پیدا ہُوا تھا۔ اور اگر وہ کِسی کا بھی ہے، تو یقیناّ آپ کا ہے۔ بچّہ یِسُوع آپ کے لیے تولُّد ہُؤا۔
لیکن یسعیاہ خبردار بھی کرتا ہے، ”ہم سب بھیڑوں کی مانِند بھَٹک گئے۔“ ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ایسی جگہ پر رہا ہو جہاں ہم نے ایک بھَٹکے ہوئے برّے یا شاید گُمشدہ بھیڑ کی طرح محسُوس کیا ہو۔ آج رات، مَیں عرض کرتی ہُوں کہ ہم سب زخمی برّے ہیں جنہیں اچھے چرواہے کی ضرورت ہے، جو ہمیں اپنی مُحبّت کے بازوؤں میں جھُلائے گا۔ کیونکہ فانی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے آس پاس ایسی چیزیں ہیں جو شکست و ریخت محسُوس کرتی ہیں، جنہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور مجھے نہیں لگتا کہ میرے ہفتے میں اِتوار كے علاوہ کوئی ایسا وقت آتا ہے جب مُجھے عشائے ربّانی کے دَوران میں نجات دہندہ کی شِدّت سے ضرورت محسُوس ہوتی ہے۔ مَیں اپنا شکِستہ دِل پیش کرتی ہوں اور الفاظ اور علامات پر غور کرتی ہوں اِس ”روُحانی تجدید کے وقت۔“ لیکن کبھی کبھار ایک ایسا كمزور لمحہ آتا ہے جب پچھلے ہفتے کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے اِحساس ہوتا ہے کہ یہ وہی گناہ ہیں، وہی کمزوری جس کے بارے میں مَیں گزشتہ اتوار کو سوچ رہی تھی۔ اور مَیں واقعی پشیمان یا شکستہ محسُوس کرتی ہُوں۔
کیا آپ اِس لمحے کو جانتے ہیں؟
مَیں آج آپ کو کچھ نیا کرنے کی کوشش کرنے کی دعوت دیتی ہُوں۔ اپنے پورے ہفتے کے اُن مقدس ترین لمحات میں، اگر آپ خود کو شکستہ محسُوس کر رہے ہیں، تو تَصوّر کریں کہ وہ آپ کو نام سے پُکار رہا ہے، اور اُس کے پاس جائیں۔ اپنے نجات دہندہ کو اپنے ذہن کی آنکھ سے، اُس کے کھلے اور آپ کی طرف بڑھائے ہوئے بازوؤں کے ساتھ، یہ کہتے ہوئے دیکھیں، ”مَیں جانتا تھا کہ تُم ایسا محسُوس کرو گے! یہی وجہ ہے کہ مَیں زمین پر آیا اور جو کُچھ ہُوا اُس كو سہا۔“ اُس کی مدد، اُس کا فَضل ابھی آپ کے لئے دستیاب ہے، راستے کے آخر میں نہیں جب آپ محسُوس کرتے ہیں کہ چیزیں مکمل طور پر درست ترتیب میں ہیں۔ کیونکہ کون ایسا محسُوس کرتا ہے؟ میرے جاننے والوں میں سے کوئی بھی نہیں۔
یاد رکھیں، ہم چرچ جاتے ہیں، خُداوند كی عشائے ربانی کے کھانے پر، شفا پانے کے لیے، بلکہ پاک محسُوس کرنے کے لیے بھی۔
برسوں پہلے، جب میں پرائمری میں خدمت کر رہی تھی، تو مَیں نے ایک ایسے شخص کے بارے میں کہانی سنائی جس نے حال ہی میں بپتسمہ لیا تھا۔ میں نے نشاندہی کی کہ یہ دوست کلِیسیا کا سب سے پاک اور صاف رکن ہو سکتا ہے۔ پھر، اگلی قطار میں، ایک ہاتھ اوپر اُٹھا اور ایک بڑے لڑکے نے اعلان کیا، ”میں اتنا ہی پاک ہُوں جتنا وہ ہے کیونکہ میں نے ابھی عِشائے رباّنی لی ہے۔“ میں نے پریشان کُن انداز میں جواب دیا، ”جی ہاں، میرا یہی مطلب تھا—جو اُس نے بولا ہے۔“
میرے عزیزو، کیا ہم واقعی اِس حیرت انگیز تعلیم کو یاد ركھتے اور قبول کرتے ہیں؟ اگر ہم خُدا کے ساتھ اپنے عہد کو برقرار رکھنے کے لیے—مسلسل واپسی، رپورٹنگ، اور توبہ—کے ذریعے کام کر رہے ہیں تو ہم ہر روز پاک ہو سکتے ہیں۔ اور عشائے ربّانی کی رسم کی بدولت، ہم اُسی دن کی طرح پاک و صاف محسُوس کر سکتے ہیں جِس دن ہم نے بپتسما لیا تھا۔
میرے لیے، اِس طرح سبت کا دن آرام کا دن بن گیا ہے۔ صرف جسمانی آرام ہی نہیں، بلکہ شرمندگی اور خوف، اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں سے آرام کا دن۔ کم از کم صِرف ایک دن کے لئے ہی سہی!
تُمام صحیفوں میں سب سے زیادہ شفیق واقعات میں سے ایک ہمیں اِس آرام کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ مورمن كی كِتاب میں جب جی اُٹھا نجات دہندہ اپنی ”دُوسری بھیڑوں“ سے امریكہ میں مُلاقات كر رہا تھا، اور حتٰی کہ اُن كے مانگے بغیر اُن کی ضرورت کو بھانپنے کے بعد، اُن سب کو جو جسمانی طور پر روگی—لنگڑوں، اَندھوں، بہروں، یا وہ جو ”کسی بھی قِسم کی تکلِیف میں مُبتلا تھے“— کو آگے آنے کی دعوت دیتا ہے۔
مَیں اُنھیں قطاروں میں كھڑے تَصوّر کرتی ہُوں جن كو واضح طور پر جِسمانی شِفا یابی کی ضرورت تھی۔ لیکن اپنے چشمِ تَصّور میں بھی، مَیں اپنے جیسے دوسرے اور لوگوں کو قطار میں دیکھتی ہُوں جِن سے مَیں مُحبّت کرتی ہُوں جو ایسی تکلیفوں میں مُبتلا ہیں جو انسانی آنکھ سے اوجل ہیں۔ اُس نے ہر طرح کی مصیبت میں گِھرے لوگوں کو بُلایا ”اور اُس نے ہر ایک کو شِفا بخشی۔“
غور کریں کہ کِس طرح، اِس مثال میں، یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اُس نے اُن كا علاج كیا۔ مُجھے یہ خیال بُہت پسند ہے کہ شِفا یابی اور عِلاج میں فرق ہے۔ عِلاج عام طور پر ہمیں تندرستی کی سابقہ حالت میں واپس لاتا ہے، جِس کی ہمیں خواہش ہوتی ہے، ہے نا۔ لیکن شِفا مختلف ہے۔ شِفایابی اُس پرانے زخم کو یکجا کرتی ہے، جو ہمیں دوسری جانب مختلف بناتی ہے۔
یہاں تک کہ دُنیا کے نجات دہندہ نے بھی، ایک جی اُٹھی ہستی کی حیثیت سے، اپنے ہاتھوں، پیروں اور پہلوؤں میں زخموں کو برقرار رکھا—جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہمیں کبھی نہیں بھولے گا اور یہ کہ اُس كے كوڑے كھانے سے ہم شفایاب ہوئے ہیں۔ اور شاید، اُس دن جب نجات دہندہ نے اُنہیں شِفا بَخشی، تو اُس نے اُنہیں تھام بھی لیا، اور ہر ایک کو پیار سے گلے لگایا۔
آج رات، شاید آپ ٹوٹا ہُوا محسُوس کر رہے ہیں اور پُر یقین نہیں ہیں کہ آپ اُس کی شفا یابی کا تجربہ کریں گے۔ مگر کیا یہ واقعی سچ ہے؟ ہر اتوار عِشائے ربّانی کے دوران، وہ آپ کو دُھول بھری سڑک سے اٹھاتا ہے اور آپ کو اپنے چوغے میں لپیٹتا ہے، اور آپ کو اپنے مضبوط بازوؤں میں سہلاتا ہے۔
کرسمس کی اُس مُقدّس رات کو ایک فرشتے نے بڑی خُوشی کی بشارت سُنائی۔ ”وہ جو سب سے بڑا تھا اُس نے اپنے آپ کو سب سے کم تر بنایا—الہٰی چرواہا جو برّہ بن گیا۔“ ”بادشاہوں کا بادشاہ ایک حقیر چرنی میں لیٹا ہوا تھا۔ ہماری تمام آزمائشوں میں، ہمارا دوست بننے کے لئے پیدا ہوا۔“ میرا ایمان ہے کہ فرشتہ کہہ رہا تھا، ”آپ کا دوست، آپ کا بہترین دوست ابھی آیا ہے۔ اور اگر آپ جانتے کہ اُس نے آپ کو کِتنی قریب سے دیکھا ہے، جب آپ اِس سے پہلے اُس کے ساتھ رہتے تھے تو آپ اُس کی طرف کیسے نِگاہ کرتے تھے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کے لیے کیا قربان کرنے والا ہے اور اُس کے بعد وہ آپ کی گھر واپسی میں کتنی مدد کرنے کو تیار ہو گا، تو آپ چرنی میں اُس کا استقبال کرنے کے لیے جلدی کریں گے۔“
یہ میری گواہی ہے کہ چرنی میں بچّہ، جِس کی ہم عبادت کرتے ہیں اور شاید یہ تصور کرنے کی بھی ہمت رکھتے ہیں کہ اُسے پکڑنا کیسا ہوتا، وہ ہمارے لیے ایسا ہی کرنے آیا تھا۔
جی ہاں، بچّہ یِسُوع آپ کے لیے تولُّد ہُؤا!
یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔