نجات دہندہ سے مُلاقات کے لیے تیار ہونا
صدارتِ اوّل کی کرِسمس کی عِبادت 2024
اِتوار، 8 دِسمبر، 2024
جیسے ہی ہم کرِسمس کے بابرکت سَماں میں داخِل ہُوئے ہیں، میرے خیالات اُن لوگوں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو اپنے گھر سے دُور ہیں، خصُوصاً وہ بے شُمار مِشنری جو اِس وقت خِدمت کی ذِمہ داری اَنجام دے رہے ہیں۔
میرا پہلا کرِسمس جو مَیں نے گھر سے دُور گُزارا دِسمبر 1960 میں، اِنگلینڈ میں مِشنری کے طور پر تھا۔ مَیں سوِنڈن، اِنگلینڈ میں خِدمت پر مامُور تھا۔
ہم نے لگ بھگ 90 دِن پہلے سوِنڈن میں مِشنری خِدمت کا آغاز کِیا تھا۔ ہم اِتوار کی عِبادات کے لیے ایک کمرہ کرائے پر اِستعمال کر رہے تھے۔ ہمارے پاس چند تبدیل شُدگان تھے—جو ایک برانچ کے آغاز کا سبب بنے۔
کرِسمس کی شام میرے ساتھی، ایلڈر نوئیل لُوک، اور مَیں نے فیصلہ کِیا کہ ہم اپنی خِدمت کے علاقے میں لوگوں کے گھروں میں جا کر اُنھیں کرِسمس کی مُبارک باد دیں اور مُختصر پیغام اور برکات پیش کریں۔ یہ ایک دِل کش رات تھی، اور بادَلوں سے گھِرا فلک چمکتے ماہتاب کی روشنی میں ڈُوبا اِلہٰی سُرُور پَیدا کر رہا تھا۔ اچانک ہمیں احساس ہُوا کہ مَحلے کے ہر گھر میں ٹیلی ویژن پر ایک مشہُور مزاحیہ اَداکار اور گُلوکار، ہیری سِیکومبے کی پرفارمنس دیکھی جا رہی تھی۔ اُس نے بیش قِیمتی گیت ”اِس گھر کو برکت دے“ گایا۔ اُس نے بڑے اَثر اَنگیز اَنداز میں مُقدّس الفاظ اَدا کِیے، اِقتباس:
یہاں موجُود لوگوں پر اپنی برکت نازل فرما۔
اُنھیں پاک اور گُناہوں سے آزاد کرا۔
ہم سب پر اپنی رحمت برسا
اُس کی دِل سوز آواز نے ہماری آنکھوں میں آنسو بھَر دِیے۔ گیت، جو تقریباً ہر گھر سے گُونج رہا تھا، آسمان سے ٹکرا کر بادَلوں سے واپس گُونج اُٹھا۔ ایلڈر لُوک اور مَیں نے یہ گہرا اور بے مِثال احساس پایا کہ ہم حقیقتاً اپنے خُداوند اور مُنّجی، یِسُوع مسِیح کے سفیر ہیں، جو اپنے آسمانی باپ کی اُمّت کی خِدمت اور برکت کے لیے کوشاں ہیں۔
مِشنری کی حیثیت سے مَیں نے یہ جانا کہ اِس دُنیا میں زِندگی گُزارنا دَراَصل اپنے حقیقی گھر—یعنی اپنے آسمانی گھر سے دُور ہونے کے مُترادف ہے۔ اِس گھر کا اِطمینان و سُکُون پانے کا راستہ ہمارے نجات دہندہ کی خِدمت میں ہے۔
حالیہ بَرسوں میں، کلِیسیا نے ہمیں ترغیب دی ہے کہ ہم اُس نُور کو اُجاگر کریں جو مُنّجی ساری دُنیا کو عطا کرتا ہے، بالخصُوص اِس کرِسمس کے مُقدّس تہوار کے دوران۔ کلِیسیا کے پاس سب کے خیالات نجات دہندہ کی طرف متوجہ کرنے کے لیے مُنوّر کرو جَہاں کا عظیم الشان اِقدام موجُود ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ ایک کاوِش کی جا رہی ہے کہ ضرُورت مندوں کو دِیا جائے اور مسِیح جیسی خِدمت فراہم کی جائے۔
گُزشتہ سال، کلِیسیا نے مُنوّر کرو جَہاں مُہم کا آغاز نیو یارک سِٹی کے ٹائمز سکوائر میں موجُود بڑی ڈیجیٹل سکرینوں کا اِستعمال کرتے ہُوئے کِیا۔
مَیری اور مَیں وہاں موجُود تھے جب مُنّجی کی وِلادت کی دِل کو موہ لینے والی منظر کشی اُن بڑے ڈیجیٹل بِل بورڈز پر پیش کی گئی۔ یہ ایک گہرا رُوحانی تجربہ تھا۔ اِس سال، ٹائمز سکوائر جیسا تجربہ دُنیا بھر کے کئی شہروں میں دوبارہ پیش کِیا گیا ہے۔
نیویارک سِٹی میں مُنوّر کرو جَہاں تقریب کے دوران، مَیں نے غور کِیا کہ بڑے بڑے ڈپارٹمنٹ سٹور کی کھِڑکیوں میں خصُوصی سجاوٹ کا اہتمام کِیا گیا تھا۔
مُجھے یاد ہے کہ نیو یارک ٹائمز کے ایک اِتوار کے ایڈیشن میں پُورے صفحے پر ایک مضمُون شائع ہُوا تھا جس کا عُنوان تھا: ”تہواری سجاوٹ والی کھِڑکیوں کی واپسی۔ خریداروں کی واپسی۔“ مضمُون میں ایک روایت کا ذِکر کِیا گیا تھا جس میں نیو یارک سِٹی کے فِفتھ ایونیو پر موجُود ڈپارٹمنٹ سٹور کی کھِڑکیوں کو شان دار سجاوٹ سے سجایا جاتا تھا۔ جتنا مَیں نے مضمُون اور اپنے حالیہ دَورے سے اندازہ لگایا، اُن کھِڑکیوں میں سے کوئی بھی کرِسمس کے مناظر یا بچّے مسِیح کی تصویر نہیں پیش کر رہی تھی۔
جب مَیں نے مضمُون پڑھا، تو مُجھے بچپن کی یاد آئی جب سالٹ لیک سِٹی کے ڈپارٹمنٹ سٹوروں کی کھِڑکیاں کرِسمس پر بچّے مسِیح کی تصویر سے سجائی جاتی تھیں۔ مَیں نے اُس دَور کا ایک اور واقعہ بھی یاد کِیا، جب مِڈ ویسٹ میں ایک شاپنگ مال نے کرِسمس کے موضُوع کو اُجاگر کرنے کا اِرادہ کِیا تھا، تاکہ نہ صِرف کرِسمس کا جوش و جذبہ پَیدا ہو بلکہ خریداروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کِیا جا سکے۔ اُنھوں نے ایک بڑا بینر آویزاں کِیا جس پر لِکھا تھا، ”اگر مسِیح آج رات آ جائے، تو وہ کِس کے پاس آئے گا؟“ اِس بینر کے نیچے سٹور کی کھِڑکیوں میں کئی مناظر آراستہ کِیے جاتے تھے۔ اگر مُجھے اِن مناظر کی صحیح یاد ہے:
-
ایک منظر میں بُزرگ خاتُون بستر پر لیٹی ہُوئی تھی اور نرس اُس کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ وہ بُہت زیادہ بیمار نظر آ رہی تھی۔
-
دُوسرے منظر میں نوجوان ماں اپنے نوزائیدہ بچّے کے ساتھ تھی۔ اُس کے چہرے سے خُوشی جھلک رہی تھی۔
-
تیسرے منظر میں ایک خاندان دِکھایا گیا تھا جس کے بچّے رو رہے تھے۔ یہ واضح تھا کہ کھانے کے لیے ناکافی سامان نہ تھا، اور کرسمس کے تحائف بھی، شاید، بُہت کم یا بالکل نہیں تھے۔
-
چوتھے منظر میں ایک بظاہر دولت مند خاندان کو کئی تحائف کھولتے ہُوئے دِکھایا گیا تھا۔
-
پانچویں منظر میں ایک پیارا، لیکن سادہ خاندان دِکھایا گیا تھا جس کے کئی بچّے خُوشی سے مِل کر گیت گا رہے تھے۔
جب مَیں اِن پانچ مناظر اور بینر ”اگر مسِیح آج رات آ جائے، تو وہ کِس کے پاس آئے گا؟“ پر غور کرتا ہُوں، تو میرے ذہن میں دو خیالات آتے ہیں۔
پہلا یہ کہ ہم جانتے ہیں جب نجات دہندہ دُوسری بار آئے گا، تو ہمیں اُس دِن یا گھڑی کا عِلم نہیں ہو گا۔
دُوسرا یہ کہ جب یِسُوع مسِیح آئے گا، جیسا کہ صدر رسل ایم نیلسن نے حالیہ مجلسِ عامہ میں سِکھایا کہ، ”[وہ] ہزار سالہ مسِیحا کے طور پر زمین پر واپس آئے گا۔“ تیار ہونے کے لیے، صدر نیلسن ہمیں تاکید کرتے ہیں کہ ”[اپنی] زِندگیوں کو یِسُوع مسِیح کے لیے پھِر سے وقف کر دیں۔“ اِس لحاظ سے، بینر پر شاید یُوں لِکھنا زیادہ موزُوں ہوتا، ”اگر مسِیح آج رات آ جائے، تو کون اُس کا اِستقبال کرنے کے لیے تیار ہو گا؟“
جب مَیں نے کھِڑکیوں کے مناظر کا جائزہ لِیا، تو مَیں نے محسُوس کِیا کہ یہ محض لوگوں کی جِسمانی اور مالی حالت کے بارے میں بتاتے ہیں، مگر اُن کی رُوحانی حالت کا کوئی ذِکر نہیں کِیا گیا۔ کھِڑکیوں کی آرایش میں اَیسے اَفراد دِکھائے گئے تھے جو بُوڑھے اور بیمار تھے جبکہ کُچھ صحت مند اور نوزائیدہ بھی تھے۔ اِس کے علاوہ کُچھ دولت مند اور غریب بھی تھے۔ لیکن عُمر، صحت، اور مالی حالت ہمیں وہ نہیں بتاتی جو حقیقت میں اَہم ہے، یعنی اُن کی رُوحانی حالت۔
عقائد اور عہُود میں ہم مسِیح کی کلِیسیا میں بپتِسما لینے کی اہلیت کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ یہ معیار بُنیادی طور پر خُود کو فروتن بنانے، ”شِکستہ دِل اور پشیمان رُوح رکھنے،“ توبہ کرنے، اور ”آخِر تک [یِسُوع مسِیح] کی خِدمت کرنے“ پر مبنی ہے۔ اُس کا مقصد ”یِسُوع مسِیح کا سرشار پیروکار“ بننا ہے اور راہِ عہد پر پیش رفت کرنا ہے جو ہمیں اُس کے کفّارہ کی برکات کے لیے تیار کرتا ہے۔
ہر بات میں مسِیح مِثال ہے۔ اُس نے اِعلان کِیا، ”دیکھو مَیں نُور ہُوں؛ مَیں نے تُمھارے واسطے مِثال قائم کی ہے۔“ جب ہم اپنی رُوحانی حالت کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہم اُس کی کامِل مِثال کو دیکھ کر بہتر بن جائیں گے۔ نجات دہندہ نے ہمیں دِکھایا کہ اِس زِندگی اور اَبَدیت میں شادمانی، مقصد، اور مَسرت کیسے پائی جا سکتی ہے۔ شادمانی اور مَسرت کرِسمس کے رُوح کی حقیقی پہچان ہے۔
یُوحنّا 19:5 میں ہم پڑھتے ہیں کہ پِیلاطُس نے یِسُوع کو اُن لوگوں کے سامنے پیش کِیا جو اُسے مصلُوب کرنا چاہتے تھے۔ وہ ”کانٹوں کا تاج، اور اَرغوانی لِباس پہنے ہُوئے تھا۔ اور پِیلاطُس نے اُن سے کہا کہ، ”دیکھو یہ شخص!
اِس کرِسمس کے تہوار میں آئیے ہم مُختصراً اُس شخص کو دیکھیں، جو مسِیح ہے، اور وہ تحائف جو اُس نے فراہم کِیے ہیں۔
سب سے پہلے، آئیے ہم اُس کی مُعجزاتی پَیدائش پر غور کریں۔
ہم جانتے ہیں کہ یہ بیش قِیمت بچّہ باپ کا اِکلوتا بیٹا تھا جس کی ہم اِس کرِسمس کی رُت میں خُوشی مناتے ہیں۔ اُس نے اپنے باپ سے اَبَدی زِندگی کی قُوت مِیراث میں پائی—یعنی زِندہ رہنے کی قُوت۔ اور اُس نے اپنی فانی ماں سے مَرنے کی قُوت وراثت میں پائی۔ اُسے اپنے مُقدّس مقصد کے لیے اِبتدا سے ہی مُنتخب کِیا گیا تھا۔
متّی 1:23 میں لِکھا ہے، ”دیکھو، ایک کنواری حامِلہ ہو گی، اور بیٹا جَنے گی، اور اُس کا نام اِعمانُوایل رکھیں گے، جِس کا ترجمہ ہے، خُدا ہمارے ساتھ۔“
دُوسرا، اُس کی کامِل اور بے عیب زِندگی اور اُس کی مِثال پر غور کریں۔ اگرچہ اُس نے ہر قِسم کے درد، اَذیتیں، اور آزمایشوں کا سامنا کِیا، پھر بھی اُس نے اپنے مقصد کو کام یابی سے مُکمل کِیا۔ وہ ہمارا نمُونہ ہے اور اُس نے وہ راستہ دِکھایا جس پر ہمیں چلنا چاہیے۔ اُس نے اپنی زِندگی غریبوں، مُحتاجوں، بیماروں، اور غم زدہ لوگوں کی خِدمت میں وقف کی، اور اُس اَبَدی منصُوبے کو کام یابی سے مُکمل کِیا جس کے لیے وہ اکیلا اَہل تھا۔
تیسرا، اُس کی موت، جی اُٹھنے، اور کفّارے پر غور کریں۔
کفّارے کے بارے میں، میری اِنجِیل کی مُنادی کرو میں بڑی خُوب صُورتی اور سادگی سے لِکھا ہے: ”نجات دہندہ کے کفّارہ میں گتسِمنی باغ میں اُس کی اَذیت، صلیب پر اُس کی تکلیف اور موت، اور اُس کا جی اُٹھنا شامِل تھا۔ اُس نے سمجھ سے بالاتر دُکھ سہا—اتنا کہ اُس کے ہر مَسام سے خُون بہہ نِکلا۔“
عقائد اور عہُود 76:41 میں لِکھا ہے: ”وہ دُنیا میں آیا، یعنی یِسُوع، تاکہ دُنیا کے واسطے مصلُوب ہو، اور دُنیا کے گُناہ اُٹھائے، اور دُنیا کو مُقَدَّس ٹھہرائے، اور اُس کو ساری ناراستی سے پاک کرے۔“
یِسُوع مسِیح کا کفّارہ تاریخِ اِنسانیت کا سب سے عظیم واقعہ اور تُحفہ ہے جو کبھی بھی وقوع پذیر ہُوا ہو۔ ہم سب نے گُناہ کِیا ہے، اور صِرف یِسُوع مسِیح کے کفّارے کے وسیلے سے ہی ہم رحم پا سکتے اور خُدا کے ساتھ زِندگی گُزار سکتے ہیں۔
چوتھا، اُس کی آمدِ ثانی کے لیے تیار ہوں۔
عہدِ عتیق میں، ایُوب نے سِکھایا، ”وہ آخِر کار زمین پر کھڑا ہو گا۔“ جیسا کہ صدر رسل ایم نیلسن نے بُہت خُوب صُورتی سے سِکھایا ہے: ”[مسِیح] اپنی کلِیسیا کے امُور کی راہ نُمائی قدیم یروشلیم اور نئے یروشلیم دونوں سے کرے گا۔“ اَب ہمارا وقت ہے کہ ہم اِس واقعہ کے لیے تیاری کریں۔ صحائف فرماتے ہیں: ”خُداوند کے عظیم دِن کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔“
میری آخِری مشورت یہ ہے کہ ہم خُداوند سے محبّت رکھیں اور اُس کی خِدمت کریں۔ جب ہم اپنے رُوحانی حالات اور تیاری پر غور کرتے ہیں تاکہ ہم نجات دہندہ کا اِستقبال کریں، تو ہمیں سب سے پہلے یہ کرنا چاہیے، ”خُداوند، اپنے خُدا سے، اپنے سارے دِل، اور اپنی ساری جان، اور اپنی ساری عقل سے محبّت رکھ۔“ اور دُوسرا، ”اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبّت رکھ۔“
ہمارا خُدا سے اور اپنے ہم عصروں سے محبّت کرنا ہماری رُوحانی حالت کا سب سے بڑا اِمتحان ہے۔ اگر ہم خُدا سے محبّت کرتے ہیں، تو ہم اُس کے حُکموں پر عمل کریں گے۔ اور اگر ہم اپنے ہم عصروں سے محبّت کرتے ہیں، تو ہم اُن کی خِدمت کریں گے اور حقیقت میں مُنّجی کے ہاتھ بنیں گے۔
عقائد اور عہُود میں، نجات دہندہ یہ الفاظ اِستعمال کرتا ہے: ”ہاں، مَیں لوگوں کے دِل نرم کرُوں گا، اور … مَیں تیرے ہاتھ سے کلِیسیا قائم کرُوں گا۔“
اِس کرِسمس کے تہوار میں ہمارا مُنّجی کا شُکرگُزار ہونے کا سب سے اَہم طریقہ یہ ہے کہ ہم اُس کے خادِم بنیں—یعنی، حقیقت میں، زمین پر اُس کے ہاتھ بنیں۔
اِس دِل کش لمحے میں، جب ہم اپنے خُداوند اور مُنّجی، یِسُوع مسِیح کی وِلادت کا جشن مناتے ہیں، مَیں آپ کو گواہی دیتا ہُوں کہ وہ زِندہ ہے۔ وہ ہمارے لیے مِثال ہے، باپ کے سامنے ہمارا وکیل ہے، اور اُس نے وہ سب کُچھ پُورا کِیا جو ہمارے لیے باپ اور بیٹے کی حُضُوری میں واپس جانے کو ضرُوری تھا۔ ہمیں دانِش مند ہو کر مسِیح کی پیروی کرنی چاہیے اور وہ تُحفے وصُول کرنے چاہئیں جو اُس نے ہمیں عطا کِیے ہیں۔
خُدا کرے کہ آپ کا کرِسمس جلیل القدر اور یِسُوع مسِیح پر مرکُوز ہو۔
یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔