اَنمول تحائف
صدارتِ اوّل کی کرِسمس کی عِبادت 2024
اِتوار، 8 دِسمبر، 2024
آج شام، مَیں بھی عجُوبِہِ کرسمس کی مُقدس اہمیت اور خُوشی پر بات کروں گا۔ تاریخِ دُنیا میں کوئی بھی واقعہ دو ہراز برس قبل یِسُوع ناصری کے مشن کی نسبت اتنا عظیم الشان اثر نہیں رکھتا ہے۔ پوری جدید دُنیا میں، وقت کو بذاتِ خُود اِس اِعجازی واقعہ سے ماپا جاتا ہے۔
دُنیا بھر میں ہمارے مُنّجی کی ولادت کو مُختلف انداز میں منایا جاتا ہے، مگر کرسمس کی ایک روایت ایسی ہے جو کہ عالم گیر معلوم ہوتی ہے۔
غالباً اِس روایت کا آغاز متی میں پُورب سے یِسُوع کی پرستش کرنے کے لیے آنے والے تین مجوسیوں کے واقعہ سے ہوتا ہے۔ جب وہ آئے، وہ اَنمول تحائف لائے۔ آج، تبادلہِ تحائف کی روایت کرسمس کی تقریبات کا بڑا حصہ ہے۔
کرسمس کے تحفہ کے بارے میں میری پہلی حیرت انگیز یاد ایک کھلونا بندوق تھی جو کہ ایک رسی کے ساتھ کارک فائر کرتی تھی اور میکانی چابی بھرنے والی ایک بطخ تھی۔ یہ ایک چار سالہ لڑکے کے واسطے سراسر مَسرت تھی۔ بطخ فرش پر اِٹھلاتی ہُوئی دائرے میں چلتی تھی اور اُسے کوئی موقع نہ مِلتا کیوں کہ مَیں جوش و خروش کے ساتھ اپنی پٹاخہ بندوق کے ساتھ اُسے چھ اِنچ دُور سے نشانہ لگاتا۔ مگر کھلونا جلد ہی ٹوٹ گیا، اور باقی ماندہ تمام مادی اشیا کی مانند، اِس نے جو خُوشی فراہم کی عارضِی تھی جو جلد ہی بھُلا دی گئی۔
آج شام، مَیں تین تحائف تجویز کروں گا جو ہم میں سے ہر کوئی کرسمس کے اِس تہوار پر، اور اپنی ساری زندگی دے سکتے ہیں، جو عارضی خُوشی نہیں دیں گے، بلکہ اِس کی بجائے حقیقی اور دیرپا خُوشی دیں گے۔
اَوَّل گواہی کا تُحفہ ہے۔ یہ ایسا ذاتی تحفہ ہے اور جب فیاضِی سے، بے ریا طور پر دیا جاتا ہے، یہ ہماری جان کے عمیق ترین اظہارات کو مُنکشف کرتا ہے۔ سونا، لُبان، اور مُر سے زیادہ بیش قیمت، ہمارے مُنّجی اور مخلصی دینے والے کے طور پر یِسُوع مسِیح کی ہماری ذاتی خالص گواہی اُس سب کا مرکز و محور ہے جس کی بدولت ہم کرسمس مناتے ہیں۔
جب ہمارے چھ بچّے چھوٹے تھے، تو ایک رات جیکی اور مَیں نے فیصلہ کِیا کہ خاندانی شام میں، سبق دینے کی بجائے، ہم صِرف ایک دُوسرے کو اپنی گواہیاں بتائیں گے۔ اپنی گواہی بیان کرنے کے بعد، ہماری پیاری بیٹی چیلسی نے، جو اُس وقت شاید 16 برس کی تھی، حیرت زدہ آنکھوں کے ساتھ کہا، ”ابُو جان، مَیں نے پہلے کبھی بھی آپ کی گواہی نہیں سُنی ہے!“ مَیں کُچھ چونک گیا تھا، اور مَیں اُس کے جواب پر دَنگ رہ گیا۔ دَراَصل، اُس وقت مَیں صدرِ سٹیک تھا اور مُجھے معلوم ہے چیلسی نے مُجھے کلِیسیائی ماحول میں اور گھر پر اَن گنت بار گواہی دیتے سُنا تھا۔ مگر اُس لمحے، اُس نے میری گواہی کو اَیسے سُنا اور محسُوس کِیا جیسے یہ پہلی بار ہو۔ اُس نے مجھے ایسا سبق سِکھایا جو مَیں کبھی نہیں بھولا ہُوں: گواہی کی نعمت اَنمول ہے اور اِس کا اکثر اشتراک کرنے میں قدرت ہے۔
دوم مُعافی کا تُحفہ ہے۔ یقیناً ہم میں سے ہر کوئی کبھی نہ کبھی دُوسروں کے تلخ اَلفاظ اور اعمال سے زخمی ہوا ہے۔ اور اگر ہم دیانت دار ہیں، ہم بھی دُوسروں کے لیے چوٹ کا باعث بنے ہیں۔ یِسُوع مسِیح سِکھاتا ہے کہ، ”مَیں، خُداوند، جِس کو مُعاف کرنا چاہُوں، مُعاف کرُوں گا، البتہ تُمھارے واسطے یہ لازم ہے کہ تمام آدمیوں کو مُعاف کرنا۔“ پھر وہ اِسے ایک اور قدم آگے لے جاتا اور فرماتا ہے کہ جب ہم اپنے خلاف دُوسروں کے گناہ معاف کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو گناہِ کبیرہ ہم پر عائد ہوتا ہے۔
جب ہم فیاضِی اور کھلے دِل سے دُوسروں کو معاف کرتے ہیں، ہم تلخی، رائے زنی، اور انتقام کے زہر سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
ساؤتھ افریقہ میں سندیل مکاسی نامی میرا ایک دوست ہے۔ اجازت سے، مَیں معافی کی اُس کی ذاتی کہانی بتاتا ہُوں۔ جب سندیل ابھی دو سال سے کم کا تھا، اور اُس کا والد، صرف 28 برس کا، تو نسلی امتیاز والی حکومت کے دوران پولیس کے ہاتھوں زَد و کُوب ہُوا اور ہلاک ہو گیا تھا۔ بعد ازاں، سندیل نے اپنے والد کے قتل کی دہلا دینے والی تفصیلات سے آگاہی پائی۔ اب مَیں اُس کے اپنے الفاظ بیان کرتا ہُوں:
”بچپن میں اپنے ابتدائی سالوں کے دوران مَیں نے اُس کی بدولت جو اُنھوں نے میرے والد کے ساتھ کیا تھا تلخی اور نفرت محسوس کی۔ وہ اُسے ہم سے کیسے دور لے جا سکتے تھے؟ مُجھ سے والد اور سرپرست چھین لیا گیا تھا، اور میری ماں سے محبّت کرنے اور خیال رکھنے والا ساتھی چھین لیا گیا تھا۔
”جب مُجھَے اُس پُر تشدد طریقہِ کار کا علم ہوا جو اُنھوں نے اُس سے روا رکھا تھا، تو اِس سے میرے دِل اور دماغ میں پولیس افسران اور سفید فام لوگوں کے خلاف شدید غصہ، نفرت اور عداوت بھر گئی تھی۔
”یِسُوع مسِیح کی بحال شدہ اِنجیل کے ملنے تک مَیں نے اُن احساسات کو برقرار رکھا۔ اِنجیل نے میری سمجھنے میں مدد کی کہ مُجھے پولیس کے افسران کو اُن کے جرائم کے لیے معاف کر دینا چاہیے، اور کہ میری خُوشی اور رُوحانی بالیدگی کا انحصار اِس پر تھا۔
”یہ کہنا آسان اور کرنا مُشکل تھا، مگر مَیں دُعا کرنے میں ثابت قدم رہا، اور بالآخر خُداوند نے مُجھے میرے دشمنوں کو معاف کرنے میں میری مدد فرمائی۔ چوٹ کی بجائے، میں نے تسلی محسُوس کی؛ عداوت اور نفرت کی بجائے، مُجھ میں محبّت تھی؛ اپنے دِل اور دماغ میں تیرگی کی بجائے، مُجھے نور اور اَمن مِلا۔“
معافی کا تحفہ دینے کے لیے سندیل آپ کی مثال کا شُکریہ۔
سوئم، مانندِ مسِیح محبّت کا تحفہ۔ تمام رُوحانی نعمتوں میں، کچھ بھی خالص محبّت سے عظیم نہیں۔ یِسُوع نے کھُلے عام دُوسروں سے اپنی محبّت کا اِظہار کِیا اور ہمیں ایک دُوسرے سے محبّت کرنا سِکھایا۔
جب ہم دُوسروں سے قَول و فعل میں محبّت کا اِظہار کرنے کے لیے نجات دہندہ کی مِثال کی پیروی کرتے ہیں، تو وہ ہماری وساطت سے خُدا کی محبّت کا تجربہ پا سکتے ہیں۔
چند برس قبل، مَیں واشنگٹن میں رہنے والے ایک 23 سالہ نوجوان سے مِلا جو کہ اِس کی عمدہ مثال تھا۔ مُنادوں نے اُسے تین ماہ تک تعلیم دی تھی، اور وہ اپنے چہرے اور اپنے طرزِ زِندگی میں حیرت انگیز تبدیلی کا تجربہ پا چُکا تھا۔ ایک شام وہ فون پر مُنادوں سے بات کر رہا تھا، اور جب اُنھوں نے فون بند کیا، تو اُنھوں نے کہا، ”مائیکل، ہم تُم سے پیار کرتے ہیں۔“ اُس نے فون نیچے رکھا اور خُود سے سوچا، ”واہ۔ یہ کچھ ایسا ہے جس کا مَیں عادی نہیں ہُوں۔ مَیں یہ دُوسروں سے بھی کہہ سکتا ہُوں۔“ اُس نے اپنی والدہ سے کہنے کے لیے کہ وہ اُس سے پیار کرتا ہے حوصلہ جُٹانے کا فیصلہ کیا۔ وہ ریاست کے ایک دُوسرے حصہ میں چند گھنٹے کی مسافت پر رہتی تھی۔ جب اُس نے اُسے فون کیا اور اُس سے کہا ”ماں، مُجھے آپ سے محبّت ہے،“ اُس کا فوری ردِعمل تھا ”کیا تُم ٹھیک تو ہو؟ کیا تُم ڈاکٹر کے پاس گئے ہو اور کوئی بُری خبر پائی ہے؟ کیا تُم واپس جیل جا رہے ہو؟“ لہٰذا، اُس نے اُسے اِنحیل پانے کے متعلق بتایا اور کیسے اِس نے اُسے بدل ڈالا ہے، اور اب اُس نے تمباکو نوشی اور منشیات کا استعمال ترک کر دیا ہے اور بپتسما پانے کا منصُوبہ بنایا ہے۔
میرا خِیال ہے کہ یہ شاندار وضاحت ہے کہ جب لوگ دُوسروں کے ذریعے خُدا کی محبت کو محسُوس کرتے ہیں تو کیا رُونما ہوتا ہے۔ یہ دِلوں کو نرم کرتی ہے اور پھر یہ محبّت کی اِس نعمت کو دُوسرے کے ساتھ بانٹنے کی خواہش پیدا کرتی ہے۔
اَب، آج شام، ہم نے سونا، لُبان، اور مُر جیسے بیش قیمت تحائف کے متعلق بات کرتے ہوئے آغاز کِیا۔ مَیں نے دریافت کیا ہے، حتٰی کہ آپ اِن تحائف کو ایمیزون پر خرید بھی سکتے ہیں۔ مگر آپ اُن دیگر تحائف کو کبھی بھی کسی بھی سٹور پر نہیں پائیں گے جن کی ہم نے بات کی ہے۔ وہ اَنمول تحائف ہیں، پھر بھی وہ دونوں لینے اور دینے والوں کے لیے دیرپا حقیقی خُوشی لائیں گے۔
پس، جب آپ اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ اِس کرسمس آپ کیا دیں گے، تو مَیں آپ کو دعوت دیتا ہُوں کہ:
-
خاندان کے ساتھ اور جن سے آپ محبّت کرتے ہیں گواہی کا اشتراک کریں۔ جب آپ اِس انمول تحفے کو بانٹتے ہیں، تو آپ کی اپنی گواہی مضبوط ہوتی جائے گی۔
-
کسی کو معاف کریں جس نے آپ سمجھتے ہیں آپ کو تکلیف دی یا غلط کیا ہے۔ یہ تحفہ دیتے ہوئے، آپ بھی اِطمینان اور شِفا پائیں گے۔
-
دُوسروں کی اپنے ذریعے خُدا کا پیار محسُوس کرنے میں مدد کریں۔ اگر مُناسب ہو، تو اُنھیں بتائیں آپ اُن سے پیار کرتے ہیں۔ جب آپ دُوسروں پر ویسے نظر کرتے ہیں جیسے خُدا آپ پر نظر کرتا ہے، اُن کے لیے آپ کی محبّت بڑھے گی، اور آپ بھی اپنی زندگی میں خُدا کی محبّت کو محسُوس کریں گے۔
آخِر میں، مَیں آپ سب کے لیے ایک خُوشیوں سے بھرپُور کرِسمس کے تہوار کی تمنّا کرتا ہُوں۔ مَیں یِسُوع المسِیح کی گواہی دیتا ہُوں۔ وہ زِندہ ہے۔ وہ ہمارا مُنجّی، مُخلصی دینے والا ہے۔ وہ ہمارا وکیل اور دوست ہے۔ مَیں اُس کی تمجید کرتا ہُوں۔ مَیں اُسے پیار کرتا ہُوں۔ ہم میں سے ہر ایک کے لیے، ناقابلِ تصور قیمت سے خریدے گئے اُس کے تحفہ کی بدولت، ہم سب سے عظیم ترین نعمت—اپنے پیارے آسمانی باپ کی حضوری میں حتٰی کہ اَبدی زندگی پانے کے اَہل ہو سکتے ہیں۔
یِسُوع مسِیح کے نام پر، آمین۔