”رُجُوع لانا ہمارا مقصد ہے،“ آ، میرے پِیچھے ہولے—برائے گھر اور کلِیسیا:پُرانا عہد نامہ 2026 (2026)
رُجُوع لانا ہمارا مقصد ہے
تمام اِنجِیلی تعلیم اور تدریس کا مقصد ہماری تبدیلی کو مضبُوط کرنا اور مزید یِسُوع مسِیح کی مانند بننے میں مدد کرنا ہے۔ اِسی وجہ سے، جب ہم اِنجِیل کا مُطالعہ کرتے ہیں تو، ہم صرف نئی معلومات کی تلاش میں نہیں رہتے؛ بلکہ ہم ایک ”نئی مخلُوق“ (2 کُرنتھِیوں 5:17) بننا چاہتے ہیں۔ اِس کا مطلب اپنے دِلوں، اپنے نقطہِ نظر، اپنے اعمال اور اپنی فطرت کی تبدیلی کے لیے آسمانی باپ اور یِسُوع مسِیح پر بھروسا کرنا ہے۔
لیکن ہمارے اِیمان کو تقویت بخشنے اور رُجُوع لانے کے معجزے کی جانب لے جانے والی اِنجِیلی تدریس ایک ساتھ رُونما نہیں ہوتی۔ یہ کمرہِ جماعت سے افراد کے دِلوں اور گھروں تک پھیلتی ہُوئی ہے۔ اِس کے لیے اِنجِیل کو سمجھنے اور جِینے کی روزانہ، مُسلسل کوشش کی ضرُورت ہے۔ حقیقی تبدیلی کے لیے رُوحُ الُقدس کا اثر درکار ہوتا ہے۔
رُوحُ القُدس ہمیں سچّائی کی راہ دِکھاتا ہے اور سچّائی کی گواہی دیتا ہے (دیکھیں یُوحنّا 16:13)۔ وہ ہمارے ذہنوں کو رُوشن کرتا ہے، ہمارے فہم کو تقویت بخشتا ہے، اور خُدا سے مُکاشفہ کے وسِیلے سے ہمارے دِلوں کو چُھوتا ہے، جو ساری سچّائی کا منبع ہے۔ رُوحُ القُدس ہمارے دِلوں کو پاک کرتا ہے۔ وہ ہمیں سچّائی کے مُطابق زِندگی گُزارنے کا اِلہام بخشتا ہے، اور ایسا کرنے کے طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے سرگوشیاں بخشتا ہے۔ حقیقتاً، ”رُوحُ القُدس … [ہمیں] سب باتیں سِکھائے گا“ (یُوحنّا 14:26)۔
اِن وجوہات کی بِنا پر، اِنجِیل کے موافق جِینے، سِیکھنے اور سِکھانے کی ہماری کوششوں میں، ہمیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ رُوح کی رفاقت کے خواہاں ہونا چاہیے۔ ہمارے فیصلوں کا دارومدار اور ہمارے خیالات و اعمال کی راہ نُمائی بھی اِسی مقصد کے وسیلہ سے ہونی چاہیے۔ ہمیں رُوح کی تاثِیر کو دعوت دینے والی ہر چِیز کے مُتلاشی ہونا چاہیے اور جو بھی چِیز اِس اثر سے دُور ہونے کا باعِث بنتی ہے اُسے مُسترد کر دینا چاہیے—کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم رُوحُ القُدس کی حُضُوری کے اہل ہو سکتے ہیں تو، ہم آسمانی باپ اور اُس کے بیٹے، یِسُوع مسِیح کی حُضُوری میں بھی زِندگی گُزارنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔