”خاندانوں کے سدا رہنے کے واسطے منصُوبہِ خُدا،“ لیحونا، دسمبر2025۔
ماہانہ لیحونا پیغام، دسمبر 2025
خاندانوں کے سدا رہنے کے واسطے منصُوبہِ خُدا
وہ خاندان جو خُدا کے منصُوبہ کو اپناتے ہیں، نجات دہندہ کی مانند محبّت رکھتے، اور اپنے عہُود کی پاس داری کرتے ہیں کسی روز ”اَبدی زندگی اور خُوشی کی معمُوری کی برکات“ کی وراثت پائیں گے۔
اپنے کُل وقتی مشن کے اختتام کے قریب، جب مَیں نےساؤ پاولو برازیل ہَیکَل میں اپنے والدین کے ساتھ ودیعت پائی اور سربمہر ہُوا تو مَیں خوش ہُوا۔
میرے والدین، اپریسیڈو اور مرسڈیز، مختلف مذہبی پسِ منظر سے آئے، مگر اُن کی زندگی کے تجربات نے اُنھیں بحال شُدّہ اِنجِیل کو قبول کرنے کے لیے تیار کِیا۔
میرے والد کی پرورش ایک اچھے مگر غیر مذہبی خاندان میں ہُوئی تھی۔ اِس کے باوجود، بطور نوجوان وہ مذہب میں دِلچسپی رکھتا تھا۔ اُس نے بائبل کا مطالعہ کِیا، بائبل کی جماعتوں میں شرکت کی، اور یِسُوع مسِیح کی زندگی کا مُطالعہ کِیا۔ اُس کا مُطالعہ نجات دہندہ کی اِنجِیل اور خاندان دونوں میں اُس کی بڑی دلچسپی کا سبب بنا، اُس میں ایسے ہی ہم خیال شخص سے شادی رچانے کی خواہش اُجاگر کی۔
اِس کے برعکس، میری ماں ایک انتہائی مذہبی خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اُنھوں نے اِنجِیلی اُصُولوں کو اپنایا، کلِیسیائی عِبادات میں شرکت کی، اور اپنے مذہب پر وفاداری سے عمل کِیا۔ اِس ماحول میں پرورش پاتے ہُوئے، میری ماں ایسی شخص بن گئی جس نے کبھی کوئی کلِیسیائی میٹنگ نہ چھوڑی تھی۔
اور اِس لیے، میرے والدین کے شادی کرنے اور میرے تین بھائیوں اور میرے پیدا ہونے کے بعد، اُنھوں نے اِنجِیلی اُصُولوں کے عِلم کی روشنی میں ہماری پرورش کرنے کی اپنی بہترین کوشش کی۔ ایک روز میری خالہ، جو کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِین آخری اَیّام کی غیر فعال رُکن تھی، اُس نے میرے والد سے کہا، ”میرے عزیز ،تُمھارے چار بیٹے ہیں۔ اگر تُم واقعی مسِیح میں مرتکز خاندان پروان چڑھانا چاہتے ہو اور اپنے خاندان میں خُدا کو رکھنا چاہتے ہو، تو تُمھیں میری کلِیسیا میں جانے کی ضرورت ہے۔“
اُس نے جو کہا میرے والد نے سُنا، مگر اُس نے اُس روز تک کوئی عمل نہ کیا جب تک کُل وقتی مُنادوں نے ہمارے آس پڑؤس میں تلاش کرتے ہُوئے ہمارے دروازے پر دستک نہ دی، اور ہمیں تعلیم دینا شُروع کی۔ اُسے فوری طور پر احساس ہُوا کہ وہ اُس ہی کلِیسیا کی نُمائندگی کرتے ہیں جس کے متعلق جاننے کی حوصلہ افزائی میری خالہ نے کی تھی۔
نُور اور سچّائی
ایک بات جس نے اِبتدائی طور پر میرے والدین میں یِسُوع مسِیح کی بحال شُدّہ اِنجِیل کی دِلچسپی پیدا کی وہ کلِیسیا کی خاندان اور اُس تعلیم کو دی جانے والی اہمیت تھی کہ ”خُدا کے زیادہ تر نجات و سرفرازی کے کاموں کی تکمیل خاندان کے ذریعے ہوتی ہے۔“ اُن کے بپتِسما سے قبل، میرے والدین جو کُچھ وہ سیکھ رہے تھے اُس سے نہایت متاثر ہُوئے تھے کہ اُنھوں نے پڑوسیوں کو مشنری اسباق کے لیے اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی۔
ایک بات جس نے اِبتدائی طور پر میرے والدین میں یِسُوع مسِیح کی بحال شُدّہ اِنجِیل کی دِلچسپی پیدا کی وہ کلِیسیا کی خاندان کو دی جانے والی اہمیت تھی۔
جب وہ مُنادوں سے ملے، اور اپنے بپتِسما کے بعد اِنجِیل کا مُطالعہ جاری رکھا، تو میرے والدین نے سیکھا کہ کیسے ”[اپنے] بچّوں کی نُور اور سچّائی میں پرورش کرنی“ اور رُوحانی طور پر کیسے”[اپنے] گھر کی ترتیب“ کرنی ہے (عقائد اور عہُود 93: 40–43)۔
اُنھوں نے سیکھا کہ”خاندان اپنے بچّوں کے اَبدی مقدر کے لیے خالق کے منصُوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے“ اور کہ ”جب خُداوند یِسُوع مسِیح کی تعلیمات پر استور کیا جائے گا تو خاندانی زندگی میں خُوشی حاصل ہونا سب سے زیادہ مُمکن ہے۔“
اُنھوں نے سیکھا کہ ”کامیاب شادیوں اور خاندانوں کو ایمان، دُعا، توبہ، معافی، عزت، محبّت، رحم، کام، اور صحت مندانہ تعمیراتی سرگرمیوں کے اُصُولوں پر قائم اور برقرار رکھا جاتا ہے۔“
اُنھوں نے سیکھا کہ خاندان اَبدی ہو سکتے ہیں اور کہ ”وہی معاشرت جو یہاں ہمارے درمیان میں موجود ہے وہاں ہمارے درمیان میں موجود رہے گی، لیکن یہ اَبدی جلال کے ساتھ ملی ہو گی“ (عقائد اور عہُود 130: 2)۔
اور اُنھوں نے سیکھا کہ ”کلِیسیا میں ہر تعلیم، ہر سرگرمی کا حتمی مقصد یہ ہے کہ والدین اور اُن کے بچّے گھر میں خوش ہوں، اَبدی بیاہ میں سربمہر ہوں، اور اپنی نسلوں سے مُنسلک ہوں۔
اس عِلم کے ساتھ، وہ ہمیشہ کے لیے خاندان کی حیثیت سے سربمہر ہونا چاہتے تھے۔
اَبدیت پر نظر
میرے والدین کے بپتِسما کے بعد، دُنیا سے اِنجِیل کی بادشاہی میں منتقل ہوتے ہُوئے، اُنھوں نے اُس پر عمل کِیا جو وہ سیکھ رہے تھے۔ اُنھوں نے خاندانی شام اور خاندانی مُطالعہِ صحائف، وفاداری سے کلِیسیائی عبادات میں شرکت کرنے، اور خاندانی تاریخ کا کام کر کے ہمارے خاندان کو متحد کرنے کا کام کِیا۔ اتحاد کی اِن کوششوں کے ساتھ، اُنھوں نے اَبدیت پر نظر رکھتے ہُوئے نجات کے منصُوبے پر مرکوز خاندان تخلیق کرنے کی اُمِیّد کی۔
1965 میں، جس سال میرے والدین نے بپتِسما لِیا، ساؤ پاولو، برازیل سے قریب ترین ہَیکَل، میسا، ایریزونا میں، تقریباً 6000 میل (9650 کلو میٹر) دور تھی۔ ہمارے خاندان کے لیے سفر بہت مہنگا تھا، لہذا اِس سے قبل کہ وہ اپنی ہَیکَل کی رسُومات پا سکتے اور سربمہر ہوتے، میرے والدین کو 1978 میں ساؤ پاؤلو برازیل ہَیکَل کی تقدیس تک انتظار کرنا پڑا۔ اُس وقت، مَیں ریو ڈی جینرو میں مشنری خدمت کر رہا تھا۔
فروری 1980 میں اپنے مشن کے اِختتام پذیر ہونے سے تقریبا دو ماہ قبل، میرے مشن کے صدر نے مُجھے اور میرے ساتھی کو اَرکانِ سٹیک کے ہمراہ ریو ڈی جینرو سے ساؤ پاؤلو کی ہَیکَل کی جانب رات بھر سفر کرنے کی اجازت دی تاکہ میں ودیعت پا سکوں اور اپنے والدین کے ساتھ سربمہر ہو سکوں۔ اپنے والدین کی طرح مَیں نے بھی ہَیکَل کی رسُومات اور عہُود کی موعودہ برکات کا برسوں انتظار کِیا تھا۔
اِس تجربے نے مُستقبل کے بارے میں میرے نظریہ کو بدل دیا اور مُجھے صدر رسل ایم نیلسن کے حالیہ الفاظ کی سچّائی کی پہلی جھلک دی: ”ہَیکَل میں گُزارا ہُوا وقت آپ کو سوچ آسمانی رکھنے میں مدد دے گا اور تصوّر پانے میں مدد کرے گا کہ آپ واقعی کون ہیں، آپ کون بن سکتے ہیں، اور آپ ہمیشہ کے لیے کس قِسم کی زِندگی گُزار سکتے ہیں۔“
اِس موقع پر ہَیکَل میں میرے مُختصر وقت نے میری باقی ماندہ مشنری خِدمت کو گہرے طور پر مُتاثر کِیا۔ اِس نئے تصوّر کے ساتھ، ہَیکَل کی گواہی اور خاندانوں کے لیے خُدا کے منصُوبہ کی اہمیت کا میری زِندگی پر دیر پا اثر ہُوا۔
جب میری بیوی، روسانا، اور مَیں نے اپنے مِشن کے دو سال بعد شادی کی، تو ہم ہَیکَل میں اپنے اَبدی خاندان کی پرورش کرنے کے نظریہ کے ساتھ سربَمُہر ہُوئے۔ ایسا کرنے کے لیے، ہم نے خاندانی روایات تخلیق کرنے کے لیے باہم کام کِیا جیسے کہ ہمارے والدین نے ہمیں سکھائی تھیں، سب کی توجہ نجات دہندہ، اُس کی تعلیمات، اور اُس کے دورِ جدید کے انبیاء کی تعلیمات پر مرکُوز تھی۔
آج ہمارے بچّے اپنے بچوّں کی پرورش خُوشی کے اُنھی اِنجِیلی اُصُولوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے، خاندان سب کچھ ہے کیونکہ ہم خُدا کے منصُوبے میں خاندان کی مرکزیت کو سمجھتے ہیں۔
بطور کلِیسیائی حاکمِ اعلیٰ، مُجھے اپنے تین بچّوں کو ہَیکَل میں اُن کے جیون ساتھیوں کے ساتھ سر بمہر کرنے کی برکت حاصل ہوئی تھی۔ جِس لمحے اُنھوں نے ہَیکَل میں الطار پر گھٹنے ٹیکے تو اُن کی آنکھوں میں جھانکنا ایک خوبصورت تجربہ تھا۔ مَیں اپنی اولاد کو اُنھیں اِنجِیلی اُصُولوں سے بابرکت ہوتے ہُوئے دیکھ سکتا تھا جو میرے والدین نے مُجھے سکھائے تھے اور جو روسانا اور مَیں نے اُنھیں سکھائے۔ مَیں اُن برکات کو آئندہ نسلوں میں جاری و ساری دیکھ سکتا تھا۔ اور مُجھے یاد دِلایا گیا کہ یہ سب کُچھ کون مُمکن بناتا ہے۔
کرسمس کی یاد دہانی
خاندان خُدا کے خُوشی کے منصُوبے کا مرکزی حِصّہ ہے، لیکن نجات دہندہ یِسُوع مسِیح کے بغیر، یہ منصُوبہ مُمکن نہ ہو گا۔ اُس کی اِنجِیل میں پائے جانے والا اُس کا کفّارہ اور رُسُوم اور عہُود سرفرازی کے وعدے کو مُمکن بناتے ہیں۔
صدر نیلسن نے اَعلان کِیا: ”سرفرازی خاندانی معاملہ ہے۔ فقط یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کی نجات بخش رُسُوم کے ذریعے ہی خاندانوں کو سرفراز کِیا جا سکتا ہے۔ بالآخر جِس آخرت کے لیے ہم کوشش کرتے ہیں یہ ہے کہ ہم خاندان کی حیثیت سے خُوش ہوں—ودیعت یافتہ، سربمہر، اور خُدا کی حضوری میں اَبدی زندگی کے لیے تیار ہوں۔“
جب مَیں ایسے مقامات پر جاتا ہُوں جو مَیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوتے، تو مَیں ایک چھوٹی سی چرنی تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہُوں جو روسانا کو اور مُجھے نجات دہندہ کی یاد دلاتی ہے۔ مَیں کافی بڑا مجمُوعہ بنا رہا ہوں۔
ولادتِ مسِیح کے اُن عاجزانہ مناظر پر غور کرتے ہُوئے، میری اہلیہ اور مَیں نے ایک بار غور کِیا، ”حقیقی معنوں میں ہماری زندگیوں میں کون سی بات سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے؟“ یقیناً، جواب، نجات دہندہ، اُس کی اِنجِیل، اور ہمارا خاندان ہے۔ ہمیں اپنے آسمانی باپ کی محبّت کی یاد دلانے کے لیے اور یہ کہ نجات دہندہ کے وسیلے سے ہی اَبدی خاندانوں کا وعدہ مُمکن ہو جاتا ہے، چند سال قبل کرسمس سے پہلے ہم نے اپنی تمام تر چرنیوں کو اپنے گھر کی دو بڑی شیلفوں پر رکھا—اور کرسمس کی چھٹیوں کے بعد اُنھیں وہاں سے ہٹانے کی بجائے اُنھیں وہیں اُوپر رہنے دیا۔ یہ روایت ہمیں کرسمس کی رُوح کو پورا سال ہمارے گھر میں رکھنے میں مدد کرتی ہے۔
ہر روز جب ہم اِن چرنیوں کو دیکھتے ہیں، تو وہ بڑی نرمی سے ہماری زندگیوں میں ہمیں نجات دہندہ کے مرکزی کردار کی یاد دِلاتے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اب زمین پر اطمینان (دیکھیں لُوقا 2:14) اگلے جہان میں اَبدی خُوشی کا اِنحصار نجات دہندہ اور اُن عہُود کی پاس داری کرنے میں ہے جو ہم نے اُس کے ساتھ باندھے ہیں۔ اور وہ ہمیں یاد دِلاتے ہیں ”کہ وہ دُنیا میں آیا، یعنی یِسُوع، تاکہ دُنیا کے واسطے مصلُوب ہو، اور دُنیا کے گُناہ اُٹھائے، اور دُنیا کو مُقدّس ٹھہرائے، اور اُس کو ساری ناراستی سے پاک کرے؛
”تاکہ اُس کے وسِیلے سے وہ سب بچائے جائیں جو باپ نے اُس کے اِختیار میں دیے اور اُس کے وسِیلے سے پَیدا کیے گئے ہیں“ (عقائد اور عہُود 76:41–42)
جس طرح ہم نے یہ سچّائیاں اپنے والدین سے سیکھیں، روسانا اور مَیں نے اُن کو اپنے بچّوں تک پہنچانے کے لیے کام کِیا ہے۔ اب ہمارے بچّے یہ ہی سچّائیاں اپنے بچّوں کو سِکھا رہے ہیں۔ 60 برس قبل برازیل میں ہمارے چھوٹے سے گھر میں میرے والدین کے دِلوں میں بوئے گئے بیج پھلے پھولے اور پھل لائے ہیں ”جو بیش قیمت ہیں جو ہر طرح کی شِیرینی سے زیادہ شِیریں اور جو کسی بھی سفید چیز سے زیادہ سفید ہیں، ہاں، اور ہر قسِم کی پاکیزہ شَے سے زیادہ پاکیزہ ہیں“ (ایلما 32:42)۔
مَیں گواہی دیتا ہُوں کہ جو لوگ خاندانوں کے لیے منصُوبہِ خُدا کو قبول کرتے ہیں، نجات دہندہ کی مانند پیار کرتے ہیں، اور اپنے عہُود کی پاس داری کرتے ہیں کسی روز اپنے پیاروں اور باپ اور بیٹے کے ساتھ ”اَبدی زندگی اور خُوشی کی معمُوری کی برکات“ وراثت میں پائیں گے۔
© 2025 by Intellectual Reserve, Inc. All rights reserved. یُو ایس اے میں چھپا۔ منظُوری برائے انگریزی: 19/6۔ منظُوری برائے ترجمہ: 19/6۔ ترجمہ برائے Monthly Liahona Message, December 2025. Urdu. 19614 434