2025
ہم یِسُوع مسِیح کی پَیرَوی اُس کے کام میں اُس کے ساتھ شامل ہو کر کرتے ہیں
جُون 2025


”ہم یِسُوع مسییح کی پَیرَوی اُس کے کام میں اُس کے ساتھ شامل ہو کر کرتے ہیں،“ لیحونا، جُون 2025۔

ماہانہ لیحونا پیغام، جُون 2025

ہم یِسُوع مسییح کی پَیرَوی اُس کے کام میں اُس کے ساتھ شامل ہو کر کرتے ہیں

ہم نجات دہندہ کے کام میں حصہ لیتے ہیں جب ہم اُس کے مقاصد پر توجہ مرکُوز کرتے ہیں، اُس کے حُکموں پر عمل کرتے ہیں، اور ایک دُوسرے سے محبّت رکھتے ہیں۔

مسِیح اور مالدار نوجوان حُکمران

مسِیح اور نوجوان حُکمران میں سے تفصِیلات، اَز ہینرک ہوفمین

جب ہم بپتِسما لیتے ہیں، تو ہم اپنے اوپر یِسُوع مسِیح کا نام لینے کا عمل شِروُع کرتے ہیں۔ اِس عمل کا ایک حصّہ یہ ظاہِر کرتا ہے کہ ہم نجات دہندہ کے کام میں اُس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ صدر ڈیلن ایچ اوکس، صدارت اوّل میں مُشیرِ اوّل، لکھتے ہیں، ”اپنے اوپر مسِیح کا نام لینے کے اہم ترین معنوں میں سے ایک اپنے اوپر نجات دہندہ اور اُس کی بادشاہی کا کام لینے کے لیے آمادگی اور عزم رکھنا [ہے]۔“

مُنجّی کا اَمر ”انسان کی لافانی اور ابدی زِندگی کا سبب پیدا کرنا ہے“ (مُوسیٰ 1:‏39)۔ لافانیت ایک غیر مشروط تحفہ ہے جِس کی ضمانت یِسُوع مسِیح نے پہلے ہی اپنی قیامت کے وسیلے سے دے دی ہے۔ تاہم، ابدی زندگی، لافانیت جیسی نہیں ہے۔ ابدی زندگی سب سے بڑی نعمت ہے جو خُدا بنی نوع انسان کو عطا کر سکتا ہے (دیکھیں عقائد اور عہُود 14:‏7)۔ اِس کا مطلب اُس کی حضوری میں بطور خاندان سدا رہنا ہے۔ ہمارے لیے ابدی زندگی پانے کے لیے، ہمیں یِسُوع مسِیح کے وفادار شاگرد بننا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم نجات دہندہ اور اُس کے کفارہ پر ایمان لا کر، توبہ کر کے، بپتسما پا کر، رُوحُ القُدس کی نعمت پا کر، ہَیکَل کے عہُود باندھنے اور ان پر قائم رہنے سے بحال شدہ انجیل پاتے ہیں، اور آخر تک برداشت کرتے ہیں۔ آخر تک برداشت کرنا نجات دہندہ کے کام میں اُس کے ساتھ شامل ہونا ہے۔

بے تابی سے مصروفِ عمل

ہم نجات دہندہ کے کام میں حصہ لیتے ہیں جب ہم خُدا کے بچّوں کی بھی یِسُوع مسِیح کے وفادار شاگرد بننے میں مدد کرتے ہیں۔ اِس میں اُس کی اِنجیل کا اشتراک کرنا، اِس طرح منتشر اسرائیل کو اکٹھا کرنا، نجات دہندہ کی کلیسیا میں ذمہ داریاں پوری کرنے اور اس کی مانند بننے کی کوشش کرنا شامل ہے۔ ہماری [اُس کے کام میں] کامیابی کا اِنحصار اِس بات پر نہیں ہے کہ دُوسرے آپ کو، آپ کی دعوتوں، یا آپ کی مُخلصانہ مہربانیوں کا جواب کیسے دیتے ہیں۔ جیسا کہ صدر رسل ایم نیلسن نے سِکھایا کہ، ”کبھی بھی آپ کُچھ بھی کسی کے لیے بھِی—پردے کی کسی بھی جانب کرتے ہیں—جب آپ خُدا کے ساتھ عہُود باندھنے اور اُن کی جگہ بپتِسما اور ہَیکل کی ضرُوری رُسُومات کو حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں، تو آپ اِسرائیل کو اِکٹھا کرنے میں مدد کر رہے ہوتے ہیں۔“

نجات دہندہ کے کام کو اپنا اَمر بنانے کرنے کے لیے، ہم اُس کے مقاصد پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، اُس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں، اور ایک دوسرے سے مُحبّت رکھتے ہیں۔ جب ہم اُس کا کام اِس کے طریقے سے کرتے ہیں (دیکھیے عقائد اور عہُود 51:‏2) تو ہمارے لیے کچھ چیزیں چھوڑ دی گئی ہیں کہ ہم خود سے اُن کا فہم پائیں۔ نجات دہندہ نے جیکسن کاؤنٹی، میسوری میں اکٹھے ہونے والے مقدسین کو بتایا:

”اور دیکھو، یہ واجب نہیں کہ مَیں ہر بات میں حُکم دُوں؛ کیوں کہ جِس کسی کو ہر بات میں مجبور کِیا جاتا ہے، وہ کاہل اور بےوقوف خادِم کی مانِند ہے، پَس وہ کوئی اَجر نہ پائے گا۔

”مَیں سچّ کہتا ہُوں، کہ اِنسان بےتابی کے ساتھ کارِ خیر میں مشغُول رہے، اور بہتیرے کام اپنی آزاد مرضی سے کرے، اور بہت زیادہ راستبازی کو انجام دے؛

”کیوں کہ ایسے ہی کاموں میں قُوّت ہے، جِن کو وُہ خود اپنی مرضی سے کر سکتے ہُوں۔ اور اِنسان جب جب نیکی کرے گا وہ ہرگز اپنا اَجر نہ کھوئے گا“ (عقائد اور عہُود 58:‏26–28

جب ہم نجات دہندہ کی پَیرَوی کرتے ہیں، اُس کے کام میں اُس کے ساتھ شامل ہوتے ہیں، اور دوسروں کی اُس کے وفادار شاگرد بننے میں مدد کرتے ہیں، تو ہم وہ سِکھاتے ہیں جو وہ خُود سِکھائے گا۔ چوں کہ ہمیں کچھ اور سِکھانے کا اختیار نہیں ہے (دیکھیں عقائد اور عہُود 52:‏9، 36)، ہم غیر متزلزل طور پر اُس کی تعلیم پر توجہ مرکوز کرتے ہیں (دیکھیں عقائد اور عہُود 68:‏25)۔ مزید براں، ہم اُن پر خصوصی توجہ دیتے ہیں جو غریب، ضرورت مند، اور کمزور ہیں (دیکھیں عقائد اور عہُود 52:‏40)۔ جب نجات دہندہ نے ناصرت کے عبادت خانہ میں یسعیاہ کا حوالہ دیا تھا تو یہ تاکید واضح کی گئی تھی:

”خُداوند کا رُوح مُجھ پر ہے، کیوں کہ اُس نے مُجھے غریبوں کو خُوشخبری دینے کے لیے مسَح کیا؛ اُس نے مجھے بھیجا کہ قیدیوں کو رہائی، اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سُناؤں، کُچلے ہُوؤں کو آزاد کروں،

”خُداوند کے سالِ مقبُول کی مُنادی کروں“ (لوقا 4:‏18–19؛ مزید دیکھیں یسعیاہ 61:‏1–2

خُداوند کا سالِ مقبُول اُس وقت کا حوالہ ہے جب عہدِ خُدا کی تمام برکات اُس کے لوگوں پر نِچھاور کی جائیں گی۔ ہم دوسروں کو خُدا کے ساتھ عہُود باندھنے اور پورا کرنے کی برکات پانے اور اُن کی دیکھ بھال کرنے کی دعوت دیتے ہوئے یِسُوع مسِیح کی پیروی کرتے ہیں جو غریب ہیں یا کسی اور طرح ضرورت مند ہیں۔

یِسُوع مسِیح کے ساتھ اُس کے کام میں شامل ہونا پُر جُوش ہے کیوں کہ اُس کے کام، منصُوبے، اور مقاصد ”ناکام نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی خاک میں ملائے جا سکتے ہیں“ (عقائد اور عہُود 3:‏1)۔ اُن لوگوں کو جو حوصلہ شکنی محسوس کرتے ہیں، خُداوند نے مشورت دی: ”پَس، نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہارو، کیوں کہ تُم ایک عالی و اَرفع کام کی بُنیاد رکھ رہے ہو۔ اور معمولی باتوں کے وسِیلے سے وہ رُونما ہوتی ہے جو اَفضل ہے“ (عقائد اور عہُود 64:‏33)۔ ہم فصل کی کٹائی کے بارے میں خُداوند کو فکر مند ہونے دیں، اور ہم صرف اپنے حصے کا کام سر انجام دیں۔

دِل اور رضامند ذہن

اپنے حصّے کا کام کرنا ہمارے تصّور سے بھی آسان ہے کیونکہ ہمیں خُداوند کے کام میں غیر معمولی خُوبیوں یا صلاحیتوں کو لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُس کا تقاضا محض عزم اور آمادگی ہے۔ خُداوند نے کرٹ لینڈ، اوہائیو کے مُقدّسین سے فرمایا، ”دیکھو، خُداوند دِل اور نیت کا طالب ہے“ (عقائد اور عہُود 64:‏34)۔ مزید برآں، خُدا طالب کو قابل بنا سکتا ہے، لیکن وہ قابِل کو طالب نہیں بنا سکتا اور نہ بنائے گا۔ باالفاظ دیگر، اگر ہم پُرعزم اور آمادہ ہیں، تو وہ ہمیں استعمال کر سکتا ہے۔ مگر ہم کتنے ہی باصلاحیت کیوں نہ ہوں، وہ ہمیں تب تک استعمال نہیں کرے گا جب تک ہم اس کے کام کے ساتھ مُخلص نہیں ہوتے اور اُس کی مدد کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔

سیموئیل اور اینا-ماریا کویوسٹو نے عزم اور آمادگی دونوں کا اِظہار کیا۔ اپنی شادی کے بعد جلد ہی، کویوسٹوز کا خاندان کیرئیر کے مواقوں کی جستجو میں جیواسکیلا، فن لینڈ سے گوٹیبورگ، سویڈن منتقل ہو گئے۔ وہاں پہنچنے کے بعد، بھائی کویوسٹو کو صدر لیف جی میٹسن کے ساتھ ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا، جو گوٹیبورگ سویڈن سٹیک کی صدارتی مجلس میں مشیر تھے۔ چوں کہ سموئیل سویڈش زبان نہیں بولتا تھا، اس لیے انٹرویو کا انعقاد انگریزی میں کیا گیا تھا۔

مختصر ملاقات کے بعد، صدر میٹسن نے سیموئیل کو یوطبی وارڈ میں وارڈ مشن راہ نُما کے طور پر خِدمت کرنے کا کہا۔ سیموئیل نے واضح اشارہ کیا: ”مگر مَیں سویڈش زبان نہیں بولتا۔“

صدر میٹسن اپنی میز پر آگے کو جھکے اور اِشارہ کرتے ہوئے پوچھا، ”کیا مَیں نے پوچھا کیا آپ سویڈش بول سکتے ہیں، یا کیا آپ خُداوند کی خدمت کرنے کے لیے آمادہ ہیں؟“

سموئیل نے جواب دیا، ”آپ نے پوچھا کیا مَیں خُداوند کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہُوں۔ اور مَیں ہُوں۔“

سیموئیل نے بُلاہٹ قبول کی۔ اینا ماریہ نے بھی بلاہٹیں قبول کیں۔ دونوں نے وفاداری سے خِدمت کی اور اِسی دوران خوبصورت سویڈش بولی بولنا سیکھ گئے۔

خُداوند کی خِدمت کرنے کے عزم اور آمادگی نے سموئیل اور اینا-ماریہ کی زندگیوں کو امتیاز بخشا۔ وہ کلِیسیا میں عام ہیرو ہیں۔ جب بھی اُن سے پوچھا گیا اُنھوں نے وفاداری سے خِدمت کی ہے۔ اُنھوں نے مُجھے سِکھایا ہے کہ جب ہم خِدمت کرتے ہیں، تو ہم اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہیں (دیکھیں عقائد اور عہُود 60:‏13)، اور پھر خُداوند اپنے مقاصد کی تکمیل میں ہماری مدد کرتا ہے۔

جب ہم خِدمت کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں، تو ہم شکایت کرنے یا بُڑبُڑانے کی کوشش نہیں کرتے ہیں، کیونکہ ہم کسی بھی طرح سے اپنی خِدمت کو آلودہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ شکایت کرنا کمزور عزم کی علامت ہو سکتا ہے، یا یہ کہ نجات دہندہ کے لیے ہماری مُحبّت ویسی نہیں ہے جیسی ہونا لازم ہے۔ دھیان نہ دیا جائے تو، بُڑ بُڑانا خُداوند کے خلاف سراسر بغاوت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ ترقی عزرا بوتھ کی زندگی میں دیکھی گئی ہے، جو اوہائیو میں کلِیسیا کے ابتدائی رجوع لانے والوں میں سے تھے جنہیں میزوری میں بطور مُناد بلاہٹ دی گئی تھی۔

جُون 1831 میں جب وہ اوہائیو سے روانہ ہوئے، تو عزرا پریشان تھے کہ کچھ مُناد ویگنوں کے ذریعے سفر کرنے کے قابل ہوئے تھے جبکہ اُنہیں موسمِ گرما کی گرمی میں راستے میں منادی کرتے ہوئے پیدل چلنا پڑا تھا۔ وہ بُڑبُڑائے۔ جب وہ میزوری میں پہنچے، تو اُنہوں نے خود کو کم تر محسوس کیا۔ میزوری ویسا نہیں تھا جس کی اُنہوں نے توقع کی تھی۔ بجائے اِس کے، اُنہوں نے ارد گرد دیکھا اور غور کیا ”امکانات قدرے مایوس کن لگتے تھے۔“

عزرا انتہائی بدگمان، طنزیہ اور ناقد بن گئے۔ میزوری چھوڑنے پر، جب وہ واپس گئے تو اُنہوں نے مُنادی کرنے کی بجائے، جیسا کہ اُن کو کرنے کو کہا گیا تھا، وہ جتنی جلدی ہو سکتا تھا اوہائیو کو واپس چلے گئے۔ اُن کی ابتدائی بُڑبڑاہٹ ڈگمگانے اور آخر کار اپنے اولین رُوحانی تجربات پر اعتماد کھونے کا موجب بنی۔ جلد ہی عزرا نے کلِیسیا کو چھوڑ دیا اور ”بالآخر ’مسِیحیت کو ترک کر دیا اور ملحد بن گیا۔‘“

اگر ہم محتاط نہیں ہیں تو ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم ابدی تناظر قائم نہیں رکھتے، خود کو یاد دلاتے ہوئے کہ اصل میں یہ کس کا کام ہے، ہم شکایت کر سکتے ہیں، ڈگمگا سکتے ہیں، اور آخر کار اپنے ایمان کو کھو سکتے ہیں۔

میں دُعا گو ہُوں کہ ہم اُس کے کام میں شامل ہو کر یِسُوع مسِیح کی پیروی کرنے کا انتخاب کر سکیں۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو ہمیں ”نہایت بڑے اور قیمتی وعدے“ عطا کیے جاتے ہیں (2 پطرس 1:‏4)۔ ان برکات میں گُناہ کی معافی (دیکھیں عقائد اور عہُود 60:‏7؛ 61:‏2، 34؛ 62:‏3؛ 64:‏3)، نجات (دیکھیں عقائد اور عہُود 6:‏13؛ 56:‏2)، اور سرفرازی (دیکھیں عقائد اورعہُود 58:‏3–11؛ 59:‏23) شامل ہے۔ درحقیقت، ہم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ سب سے عظیم ترین تحفہ—ابدی زندگی خُدا دے سکتا ہے۔

حوالہ جات

  1. ڈیلن ایچ اوکس، اُس کا مُقدّس نام (1998)، 37۔

  2. اسرائیل کو اکٹھا کرنا سب کو یِسُوع مسِیح پر سچے ایمان والے بننے کی دعوت کو ظاہر کرتا ہے۔

  3. میری اِنجِیل کی مُنادی کرو: یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کو بانٹنے کے لیے راہ نُما کِتاب (2023)، 13۔

  4. رِسل ایم نیلسن، ”اِسرائِیل کی آس“ (عالم گِیر عِبادت برائے نوجوانان، 3 جُون، 2018)، گاسپل لائبریری۔

  5. دیکھیں میتھیو میک برائڈ، ”عزرا بوتھ اور آئزک مورلی،“ میں مکاشفات سیاق و سباق میں: عقائد اور عہُود کے حصوں کے پسِ منظر کی کہانیاں (2016)، 130–36۔