”ہمارے محبُوب مُنجّی کی فتح،“ لیحونا، اپریل 2026۔
ماہانہ لیحونا پیغام، اپریل 2026
ہمارے محبُوب مُنجّی کی فتح
یِسُوع مسِیح کے بیش قیمت تحفے کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے کوئی اَلفاظ موجود نہیں ہیں۔ کبھی کسی اور سے اِس کا تقاضا نہیں کیا جائے گا۔ اُس نے ”ایک بار سب کے لیے“ دکھ سہے۔
جیسے جیسے برس گزرے ہیں، میں مزید فروتن ہو گیا ہوں جب میں نے اپنے نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح کے کفارہ کے لامحدود تحفے کے متعلق غور کیا، مطالعہ کیا، اور بے پناہ تسلی پائی۔ گتسمننی میں، صلیب پر، اور قبر پر جو کچھ وقوع پذیر ہوا اُس کی بدولت بنی نوع انسان کی منزل کس قدر تبدیل ہوئی ہے اِنسانی ذہن شاید ہی کبھی اُس کا فہم پانا شروع کرے گا۔
ہم سب دِل شکنی اور تکلیف کا سامنا کرتے ہیں
بحیثیتِ رَسُول اپنی بُلاہٹ میں، مَیں نے بڑے پیمانے پر سفر کیا ہے اور مُجھے پوری دُنیا میں بچّوں، نوجوانوں اور بالغوں سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ زندگی میں بڑی خوشی کے لمحات آتے ہیں، مگر ایک چیز جس کا مَیں عینی شاہد ہُوں اور اپنے دل کی گہرائیوں میں محسُوس کی ہے وہ یہ ہے کہ زندگی شادمانی و مسرت کے علاوہ، دِل شکن اور تکلیف دہ بھی ہے۔
مَیں چار چھوٹے بچّوں کے ساتھ بیٹھنا نہیں کبھی بھی بُھلا نہ پاؤں گا جن کے والدین کی جانیں اُن کے اپنے گھر میں مجرمانہ ارادے کے ساتھ ایک گُھس بیٹھیے نے بڑی سفاکی سے لے لیں جب بچّے محوخواب تھے، یا ایک خاتون کے ساتھ مُلاقات جس کے ساتھ جب وُہ لڑکی تھی ایک بھروسا مند رشتہ دار نے زیادتی کی تھی ، یا کسی نوجوان لڑکی کے بستر کنارے بیٹھنا جس کو سائیکل سے گرنے کے بعد دماغی چوٹ لگی تھی اور وہ جلد ہی مر جائے گی، یا اُس عورت کی آہیں سُننا جس کے شوہر نے کئی برسوں سے اُسے اور اپنےعہُودِ ہَیکل کو سنگین طور پر دغا دیا تھا۔
مَیں نے ایک ایسے جوڑے کے درد کو محسُوس کیا ہے جن کا بالغ بچّہ اب اِنجیل کی سچائیوں پراعتقاد نہیں رکھتا اور خاندان میں دُوسروں کے اِیمان کو کمزور کرنے کا خواہاں تھا۔ مَیں نے پریشان حال والدین اور احباب سے مُلاقات کی ہے جن کے نہایت ہونہار بالغ بچّے نے اپنی جان لے لی تھی۔ میں نے اُن لوگون کے خُدا پرستی کے غم کو محسُوس کیا ہے جنہوں نے گناہ کیا ہے اور واقعی توبہ کرنا چاہتے تھے اور اُن کی تباہی کو جو گناہ سے متاثرہوئے ہیں۔
مَیں نے ذہنی بیماری کے کرب کو دیکھا ہے دونوں اُس کے لیے جو تکلیف میں مُبتلا ہے اور اُن کے لیے جو خاموشی سے تکلیف سہتے ہیں جب وہ نہایت کم مدد کرنے کی قابلیت کے ساتھ صرف اِس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مَیں نے قدرتی آفات، سیلاب، طوفان، آگ، اور زلزلوں کی وجہ سے ہونے والے بے پناہ ذاتی نقصان کو دیکھا ہے۔ مَیں ممالک میں سیاسی طوفانوں، جنگوں، اور تباہی سے ہونی والی ہنگامہ خیزی، اور اذیت کا شاہد ہُوں جوغیر متوقع طور پر اُن لوگوں پر تھوپی جاتی ہے جو معصُوم ہیں اور راست کام کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔
دستِ شِفا، از کولبی لارسن، نقل نہیں کی جا سکتی
نجات دہندہ ہماری مدد کرتا ہے
یِسُوع مسِیح کے کفارہ کی بات کرتے ہوئے، صدر جیمز ای فاؤسٹ (1920–2007)، صدارتِ اَوّل میں مشیرِ دوم، نے فرمایا: ”تکلیف کے ماروں کو وہ کام کرنا چاہیے جو وہ اپنی آزمایشوں میں کر سکتے ہیں، اور’نجات دہندہ اپنے لوگوں کی اُن کی کمزوریوں میں مدد کرے گا‘ [ایلما 7: 12]۔ وہ ہمیں ہمارے بوجھ اُٹھانے میں مدد دے گا۔ کچھ زخم اِس قدر تکلیف دہ اور گہرے ہوتے ہیں کہ اُنھیں معبُودِ حقیقی کی مدد اور آیندہ زندگی میں کامل انصاف اور تلافی کی اُمِّید کے سوا شِفا یاب نہیں کیا جا سکتا۔ … وہ ہمارے درد کو سمجھتا ہے اور یہاں تک کہ ہمارے تاریک ترین لمحوں میں ہمارے ساتھ چلے گا۔“
مَیں مُنجّی کی مُحبّت اور یسُوع مسِیح کے کفارہ کے وسیلے کبھی نہ ختم ہونے والی برکات کی جانب زیادہ سے زیادہ کھِچا چلا جاتا ہُوں۔ اُس نے زندگی کے کٹھن تجربات سے جو ناقابلِ برداشت درد لاتے ہیں اُن سے ہمیں محفوظ نہیں رکھا، بلکہ ہمیں دائمی تکلیف اور آسمانی باپ سے اجنبیت سے تحفظ دیا ہے اور ہمیں، اپنے ہمہ گیر دکھ سہنے کے ذریعے، آسمانی باپ کی حضُوری میں کامل شادمانی اور اَبَدی خُوشی پانے کے امکان کی اجازت دی ہے۔
صدر ڈیلن ایچ اوکس نے ہمیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا: ”بِلاشُبہ، خُدا کی سب سے زیادہ مضبُوط عطا کی گئی فانی مدد نجات دہندہ، یِسُوع مسِیح تھا، جو قِیمت اَدا کرنے کے لِیے دُکھ اُٹھائے گا اور تَوبہ کِیے گئے گُناہوں کی مُعافی فراہم کرے گا۔ وہ رحیم اور جلالی کَفارہ وضاحت کرتا ہے کہ خُداوند یِسُوع مسِیح پر اِیمان کیوں اِنجِیل کا پہلا اُصُول ہے۔ اُس کا کَفارہ ’مُردوں کی قیامت لاتا ہے‘ (ایلما 42: 23) اور یہ ’دُنیا کے گُناہوں کا کفّارہ اَدا کرتا [ہے]‘ (ایلما 34: 8)، ہمارے تمام توبہ شُدّہ گُناہوں کو مِٹاتا اور ہمارے نجات دہندہ کو قُدرت عطا کرتا ہے کہ ہماری فانی کمزوریوں میں ہمیں سہارا دے۔“
گتسمنی میں دُعا سے تفصیل، از ڈیل پارسن، صرف کلِیسیائی استعمال کے لیے نقل کی جا سکتی ہے
اَبَدیت کا اہم ترین واقعہ
جب مَیں اُن مصائب کے بارے میں سوچتا ہوں جو میں نے ذاتی طور پر دیکھے ہیں، جو اُن تمام لوگوں کے مقابلے میں جو زمین پر رہے ہیں یا رہیں گے انتہائی قلیل ہیں، مَیں اُن تمام تر اَلفاظ کے ساتھ جو مَیں جانتا ہوں، اپنے دِل کےاحساسات کو، اُس سب کُچھ کے لیے جو مَیں بیان نہیں کر سکتا، جو مُنجّی کے دل و دماغ اور جسم و جان میں بنی نوع انسان کے گُناہوں اور درد کے لیے ہمہ گیر اذِیت اُٹھانے کے مُقدّس لمحات کے وقت وقُوع پذیر ہوئے ہوں گے۔
اَبَدیت کا اہمیت ترین واقعہ تب رُونما ہونا شروع ہوا جب یِسُوع یروشلیم شہر کی فصیل سے باہر کوہِ زیتون پر ”گتسمنی نام جگہ کو“ (متی 26: 36) گیا۔ اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا، ”میری جان نہایت غمگین ہے، یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے“ (متی 26: 38)۔
اُس نے یہ کہتے ہوئے، دُعا کی، ”اے میرے باپ، اگرہو سکے تو یہ پیالہ مُجھ سے ٹل جائے: تو بھی نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو“ (متی 26: 39)۔ وہ اپنے شاگردوں کے پاس واپس آیا، اُنہیں سوتے پایا، پھر چلا گیا، اور دوسری بار دُعا کی۔ ”اے میرے باپ، اگر یہ میرے پیئے بغیر نہیں ٹل سکتا، تو تیری مرضی پوری ہو۔ … اور [اُس] نے ہھر وہی بات کہہ کر تیسری بار دُعا کی“ (متی 26: 42، 44)۔
یِسُوع نے تلخ پیالہ پیا اور باغ اور صلیب دونوں پر ہمارے فانی فہم سے بالاتر دکھ اُٹھایا۔ بے گناہ ہوتے ہوئے، اُس نے ہمارے سارے گناہ خود پر لے لیے، کہ جب ہم اُس کے پاس آتے اور توبہ کرتے ہیں، تو ہمارے گناہ اور بوجھ ہم سے اٹھا لیے جاتے ہیں (دیکھیں 2 کرنتھیوں 5: 21)۔
یِسُوع کا دکھ، موت، اور کفارہ بخش قربانی طویل عرصے سے متوقع تھی۔ یِسُوع کی پیدایش سے 700 برس قبل بات کرتے ہوئے، یسعیاہ نے نبوت کی کہ ”خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی“ (یسعیاہ 53: 6)۔ یِسُوع نے اُن سب کے لیے اپنی جان بطور ” فدیہ“ دینے کی بات کی (متی 20: 28؛ مزید دیکھیں 1 تیمتھیس 2: 6) ”گناہوں کی معافی کے لیے“ (متی 26: 28) جو اُس پر ایمان لاتے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ پطرس نے بیان کیا کہ کیسے اُس نے ”[ہمارے] گناہوں کے باعث دکھ اُٹھایا“ (1 پطرس 3: 18)، کہ اُسی کے مار کھانے سے ہم نے شِفا پائی (دیکھیں 1 پطرس 2 : 24)۔ اُس نے وہ کیا جو ہمیں اپنے باپ کی حضوری میں واپس لے جانے کے لیے کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ”ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کِیا گیا“ (یسعیاہ 53: 5)۔
گتسمنی میں دُکھ اُٹھانے کے بعد، اُس کی اذیت جاری رہی—اُس کو ایسے شخص سے دھوکا دیا جانا جو اُس کے ساتھ چلتا تھا، بے انصاف حکمرانوں کے سامنے تمسخر اُڑایا جانا، کوڑوں سے اُس کے بدن کو اذیت دیا جانا، ظالم اور بے رحم سپاہیوں کے ہاتھوں اُس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا جانا (دیکھیں یوحنا 18: 2–3، 12–14؛ مرقس 15: 15–20)، اور اُس کی کمر کی چاک جلد پر بھاری شہتیر رکھا جانا جب وہ گُلگتہ کی جانب پیدل چلا (دیکھیں یوحنا 19: 16–17)۔
صلیب پر، گتسمنی میں محسُوس کی گئی انتہائی اذیت اُس شدت سے لوٹی جس کو کوئی انسان برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ یِسُوع مسِیح، ابنِ خُدا، نے اپنی جان دینے کے اپنے باپ کے الہٰی فرمان کو تنہا پورا کیا۔ سپاہی اور حکمران اِسے اُس سے نہیں لے سکتے تھے (دیکھیں یوحنا 10: 18)۔ احترام اور فروتنی سے، یسوع نے اپنا سر جھکایا اور کہا، ”تمام ہؤا“ (یوحنا 19: 30)۔
اُس کی فانی زندگی کی آخری گھڑی مکمل ہوئی۔ اُس کی گراں قدر بخشش کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے کوئی اَلفاظ موجود نہیں ہیں۔ کسی اور سے پھر کبھی اِس کا تقاضا نہیں کیا جائے گا۔ یِسُوع مسِیح نے ”ایک ہی بار“ سب کے لیے دکھ سہے (عبرانیوں 10: 10) ۔
وہ جی اُٹھا ہے!
اپنے الہٰی مقصد کی تکمیل کے ساتھ، اب وہ ساری انسانی تاریخ میں قبر سے لافانیت میں جی اُٹھنے والا پہلا شخص ہو گا (دیکھیں 1 کرنتھیوں 15: 21–23)۔
قبر پر فرشتوں نے عورتوں سے کہا:
”زندہ کو مردوں میں کیوں ڈھونڈتی ہو؟
”وہ یہاں نہیں، بلکہ جی اُٹھا ہے“ (لُوقا 24: 5–6)۔
اپنے رَسُولوں سے، اُس نے کہا، ”میرے ہاتھ اور پاؤں دیکھو کہ مَیں ہی ہوں“ (لوقا 24: 39)۔ بعد میں، ”وہ پانچ سو سے زیادہ بھائیوں کو ایک ساتھ … دِکھائی دیا“ (1 کرنتھیوں 15: 6)۔ عینی شاہدین نے جی اُٹھے نجات دہندہ کو دیکھا۔ وہ مردہ نہیں تھا۔ وہ زِندہ تھا۔
یِسُوع مسِیح نے ہر اُس شخص کے لیے جو زمین پر رہا ہے یا رہے گا موت کی اَبَدی غلامی کی زنجیروں اوربندھنوں کو توڑ دیا ہے (دیکھیں 1 کرنتھیوں 15: 22) ۔ اُس نے ہمیں ہر جانب سے گھیرے ہوئے ہمارے دشمن پر فتح پا لی ہے؛ موت کا دشمن سدا کے لیے مغلوب ہو گیا ہے۔
صدر رسل ایم نیلسن (1924–2025) نے فرمایا ہے: ”یِسُوع مسِیح نےآپ کے گُناہ، آپ کے درد، آپ کے صدمے، اورآپ کی کمزوریاں اپنے اُوپر لے لی ہیں۔ آپ کو اکیلے برداشت کرنے کی ضرُورت نہیں ہے! جب آپ تَوبہ کریں گے تو وہ آپ کو مُعاف کر دے گا۔ وہ آپ کو برکت دے گا جِس کی آپ کو ضرُورت ہے۔“ وہ آپ کی زخمی رُوح کو شِفا بخشے گا۔ جب آپ خُود کو اُس کے ساتھ جوتتے ہیں، تو آپ کے بوجھ ہلکے ہو جائیں گے۔ اگر آپ یِسُوع مسِیح کی تقلِید کرنے کے لِیے عہد باندھیں گے اور عمل کریں گے، تو آپ جانیں گے کہ آپ کی زِندگی کے یہ دردناک لمحات عارضی ہیں۔ آپ کی مُصِیبتیں ’مسِیح کی خُوشی میں مغلُوب ہو جائیں گی‘ [ایلما 31: 38ٌٗ]“
اُس کے مقرر رسُولوں میں سے ایک کی حیثیت سے، مَیں نے اُن رُوحانی اور ذاتی لمحات کا تجربہ کیا ہے جو مجھے یقینی اور پختہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ زِندہ ہے۔ عیدِ قیامت المسِیح کے اِس تہور پر، یہ اَلفاظ ہمارے ذہنوں اور دِلوں میں نرمی سے بسیں: ”اے مُنجّی بھُولنے نہ دے مُجھ کو کہ تو نے میرے لیے خُون بہایا اور مُؤا،“ جب ہم یہ گانے میں شادمان ہوتے ہیں:
© 2026by Intellectual Reserve, Inc All rights reserved. یو ایس اے میں چھپا۔ منظُوری برائے انگریزی: 19/6۔ منظُوری برائے ترجمہ: 19/6۔ ترجمہ برائے Monthly Liahona Message, April 2026 Urdu. 20038 434