مُمکنہ مِشنریوں کے لیے اِنٹرویو کے سوالات
بِشپ صاحبان اور صدُورِِ سٹیک کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ درج ذیل سوالات کا اِستعمال کرتے ہُوئے ہر مُمکنہ مِشنری اُمیدوار کا ”مُکمل، رُوحانی طور پر تلاش کرنے والا، اور ترقی بخش“ اِنٹرویو کریں (دیکھیں عمُومی راہ نُما کِتاب، 24.4.2)۔
-
کیا آپ خُدا، اَبَدی باپ، اُس کے بیٹے یِسُوع مسِیح، اور رُوحُ القُدس پر اِیمان رکھتے اور اُن کی گواہی کے حامل ہیں؟
-
کیا آپ یِسُوع مسِیح کے کفّارے اور نجات دہندہ اور مُخلصی بخشنے والے کی حیثیت سے اُس کے کِردار کی گواہی رکھتے ہیں؟
براہِ کرم میرے ساتھ اپنی گواہی بیان کریں۔ یِسُوع مسِیح کے کفّارے نے آپ کی زِندگی کو کِس طرح مُتاثر کِیا ہے؟
-
کیا آپ یِسُوع مسِیح کی اِنجِیل کی بحالی اور مورمن کی کِتاب کی سچّائی کی گواہی رکھتے ہیں؟
یِسُوع مسِیح کی بحال شُدہ اِنجِیل کی آپ کی سمجھ بُوجھ اور مورمن کی کِتاب کے آپ کے مُطالعہ نے یِسُوع مسِیح کے ساتھ آپ کے رِشتے کو کیسے گہرا کِیا ہے؟
-
کیا آپ کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے صدر کی بحیثیتِ نبی، رویا بِین، اور مُکاشفہ بِین، اور زمین پر واحِد شخص کے طور پر جس کے پاس تمام کہانتی کُنجیاں اِستعمال کرنے کا اِختیار ہے، تائید کرتے ہیں؟
کیا آپ صدارتِ اَوّل اور بارہ رَسُولوں کی جماعت کے اَرکان کی بحیثیتِ نبی، رویا بِین، اور مُکاشفہ بِین، تائید کرتے ہیں؟
کیا آپ کلِیسیا کے دیگر اعلیٰ عُہدے داران اور مَقامی راہ نُماؤں کی تائید کرتے ہیں؟
-
خُداوند نے فرمایا ہے کہ سب کاموں کو اُس کے سامنے ”پاکیزگی سے کرنا“ (عقائد اور عہُود 42:41)۔
خُدا کے سامنے پاکیزگی سے کام کرنے کی کوشِش میں فُحش نِگاری سے پرہیز کرنا کیوں شامِل ہو گا؟
آپ کی سوچ کے مُطابق، پاک دامنی کے قانُون پر عمل کرنے کا کیا مطلب ہے؟
کیا آپ اپنے خیالات اور رویے میں اِخلاقی پاکیزگی کے لیے کوشاں رہتے ہیں؟
کیا آپ پاک دامنی کے قانُون کی فرماں برداری کرتے ہیں؟
-
کیا آپ اپنے اَہلِ خانہ اور دُوسروں کے ساتھ نِجی اور عوامی طرزِِ سلُوک میں کلِیسیائے یِسُوع مسِیح کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں؟
-
کیا آپ کسی اَیسی تعلیم، سَرگرمی، یا عقیدے کی تائید کرتے یا بڑھاوا دیتے ہیں جو کلِیسیائے یِسُوع مسِیح برائے مُقدّسِینِ آخِری ایّام کے عقائد کے منافی ہیں؟
-
کیا آپ گھر اور کلِیسیا میں، سبت کے دِن کو پاک ماننے کی کوشِش کرتے ہیں، اپنی عِبادات میں شریک ہوتے ہیں؛ عِشائے ربّانی کے لیے تیار ہوتے اور لائق طور پر شِرکت کرتے ہیں؛ اور اِنجِیل کے حُکموں اور قوانین کے مُطابق اپنی زِندگی بسر کرتے ہیں؟
-
کیا آپ اپنے ہر کام میں دیانت دار رہنے کی کوشِش کرتے ہیں؟
-
کیا آپ پُوری دَہ یکی اَدا کرتے ہیں؟
-
آپ کے فہم کے مُطابق، حِکمت کے کلام پر عمل کرنے کا کیا مطلب ہے؟
کیا آپ حِکمت کے کلام پر عمل کرتے ہیں؟
-
کُل وقتی مِشنری کی حیثیت سے کیا آپ اِن معیارات کے مُطابق زِندگی گزاریں گے جن پر ہم نے بات کی ہے؟
-
(اِس سوال کو حذف کر دِیا جائے جب کسی اَیسے رُکن کا اِنٹرویو کریں جو ودیعت یافتہ نہ ہو۔) کیا آپ اُن عہُود کی پاس داری کرتے ہیں جو آپ نے ہَیکل میں باندھے تھے؟
-
(اِس سوال کو حذف کر دِیا جائے جب کسی اَیسے رُکن کا اِنٹرویو کریں جو ودیعت یافتہ نہ ہو۔) کیا آپ ہَیکل کے زیرِ جامہ پہننے کی مُقدّس سعادت کی عِزت کرتے ہیں جیسے کہ اِبتدائی رُسُوم میں ہدایت کی گئی ہے۔ (نیچے دِیے گئے بیان ”ہَیکل کے زیرِ جامہ کو زیبِ تن کرنا“ کو ہر رُکن کے لیے پڑھیں۔)
-
آپ کے نزدیک تَوبہ کرنے سے کیا مُراد ہے، بشمُول کہانتی عُہدے داروں کے سامنے سنگین گُناہوں کا اعتراف کرنا؟
کیا آپ کی زِندگی میں اَیسے سنگین گُناہ ہیں جنھیں آپ کی تَوبہ کے حِصّے کے طور پر کہانتی عُہدے داروں کے ساتھ حل کرنے کی ضرُورت ہے؟
-
کیا آپ خُود کو ایک مِشنری کی حیثیت سے یِسُوع مسِیح اور اُس کی بحال شُدہ اِنجِیل کی نُمایندگی کرنے کے لائق سمجھتے ہیں؟
ہَیکل کے زیرِ جامہ زیبِ تن کرنا
”پاک کہانت کا لِباس ہمیں ہَیکل کے پردے کی یاد دِلاتا ہے، اور وہ پردہ یِسُوع مسِیح کی علامت ہے۔ جب آپ اپنے ہَیکل کے زیرِ جاموں کو زیبِ تن کرتے ہیں، تو آپ یِسُوع مسِیح کی مُقدّس علامت کو پہنتے ہیں۔ آپ کا اِسے پہننا اُس کی پیروی کرنے کے باطنی عزّم کا ظاہری اِظہار ہے۔ ہَیکل کے زیرِ جامے آپ کے ہَیکل کے عہُود کی یاد دِہانی بھی ہیں۔ آپ کو پُوری زِندگی دِن اور رات ہَیکل کے زیرِ جاموں کو پہنے رکھنا چاہیے۔ جب اَیسی سَرگرمیوں کے لیے اِن کو اُتارنا ضرُوری ہو جو زیرِ جاموں کو پہنے ہوئے مُناسب طور پر اَنجام نہیں دی جا سکتیں، تو جلد اَز جلد اِنھیں دوبارہ پہننے کی کوشِش کریں۔ جب آپ اپنے عہُود پر قائم رہتے ہیں، بشمُول اِبتدائی رُسُوم میں دی گئی ہدایت کے مُطابق ہَیکل کے زیرِ جامہ کو پہننے کی مُقدّس سعادت، تو آپ کو مُنّجی کے رحم، تحفُظ، طاقت، اور قُدرت تک زیادہ رَسائی حاصِل ہو گی“ (عمُومی راہ نُما کِتاب، 26.3.3.2)۔