2020–2024
راست عدالت کی یقین دہانی
مجلسِ عامہ اپریل ۲۰۲۰


9:47

راست عدالت کی یقین دہانی

نِجات دہندہ کی کفّارہ بخش قربانی راست عدالت کو یقینی بنانے کے لیے، بے علمی کی جھاڑیوں اور دُوسروں کے سبب ملنے والے درد ناک کانٹوں کو دور کر دے گی۔

مورمن کی کتاب مسِیح کی تعلیم سِکھاتی ہے۔

پچھلے اکتوبر، صدر رسل ایم نیلسن نے ہمیں یہ سوچنے کا چیلنج دیا تھا کہ اگر ”مورمن کی کتاب سے حاصل کردہ علم اچانک ہم سے لے لیا جائے“ تو ہماری زِندگیاں کیوں کر مختلف ہوں گی۔۱ میں نے اِس کے سوال پر غور کیا ہے، جیسا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے بہت سوں نے بھی ایسا ہی کیا ہوگا۔ ایک سوچ میرے ذہن میں بار بار آئی ہے—مورمن کی کتاب اور اُس میں مسِیح کی تعلیم اور اُس کی کفّارہ بخش قربانی کی شفافیت کے بغیر، مَیں تلاشِ سکون کے لیے کس کی طرف پھروں گا؟

مسِیح کی تعلیم—جو مسِیح پر اِیمان، توبہ، بپتسمہ، رُوحُ القُدس کی نعمت، اور آخر تک برداشت کرنے کے بچانے والے اُصولوں اور رسوم پر مشتمل ہے—کو بحالی کے صحائف میں متعدد بار لیکن مورمن کی کتاب میں خاص قوت سے سِکھایا گیا ہے۔۲ تعلیم کا آغاز مسِیح پر اِیمان سے ہوتا ہے، اور اِس کے ہر عنصر کا دارومدار اُس کی کفّارہ بخش قربانی میں بھروسے پہ ہے۔

جیسا صدر نیلسن نے سِکھایا ہے ”مورمن کی کتاب یِسُوع مسِیح کے کفّارہ کے بارے میں بہترین، مکمل ترین اور مستند ترین سمجھ بوجھ فراہم کرتی ہے۔“۳ جس قدر ہم نِجات دہندہ کے الُوہی تحفے کو سمجھتے ہیں، اُسی قدر ہم اپنے ذہنوں اور دِلوں میں،۴ صدر نیلسن کی دی یقین دہانی کی حقیقت کو سمجھ لیں گے کہ ”مورمن کی کتاب میں درج سچائیوں میں ہماری جانوں کو شفا، اطمینان، بحالی، امداد، قوت، تسلی، اور خوشی دینے کی قوت ہے۔“۵

نِجات دہندہ کا کفّارہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا ہے

کفّارہِ نِجات دہندہ کے بارے میں ہمارے فہم میں مورمن کی کتاب کا اہم اور اطمینان بخش حصّہ اِس کی یہ تعلیم ہے کہ مسِیح کی رحیم قربانی انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ جیسا کہ ایلما کہتا ہے: ”خُدا خود دُنیا کے گناہوں کی مخلصی دیتا ہے تا کہ رحم کے منصوبے کو عمل میں لائے، انصاف کے تقاضے پورے کرے تا کہ خُدا کامل مُنصف خُدا ہو اور خُدائے رحیم بھی۔“۶ باپ کا رحم کا منصوبہ۷—جسے صحائف خُوشی کا منصوبہ۸ یا نِجات کا منصوبہ بھی کہتے ہیں۹—تب تک پورا نہیں ہو سکتا تھا جب تک انصاف کے تمام تقاضے پورے نہیں ہو جاتے۔

لیکن ”انصاف کے تقاضے“ کیا ہیں؟ ایلما کا اپنا تجربہ دیکھیں۔ یاد رکھیں کہ جوان سالی میں ایلما ”کلیسیا کی بربادی“۱۰کے درپے تھا۔ دراصل، ایلما نے اپنے بیٹے ہیلیمن کو بتایا کہ کیونکہ اُس نے بڑے موثر طور پر ”[خُدا کے] بہت سے بچّوں کو تباہی کی طرف لے جا کر قتل کیا“، اِس سبب سے اُسے ”دوزخ کی تکالیف سے اذیت دی گئی۔“۱۱

ایلما نے ہیلیمن کو وضاحت دی کہ بالآخر اُسے اِطمینان تب نصیب ہوا جب ”اُس کے ذہن نے دُنیا کے گناہوں سے مخلصی… دینے کے لیے …یِسُوع مسِیح کی آمد“ کے بارے میں اپنے باپ کی تعلیمات کو سمجھ لیا۔۱۲ پشیمان ایلما نے مسِیح کے رحم کی التجا کی۱۳ اور جب اُس نے جان لیا کہ مسِیح نے اُس کے گناہوں کا کفّارہ ادا کیا اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کر دیئے ہیں تو پھر اُسے خوشی اور راحت کا احساس حاصل ہوا۔ ایک بار پھر، انصاف کا ایلما سے کیا تقاضا تھا؟ جیسا کہ ایلما نے خود بعد میں سِکھایا، ”کوئی نا پاک چیز خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتی۔“۱۴ اِس لیے، ایلما کی راحت کا کچھ حصہ یہ تھا کہ جب تک رحم شفاعت نہ کرتا، انصاف اُسے واپس آسمانی باپ کے ساتھ رہنے سے روکے رکھتا۔۱۵

نِجات دہندہ اُن زخموں کو شفا دیتا ہے جن کا مداوا ہم نہیں کر سکتے

لیکن کیا ایلما کی خوشی کا مرکز مخص اُس کی اپنی ذات تھی—اُس کا سزا سے بچ جانا اور اُس کا آسمانی باپ کے پاس لوٹنے کے قابل ہونا؟ ہم جانتے ہیں کہ ایلما اُن کے سبب سے بھی تکلیف میں تھا جنہیں اُس نے سچائی کی راہ سے گمراہ کیا تھا۔۱۶ لیکن ایلما خود اُن سب کی شفا اور بحالی نہیں کر سکتا تھا جن کو اُس نے گمراہ کیا تھا۔ وہ خود یقین دہانی نہیں کروا سکتا تھا کہ اُنہیں مسِیح کی تعلیم سیکھنے کا مناسب موقع ملے اور وہ بھی اِس کے شادمان اُصولوں پر عمل کرنے کی برکت پائیں۔ وہ اُن لوگوں کو واپس نہیں لاسکتا تھا جو شاید اُس کی جھوٹی تعلیم کی بدولت غفلت کی نیند سو چکے اور اگلے جہاں کوچ کر گئے تھے۔

جیسا صدر بائڈ کے پیکر نے ایک بار سِکھایا: ”جس سوچ نے ایلما کو بچایا … وہ یہ تھی: اُس چیز کی بحالی جو آپ بحال نہیں کر سکتے، اُس زخم کا مُداوا جس کی شفا آپ نہیں بن سکتے، جو آپ نے توڑا اُسے جوڑنا مسِیح کے کفارے کا عین مقصد ہے۔“۱۷ وہ شادمان سچائی جو ایلما کے ”ذہن میں آئی“ صرف یہ نہیں تھی کہ وہ خود صاف کیا جائے گا بلکہ یہ بھی تھی کہ وہ جن کو اُس نے نقصان پہنچایا ہے شفایاب اور صحت یاب کیے جا سکتے ہیں۔

نِجات دہندہ کی قربانی راست عدالت کی یقین دہانی کرتی ہے

ایلما کی اِس تسلی بخش تعلیم کے سبب بچائے جانے سے برسوں پہلے، بنیمؔین بادشاہ نے نجات دہندہ کی کفّارہ بخش قربانی سے ملنے والی شفا کی وسعت کا ذکر کیا۔ بنیمؔین بادشاہ نے کہا: کہ اُسے ”بڑی خوشی کی بشارت خُدا کے فرشتے کی طرف سے دی گئی تھی۔“۱۸ اُن بشارتوں میں یہ سچائی شامل تھی کہ مسِیح ہمارے گناہوں اور خطاؤں کے لیے تکلیف سہے گا اور مؤے گا اِس بات کو ممکن بنانے کے لیے کہ ”بنی نوع انسان پر راست عدالت صادر ہو۔“۱۹

”راست عدالت“ عین کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ اگلی آیت میں، بنیمؔین بادشاہ کہتا ہے، کہ راست عدالت یقینی بنانے کے لیے نِجات دہندہ کا خُون اُن کا کفّارہ بھی ادا کرتا ہے جو آدم کی خطا سے پست ہُوئے، اور جو اپنی بابت خُدا کی مرضی جانے بغیر مر گئے یا جنہوں نے بے علمی میں گناہ کیا۔“۲۰ راست عدالت یہ بھی تقاضا کرتی ہے، اُس نے سِکھایا، کہ چھوٹے بچّوں کے گناہوں کا ”کفّارہ بھی مسِیح کا خون“ ادا کرے۔۲۱

یہ صحائف شاندار تعلیم دیتے ہیں: نِجات دہندہ کی کفّارہ بخش قربانی اُن لوگوں کو، مفت تحفے کے طور پر شفا دیتی ہے، جو بے علمی میں گناہ کرتے ہیں—وہ جنہیں، یعقوب کے اِلفاظ میں، ”شریعت دی نہیں گئی۔“۲۲ گناہ کی جوابدہی کا انحصار بخشی گئی روشنی پر ہے اور یہ ہماری آزادئ اِنتخاب کے استعمال کرنے کی قابلیت پر مبنی ہے۔۲۳ ہم یہ شفا اور تسلی بخش سچائیاں صرف مورمن کی کتاب اور بحالی کے دیگر صحائف کی وجہ سے جانتے ہیں۔۲۴

بلا شبہ، جہاں شریعت دی گئی ہے، جہاں ہم خُدا کی مرضی سے ناواقف نہیں ہیں، ہم جوابدہ ہیں۔ جیسا کہ بنیمؔین بادشاہ زور دیتا ہے کہ ”اُس پر افسوس جو یہ جانتا ہے کہ وہ خُدا کے خلاف سرکشی کرتا ہے! کیونکہ توبہ اور خُداوند یِسُوع مسِیح پر اِیمان کے بغیر کسی کو نجات نہیں ملتی۔“۲۵

یہ بھی مسِیح کی تعلیم کی خُوشی کی بشارت ہے۔ نہ صرف نِجات دہندہ اُن کو شفایاب اور بحال کرتا ہے جو بے علمی میں گناہ کرتے ہیں، بلکہ وہ بھی، جو نور کے خلاف گناہ کرتے ہیں، نِجات دہندہ اُنہیں توبہ اور اُس پر اِیمان کی شرط پر شفا کی پیش کش کرتا ہے۔۲۶

ایلما کو یہ دونوں سچائیاں ”سمجھ آ گئی“ ہوں گی۔ کیا ایلما واقعی اپنی بیان کردہ ”عظیم … خوشی“۲۷ محسوس کر سکتا تھا اگر وہ یہ سمجھتا کہ مسِیح نے اُسے تو بچا لیا لیکن اُن کو ابدی خسارے میں چھوڑ دیا گیا ہے جنہیں ایلما نے سچائی سے بھٹکایا تھا؟ یقیناً نہیں۔ ایلما کے کامل احساسِ سکون کے لیے ضروری تھا، کہ جنہیں اُس نے نقصان پہنچایا ہے اُنہیں بھی شفا پانے کا موقع ملے۔

لیکن اُنہیں—اور ممکنہ طور پر جنہیں ہم نے نقصان پہنچایا ہے—کیسے شفا ملتی ہے؟ گو کہ ہم مکمل طورپر اُن مُقدّس میکانیات کو نہیں جانتے جن کے باعث نِجات دہندہ کی کفّارہ بخش قربانی شفا اور بحالی بخشتی ہے، ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ راست عدالت کو یقینی بنانے کے لیے، نِجات دہندہ بے علمی کی جھاڑیوں اور دُوسروں کے سبب ملنے والے دردناک کانٹوں کو دور کرے گا۔۲۸ اِس سے وہ یقینی بناتا ہے کہ خُدا کے سب بچوں کو، غیر مبہم نظر کے ساتھ، موقع ملے کہ وہ اُس کی پیروی کریں اور خُوشی کے عظیم منصوبے کو قبول کریں۔۲۹

نِجات دہندہ ہماری تمام بگڑی راہوں کو درست کر دے گا

یہی وہ سچائیں ہیں جن سے ایلما کو اِطمینان حاصل ہوا ہو گا۔ اور یہی وہ سچائیاں ہیں جن سے ہمیں بھی اطمینانِ کثیر حاصل ہونا چاہیے۔ فطری مرد و زن ہوتے ہوئے، ہم بعض اوقات ایک دوسرے کو ٹھیس پہنچاتے، یا بعض اوقات ایک دوسرے سے ٹکرا کر نقصان پہنچاتے ہیں۔ جیسا کہ کوئی بھی والدین گواہی دے سکتے ہیں کہ، ہماری غلطیوں سے منسلک تکلیف صرف یہ نہیں ہے کہ ہمیں سزا ملے گی بلکہ یہ خوف ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کی خوشی محدود کر دی یا ہم اُن کی سچائی دیکھنے اور سمجھنے کی راہ میں حائل ہوئے۔ نِجات دہندہ کی کفّارہ بخش قربانی کا جلالی وعدہ یہ ہے کہ جہاں تک بطور والدین ہماری غلطیوں کا تعلق ہے، وہ ہمارے بچّوں کو بے خطا ٹھہراتا ہے اور اُن کے لیے شفا کا وعدہ کرتا ہے۔۳۰ اور اگر وہ نُور کے خلاف گناہ کرتے ہیں—جیسے ہم سب کرتے ہیں—تو بھی اُس کا رحیم بازو پھیلا ہے،۳۱ اور وہ اُنھیں مخلصی بخشے گا اگر وہ اُسے دیکھیں گے اور نتیجاً زندہ رہیں گے۔۳۲

گو کہ نِجات دہندہ کے پاس وہ سب درست بنانے کی قوت ہے جو ہم ٹھیک نہیں کر سکتے، وہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اپنی توبہ کے حصّے کے طور پر حتیٰ الوسع اعادہ کریں۔۳۳ ہمارے گناہ اور غلطیاں نہ صرف خُدا کے ساتھ بلکہ دوسروں کے ساتھ بھی ہمارے رشتے کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ بعض اوقات شفا اور بحالی کی ہماری کوششیں فقط سادہ سی معافی مانگنا ہو سکتی ہیں لیکن دیگر اوقات میں تلافی کے لیے سالوں کی فروتن کوشش درکار ہو سکتی ہے۔۳۴ تاہم، ہمارے گناہوں اور غلطیوں میں سے بہت سے ایسے ہیں، کہ جنہیں ہم نے تکلیف زدہ کیا، ہم اُنہیں مکمل طور پر شفا یاب نہیں کر سکتے۔ مورمن کی کتاب اور بحال شدہ اِنجیل کا شاندار اور اِطمینان بخش وعدہ ہے کہ جو ہم نے بگاڑا ہے مُنّجی اُس کی درستگی کرے گا۔۳۵ اور اگر ہم اِیمان میں اُس پر رجوع لاتے ہیں اور اپنے کیے ہوئے نقصان سے توبہ کرتے ہیں تو وہ ہمارے بگاڑ کو بھی درستگی بخشے گا۔۳۶ وہ اِن دونوں تحائف کی پیش کش اِس لیے کرتا ہے کیونکہ وہ ہمیں کامل محبّت سے عزیز رکھتا ہے۳۷ اور کیونکہ اُس نے راست عدالت کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا جو انصاف اور رحم دونوں کی تعظیم کرتی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ سچ ہے، یِسُوع مسِیح کے نام سے، آمین۔

حوالہ جات

  1. رسل ایم نیلسن، ”اختتامی کلمات،“ لیحونا، نومبر ٢٠۱۹، ۱۲۲۔

  2. دیکھیں ۲ نیفی ۳۱؛ ۳ نیفی ۱۱: ۲۸، ۳۲، ۳۵، ۳۹–۴۰؛ عقائد اور عہود ۱۰: ۶۲–۶۳، ۶۷–۷۰؛ ۶۸: ۲۵؛ موسیٰ ۶: ۵۲–۵۴؛ ۸: ۲۴؛ اِیمان کے اَرکان ۱: ۴۔

  3. رسل ایم نیلسن، ”مورمن کی کتاب: آپ کی زِندگی اِس کے بغیر کیسی ہو گی؟“ لیحونا، نومبر ۲۰۱۷، ۶۲۔

  4. دیکھیں عقائد اور عہود ۸: ۲–۳۔

  5. رسل ایم نیلسن، ”مورمن کی کتاب: آپ کی زِندگی اِس کے بغیر کیسی ہو گی؟“ ۶۲۔

  6. ایلما ۴۲: ۱۵۔

  7. دیکھیں ایلما ۴۲: ۱۵۔

  8. دیکھیں ایلما ۴۲: ۸۔

  9. دیکھیں ایلما ۲۴: ۱۴؛ موسیٰ ۶: ۶۲۔

  10. دیکھیں مضایاہ ۲۷: ۸–۱۰۔

  11. ایلما ۳۶: ۱۳، ۱۴۔

  12. ایلما ۳۶: ۱۷، ۱۸۔

  13. دیکھیں ایلما ۳۶: ۱۸۔

  14. ایلما ۴۰: ۲۶؛ مزید دیکھیں ۱ نیفی ۱۵: ۳۴؛ ایلما ۷: ۲۱؛ ۱۱: ۳۷؛ ہیلیمن ۸: ۲۵۔

  15. دیکھیں ۳ نیفی ۲۷: ۱۹؛ مزید دیکھیے موسیٰ ۶: ۵۷۔

  16. دیکھیں ایلما ۳۶: ۱۴–۱۷۔

  17. دیکھیے بائڈ کے پیکر، ”The Brilliant Morning of Forgiveness،“ اَنزائن، نومبر ۱۹۹۵، ۱۹–۲۰۔

  18. مضایاہ ۳: ۲، ۳۔

  19. مضایاہ ۳: ۱۰؛ تاکید اضافی ہے۔

  20. مضایاہ ۳: ۱۱؛ مزید دیکھیں ۲ نیفی ۹: ۲۶۔

  21. مضایاہ ۳: ۱۶؛ مزید دیکھیں مضایاہ ۱۵ :۲۵؛ مرونی ۸: ۱۱–۱۲، ۲۲۔

  22. ۲ نیفی ۹: ۲۵۔

  23. دیکھیں ۲ نیفی ۲: ۲۶–۲۷؛ ہیلیمن ۱۴: ۲۹–۳۰۔

  24. دیکھیں اِیمان کے اَرکان ۱: ۲؛ مزید ملاحظہ کریں عقائد اور عہود ۴۵: ۵۴۔ مُردوں کے بپتسمہ کے بارے میں بتاتے ہوئے، جوزف سمتھ نے ایک بار فرمایا، ”جبکہ نسلِ اِنسانی کا ایک گروہ دوسرے گروہ کی بڑی بے رحمی سے عدالت کرتے ہُوئے اُنھیں مُجرم ٹھہرا رہا ہے، کائنات کے عظیم والدین کُل اِنسانی خاندان پر پدرانہ اندیشے اور مادرانہ شفقت کے ساتھ نظر کرتے ہیں؛ وہ اُن پر اپنے بچوں کی مانند نظر کرتے ہیں۔ … وہ دانشمند شریعت دینے والا ہے، اور تمام آدمیوں کا انصاف کرے گا، آدمیوں کے محدود، منقبض نظریہ کے مطابق نہیں۔ … وہ اُن کا انصاف ’اُس کے مطابق نہیں کرے گا کہ اُن کے پاس کیا نہیں ہے بلکہ اُن کے پاس کیا ہے‘؛ وہ جنہوں نے شریعت کے بغیر زندگی گزاری ہے شریعت کے بغیر انصاف پائیں گے اور جن کے پاس شریعت ہے، اُن کا انصاف شریعت سے کیا جائے گا۔ ”ہمیں عظیم یہواہ کی دانش اور فراست پر شک کرنے کی ضرورت نہیں؛ وہ قوموں کی عدالت یا رحم اُن کے مستحقہ اعمال کے مطابق کرے گا؛ کہ اُن کے پاس فراست پانے کے کیا وسائل تھے، اُن پر کیسے قوانین کی فرماں روائی تھی؛ اُن کے پاس درست معلومات پانے کے لیے کیا سہولتیں دستیاب تھیں اور … بالآخر ہم سب کو اقرار کرنا پڑے گا کہ کُل زمین کے مُنصف نے درست انصاف کیا ہے۔“(کلیسیا کے صدور کی تعلیمات: جوزف سمتھ [۲۰۰۷]، ۴۰۴)۔

  25. مضایاہ ۳: ۱۲؛ مزید ملاحظہ کریں ۲ نیفی ۹: ۲۷۔

  26. دیکھیں مضایاہ ۳: ۱۲؛ ہیلیمن ۱۴: ۳۰؛ مرونی ۸: ۱۰؛ عقائد اور عہود ۱۰۱: ۷۸۔ کچھ حالات میں ممکن ہے کہ افراد مخصوص احکام اور عہود سے ناواقف ہوں یا اپنی آزادی انتخاب کا استعمال نہ کر سکتے ہوں لیکن پھر بھی نُورِ مسِیح کے حامل ہونے کے سبب دیگر حالات میں جوابدہ ہوں گے (دیکھیں ۲ نیفی ۹: ۲۵؛ مرونی ۷: ۱۶–۱۹)۔ نِجات دہندہ، جو ہمارا مُـنصف ہے اور جس نے ہمیں راست عدالت کی یقین دہانی بحشی ہے، اِن حالات میں امتیاز برتے گا (دیکھیں مورمن ۳: ۲۰؛ موسیٰ ۶: ۵۳–۵۷)۔ اور اُس نے دونوں کی قیمت چکائی ہے—اوّل الذکر کی غیر مشروط طور پر اور آخری الذکر کی توبہ کی شرط پر۔

  27. ایلما ۳۶: ۲۱۔

  28. دیکھیں مضایاہ ۳: ۱۱؛ مزید ملاحظہ کریں ڈی ٹاڈ کرسٹافرسن ”مخلصی“، لیحونا، مئی ۲۰۱۳، ۱۱۰، ایلما ۷: ۱۱–۱۲ (”وہ اپنے لوگوں کی تکالیف اور بیماریاں خود پر لے لے گا۔ … اور وہ اُن کی کمزوریاں خود پر لے لے گا“)؛ یسعیاہ ۵۳: ۳–۵ (”تو بھی اُس نے ہماری مشقتیں اٹھا لیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا“)؛ ۶۱: ۱–۳ (”خداوند نے مجھے مسح کیا ہے تاکہ…شکستہ دلوں کو تسلی دوں… صیون کے غمزوں کے لیے یہ مقرر کروں کہ اُن کو راکھ کے بدلے سِہرا اور ماتم کی جگہ خوشی کا روغن دوں“)۔ یہ بات سبق آموز ہے کہ نِجات دہندہ نے یسعیاہ کی اِن آیات کا حوالہ دیا جب اُس نے اپنے ممسوح ہونے کا اعلان کیا ”آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا“ (دیکھیں لُوقا ۴: ۱۶–۲۱

  29. عالمِ ارواح میں، ”غیر واقف، غیر نادم اور سرکشوں میں اِنجیل کی منادی کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی قید سےرہائی پائیں اور وہ اُن برکات کی جانب آگے بڑھیں جو پیار کرنے والے آسمانی باپ نے اُن کے لیے رکھی ہیں“ (ڈیلن ایچ اوکس، ”خُداوند پر بھروسہ،“ لیحونا، نومبر ۲۰۱۹، ۲۷)۔ مزید دیکھیں ۱ پطرس ۴: ۶؛ ۲ نیفی ۲: ۱۱–۱۶؛ عقائد اور عہود ۱۲۸: ۱۹؛ ۱۳۷: ۷–۹؛ ۱۳۸: ۳۱–۳۵۔

  30. دیکھیں موسیٰ ۶: ۵۴۔ صدر ایم رسل بیلرڈ نے خود کُشی کے بارے میں یہ تعلیم دی: ”صرف خُداوند ہی تمام تفصیلات جانتا ہے؛ اور وہی ہے جو زمین پر ہمارے اعمال کی عدالت کرے گا۔ جب وہ ہماری عدالت کرے گا، تو وہ ہماری جینیاتی اور کیمیاوی بناوٹ، ہماری ذہنی حالت، ہماری فراستی قابلیت، ہمیں ملی تعلیمات، ہمارے اجداد کی روایات، ہماری صحت وغیرہ سب چیزوں پر غور کرے گا۔ ہم صحائف میں سیکھتے ہیں کہ مسِیح کا خون اُن لوگوں کا کفّارہ بھی دیتا ہے ’جو اپنے بارے میں خُدا کی مرضی جانے بغیر مرے یا جنہوں نے بے علمی میں گناہ کیا‘ (مضایاہ ۳: ۱۱)“ (”Suicide: Some Things We Know, and Some We Do Not،“ انزائن، اکتوبر ۱۹۸۷، ۸، Tambuli، مارچ ۱۹۸۸، ۱۸)۔

  31. دیکھیں یعقوب ۶: ۵؛ مضایاہ ۲۹: ۲۰؛ ۳ نیفی ۹: ۱۴؛ عقائد اور عہود ۲۹: ۱۔

  32. دیکھیں ہیلیمن ۸: ۱۵۔

  33. دیکھیں احبار ۶: ۴–۵؛ حزقی ایل ۳۳: ۱۵–۱۶؛ ہیلیمن ۵: ۱۷؛ عقائد اور عہود ۵۸: ۴۲–۴۳۔

  34. ایلما بھی اِسی طرح کی تگ و دو میں شامل تھا (دیکھیں ایلما ۳۶: ۲۴

  35. صدر بائڈ کے پیکر کے ہمیں بڑے قوی انداز میں یہ اُصول سِکھایا ہے:

    ”ایسے اوقات بھی ہوتے ہیں جب آپ اپنے بگاڑ کی اصلاح نہیں سکتے۔ شاید خطا بہت دیر پہلے سرزد ہوئی، یا زخمی نے آپ کی توبہ قبول نہیں کی۔ شاید نقصان اِس قدر زیادہ ہو گیا ہو کہ آپ کے چاہنے کے باوجود بھی آپ اُس کا مداوا نہیں کر سکے۔

    ”آپ کی توبہ اُس وقت تک قبول نہیں ہو سکتی جب تک آپ تلافی نہیں کرتے۔ اگر آپ اپنے کیے کو سلجھا نہیں سکتے، تو آپ وہاں پھنس جاتے ہیں۔ ایسا سمجھنا بہت آسان ہے کہ آپ کتنا بے یار و مددگار اور بے امید محسوس کرتے ہیں اور ایلما کی مانند کوشش ہی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ …

    ”سب چیزوں کی درستگی کیسے ہو گی، ہم نہیں جانتے۔ ممکن ہے ایسا اِس زندگی میں ممکن نہ ہو۔ ہم فرشتوں کے ظُہُور اور رویاؤں سے جانتے ہیں کہ پردے کے پار بھی خُداوند کے خادم کارِ مخلصی کو جاری رکھتے ہیں۔

    ”یہ علم معصوموں اور خطاکاروں، دونوں کے لیے باعثِ تسلی ہونا چاہیے۔ میں اُن والدین کا سوچ رہا ہوں جو اپنے برگشتہ بچوں کی وجہ سے ناقابلِ برداشت حد تک تکلیف اٹھاتے ہیں اور نا امید ہو رہے ہیں“ (”معافی کی شاندار صبح،“ ۱۹–۲۰)۔

  36. دیکھیں ۳ نیفی ۱۲: ۱۹؛ مزید ملاحظہ کریں متی ۶: ۱۲؛ ۳ نیفی ۱۳: ۱۱۔

  37. دیکھیں یوحنا ۱۵: ۱۲–۱۳؛ ۱ یوحنا ۴: ۱۸؛ ڈیٹئر ایف اوکڈورف، ”کامل محبت خوف کو بھگا دیتی ہے،“ لیحونا، مئی ۲۰۱۷، ۱۰۷۔