۲۰۱۰–۲۰۱۹
باپ
اکتوبر ۲۰۱۸


10:17

باپ

ہم میں سے ہر کسی کے اندر باپ کی مانند بننے کی صلاحیت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے، ہمیں بیٹے کے نام پر باپ کی پرستش کرنا ہے۔

میری اہلیہ، میلنڈا، نے اپنی ساری زندگی، اپنے پورے دل سے یِسُوع مِسیح کی وفادار شاگرد بننے کی کوشش کی ہے۔ ماسوائے، اپنے ایّامِ نو عمری میں، اُس نے اپنے آپ کو آسمانی باپ کی محبت اور رحمت کے لائق نہ سمجھا کیوں کہ اُس نے خُدا کی فطرت کو غلط سمجھا۔ خوش قسمتی سے،اِس ملال کے باوجود میلنڈا حکموں پر عمل کرتی رہی۔ چند برس قبل، اُسے تجربات کا ایسا سلسلہ نصیب ہُوا جس نے بہتر طور پر خُدا کی فطرت کو سمجھنے میں اُس کی مدد فرمائی، بشمول اپنی اُمت کے لیے خُدا کی محبت اور کارِ اِلہٰی میں ہماری حتی المقدور کوششوں کے لیے اُس کی تحسین۔

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ اِس اَمر نے اُس کو کیسے مُتاثر کیا ہے: ”اب مجھے پختہ یقین ہے کہ باپ کا منصوبہ کارآمد ہے، وہ ذاتی طور پر ہماری کامیابی میں مگن ہے، اور وہ ایسے اسباق اور تجربات فراہم کرتا ہے جو اُس کی حضوری میں ہماری مراجعت کے لیے ضروری ہیں۔ میں اپنے آپ کو اور دوسروں کو حتی الامکان ویسے دیکھتی ہوں جیسے خُدا ہمیں دیکھتا ہے۔ میں زیادہ سے زیادہ محبت اور کم سے کم خوف کے ساتھ اُن کی پرورش، تربیت اور خدمت کرنے کے قابل ہُوئی ہُوں۔ میں اِضطراب اور اَندیشے کی بجائے آسودگی اور بھروسا محسوس کرتی ہوں۔ ملامت کی بجائے، میں نے معاونت محسوس کی ہے۔ میرا اِیمان مزید پُختہ ہُوا ہے۔ میں اپنے باپ کی محبت کو بار بار اور زیادہ شدت سے محسوس کرتی ہُوں۔“۱

”[آسمانی باپ کی] سیرت، فضیلت، اور صفات کا راست تصور رکھنا“ اُس اِیمان پر عمل پیرا ہونے کے لیے نہایت ضروری ہے جس کے وسیلے سے ہم سرفرازی پا سکتے ہیں۔۲ آسمانی باپ کی سیرت کی صحیح صحیح تفہیم و فہمید ہمیں اپنے اور دوسروں کے بارے میں طرزِ نظر کو تبدیل کرسکتی ہے اور خُدا کی اپنی اُمت کے لیے قوی محبت کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے اور اُس کا بڑا فضل اُس کی مانند بننے میں مدد کرتا ہے۔ اُس کی سیرت کے بارے میں غلط نقطہ نظر ہمارے اندر یہ احساس پیدا کرسکتا ہے کہ شاید ہم اُس کی حضوری میں کبھی واپس جا نہ پائیں گے۔

آج میرا مقصد ہر کسی، لیکن خاص طور پر اُن لوگوں کو باپ کی بابت کُلیدی نکات سکھانا ہے، جنھیں اندیشہ رہتا ہے کہ آیا اُنھیں خُدا محبت کرتا ہے، خُدا کی حقیقی سیرت کو صاف صاف سمجھنا، اُس پر، اُس کے بیٹے پر، اور اُس کے منصوبے پرپُختہ اِیمان لانے کی ہمیں توفیق عطا کرتا ہے۔

قبل از فانی زندگی

قبل از فانی دُنیا میں، ہم رُوحوں کی صورت میں آسمانی والدین کے ہاں پیدا ہوئے اور خاندان کی صورت میں اُن کے ساتھ رہتے تھے۔۳ وہ ہمیں جانتے، سِکھاتے اور پیار کرتے تھے۔۴ ہم شدت سے اپنے آسمانی باپ کی مانندبننا چاہتے تھے۔ تاہم، ایسا کرنے کے لیے، ہمیں عرفان ملا کہ ہمیں:

  1. جلالی، دائمی، فانی جسم پانے ہوں گے؛۵

  2. کہانت کی مہر بند قدرت سے نکاح کرانے اور خاندان تشکیل دینے؛۶ اور

  3. کامل علم، قدرت، اور الہیٰ صفات پانی ہوں گی۔۷

لہٰذا، باپ نے منصوبہ خلق کیا، جو بعض حالتوں کی تکمیل پر ہمیں عطا کرے گا،۸ ہمیں فانی بدن پانے کے لیے جو قیامت میں بقا اور جلال پائیں گے؛ فنا پذیری میں بیاہ اور خاندان تشکیل دینے ہیں یا، جن اِیمان داروں کو یہ موقع نہیں ملا، اُن کے لیے فنا پذیری کے بعد، بیاہ کرنا اور خاندان تشکیل دینا؛۹ کاملیت کی جانب پیش رفت ہے؛ اور بالآخر ہمارے آسمانی والدین کے پاس لوٹنا اور سرفرازی اور ابدی خوشی کی حالت میں اُن کے اور اپنے خاندانوں کے ساتھ رہنا ہے۔۱۰

صحائف اِسے نجات کا منصوبہ کہتے ہیں۔۱۱ ہم اِس منصوبے کے لیے بہت شکر گزار ہوئے جب یہ ہمارے سامنے پیش کیا گیا کہ ہم خوشی سے چِلائے۔۱۲ ہم میں سے ہر ایک نے منصوبے کی کیفیات کو قبول کیا، بشمول فنا پذیری کے حالات و احوال اور مسائل کے جو اِلہٰی صفات کو پروان چڑھانے میں ہماری مدد کریں گے۔۱۳

فانی زندگی

فانی زندگی کے دوران میں، آسمانی باپ ہمیں وہ حالات مہیا کرتا ہے جواُس کے منصوبے میں ہماری ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ باپ نے یِسُوع مِسیح کو مُجسم کیا۱۴ اور اُس کے فانی مقصد کو پورا کرنے کے لیے اُسے اِلہٰی مددبخشی۔ آسمانی باپ ہم میں سے ہر ایک کی مدد بھی کرے گا اگر ہم اُس کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔۱۵ باپ ہمیں قوتِ اِرادی بخشتا ہے۔۱۶ ہماری زندگیاں اُس کے ہاتھوں میں ہیں، اور ہمارے ”دن گنے گئے ہیں“ اور ”ہرگز کم نہ کیے جائیں گے۔“۱۷ اور وہ اِس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سب چِیزیں مِل کر خُدا سے محبّت رکھنے والوں کے لِئے بھلائی پَیدا کریں۔۱۸

آسمانی باپ ہی ہمیں روز کی روٹی دیتا ہے،۱۹ جس میں وہ کھانا شامل ہے جو ہم کھاتے ہیں اور وہ مضبوطی جو اُس کے حکموں پر عمل کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔۲۰ باپ ہمیں اچھی نعمتیں بخشتا ہے۔۲۱ وہ ہماری دُعاؤں کو سنتا اور جواب دیتا ہے۔۲۲ آسمانی باپ ہمیں بُرائی سے بچاتا ہے جب ہم اُسے ایسا کرنے دیتے ہیں۔۲۳ جب ہم مُصیبت میں ہوتے ہیں وہ ہمارے لیے روتا ہے۔۲۴ بالآخر ، ہمیں ساری نعمتیں باپ کی طرف سے مِلتی ہے۔۲۵

آسمانی باپ ہمیں ہدایت عطا کرتا ہے اور ہماری خوبیوں، خامیوں اور نیتوں کی ضرورت کے تحت حالات و احوال فراہم کرتا ہے تاکہ ہم اچھا پھل لا سکیں۔۲۶ جب ضروری ہو تو باپ ہمیں تنبِیہ بھی کرتا ہے کیوں کہ وہ ہم سے پیار کرتا ہے۔۲۷ وہ ”مردِ مشاور“ ہے،۲۸ جو تب مشورت دے گا جب ہم اُس سے درخواست کریں گے۔۲۹

آسمانی باپ ہی ہماری زندگیوں میں رُوحُ القُدس کی تاثیریں اور نعمتیں بھیجتا ہے۔۳۰ رُوحُ القُدس کی نعمت کے وسیلے سے باپ کا، جلال—یا فہم، نور اور قدرت—ہم میں سکونت کرسکیں گے۔31 اگر ہم نور اور سچائی میں بڑھنے کی تب تک کوشش کریں جب تک کہ ہماری آنکھیں خُدا کے جلال کے لیے یک سُو نہ ہوں، آسمانی باپ وعدہ کی پاک رُوح بھیجے گا کہ ہمیں ابدی زندگی کے لیے سربمہر کرے اور—اِس زندگی میں یا پھر اگلی میں ہم پر اپنا چہرہ آشکار کرے۔۳۲

بعد از فانی زندگی

بعد از فانی عالم ارواح میں، آسمانی باپ رُوحُ القُدس کے نزول اور جنھیں اِنجیل کی ضرورت ہو اُن کے پاس مبلغین کو بھیجنا جاری رکھتا ہے۔ وہ دُعاؤں کا جواب دیتا اور مرحوموں کی مدد کرتا ہے کہ وہ نیابتی نجات کی رُسوم پائیں۔۳۳

اور باپ نے یِسُوع مِسیح کو جِلایا اور اُسے جِلانے کی قُدرت بخشی،۳۴ جس کی بدولت ہم دائمی بدن حاصل کرتے ہیں۔ نجات دہندہ کی مخلصی اور قیامت ہمیں باپ کی حضوری میں لے جاتی ہیں، جہاں یِسُوع مِسیح ہماری عدالت کرے گا۔۳۵

وہ جو ”پاک ممسوح کی نیکیوں، اور رحم، اور فضل“ پر بھروسہ رکھتے ہیں۳۶ وہ باپ کی مانند جلالی بدن پائیں گے۳۷ اور وہ ”کبھی نہ ختم ہونے والی خوشی کی حالت میں“ اُس کے ساتھ قیام کریں گے۔۳۸ وہاں، باپ ہمارے سب آنسو پونچھ دے گا۳۹ اور اُس کی مانند بننے کے لیے ہمارے سفر کو جاری رکھنے میں ہماری مدد کرے گا۔

جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، آسمانی باپ ہمیشہ ہمارے لیے موجود ہوتا ہے۔۴۰

باپ کی سیرت

باپ کی مانند بننے کے لیے، ضروری ہے کہ ہم اُس کی سیرت کے اوصاف کو اپنائیں۔ آسمانی باپ کی عظمت اور صفات میں درج ذیل شامل ہیں:

  • باپ ”ازل سے ابد تک“ ہے۔۴۱

  • وہ مکمل طور پر عادل، رحیم، مہربان، تحمل پسند ہے، اور صرف ہماری بہتری چاہتا ہے۔۴۲

  • آسمانی باپ محبت ہے۔۴۳

  • وہ اپنے عہود پر قائم رہتا ہے۔۴۴

  • وہ بدلتا نہیں۔۴۵

  • وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔۴۶

  • باپ آدمیوں کی طرف داری نہیں کرتا۔۴۷

  • وہ سب باتوں کو جانتا ہے—ماضی، حال، اور مستقبل—اَزل سے جانتا ہے۔۴۸

  • آسمانی باپ ہم سب سے زیادہ۴۹ فہیم ہستی ہے۔۵۰

  • باپ قادرِ مُطلق ہے۵۱ اور اپنے دل کے اِرادے کے موافق سب کام کرتا ہے۔۵۲

بھائیو اور بہنو، ہم باپ پر بھروسہ اور توکل کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ وہ ابدی تناظر کا مالک ہے، تاہم آسمانی باپ اُن تمام باتوں کو دیکھ سکتا ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔ اُس کی شادمانی اَمر اور جلال یہ ہیں کہ لافانی اور اَبدی زندگی کا سبب پیدا کرے۔۵۳ وہ سب کچھ ہمارے بھلے کے لیے کرتا ہے۔ وہ ”[ہم] سے بھی زیادہ [ہماری] ابدی خوشی چاہتا ہے۔“۵۴ اور وہ ”[ہم پر] یا جن سے[ہم] محبت کرتے ہیں اُن سے اِستطاعت سے زیادہ بھاری بوجھ کی توقع نہیں کرتا بلکہ [ہمارے] بھلے کے عین مطابق اِستطاعت کی ہم سے توقع کرتا ہے۔“۵۵ نتیجاً، اُس کی توجہ ہماری پیش روی کے لیے مدد کرنے پرمزکور ہے، نہ کہ ہم پر اِلزام لگانے اور رد کرنے پر۔۵۶

اپنے باپ کی مانند بننا

خُدا کے روحانی بیٹوں اور بیٹیوں کی حیثیت سے، ہم میں سے ہر ایک میں باپ کی مانند بننے کی لیاقت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے، ہمیں بیٹے کے نام پر باپ کی پرستش کرنا ہے۔۵۷ ہم ایسا باپ کی مرضی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، جیسا کہ نجات دہندہ نے کیا تھا،۵۸ اور مسسلسل توبہ کے وسیلے سے کر سکتے ہیں۔۵۹ جب ہم اِن باتوں پر عمل کرتے ہیں، تو ہم ”فضل پہ فضل پاتے ہیں“ جب تک کہ ہم باپ کی معموری حاصل نہ کر لیں۶۰ اور ”اُس کی سیرت، فصیلت، اور صفات“ کے ساتھ ودیعت نہ پا لیں۔۶۱

فانی اِنسان کی حیثیت سے دیکھتے ہُوئے ہم جب آسمانی باپ کی صفات اور اپنے درمیان کے فاصلے کو دیکھتے ہیں، تو یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ بعض لوگ محسوس کرتے ہیں کہ باپ کی مانند بننا ناممکن ہے۔ اِس کے باوجود، صحیفے واضح ہیں۔ اگر ہم مِسیح پر اِیمان، توبہ اور فرمان برداری کے وسیلے سے خُدا کے فضل کی جُستجُو میں قائم رہیں گے، توبالآخر ہم باپ کی مانند بن جائیں گے۔ مجھے اِس حقیقت سے بہت تسلی ملتی ہے کہ جو لوگ فرمان برداری کی کوشش کرتے ہیں وہ ”فضل پہ فضل پاتے ہیں“ اور بالآخر ”اُس کی معموری حاصل کرتے ہیں“۔۶۲ دوسرے اَلفاظ میں، ہم اپنے تئیِں باپ کی مانند نہیں بن سکتے۔۶۳ بلکہ، یہ فضل کی بعض بڑی لیکن زیادہ تر چھوٹی نعمتوں کے وسیلے سے ممکن ہو گا، جو ایک دوسرے پر قائم کی جاتی ہیں جب تک کہ ہم معمور نہیں ہوتے۔ مگر، بھائیو اور بہنو، ایسا ضرور ہو گا!

میں آپ کو اِس بات پر یقین رکھنے کی دعوت دیتا ہوں کہ آسمانی باپ جانتا ہے کہ کیسے آپ کو سرفراز کرنا ہے؛ اُس کی روزانہ کی بنیاد پر، سہارا دینے والی مدد کے طالب ہوں؛ اور مِسیح پر اِیمان کے ساتھ آگے بڑھیں چاہے جب آپ خُدا کی محبت کو محسوس نہ بھی کرسکیں۔

باپ کی مانند بننے کے بارے میں ہم زیادہ فہم نہیں رکھتے۔۶۴ لیکن میں یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہوں کہ باپ کی مانند بننے کی راہ میں دی گئی کوئی قربانی رائیگاں نہ جائے گی۔۶۵ فنا پذیری کی حالت میں دی گئی قربانیاں، چاہے کتنی بھی عظیم کیوں نہ ہوں، اُن کا موازنہ اُس لامحدود خوشی، شادمانی، اور محبت سے نہیں کیا جا سکتا جو ہم خُدا کی حضوری میں محسوس کریں گے۔۶۶ اگر آپ اِس تذب ذب میں مبتلا ہیں کہ آیا متوقع قربانیاں گراں قدر ہیں کہ نہیں، تو منجی کی پکار کو سُنیں، ”تم نے ابھی تک اُن اعلیٰ و ارفع برکات کا عرفان نہیں پایا جو باپ نے … تمھارے لیے تیار کیں ہیں؛ … کیوں کہ تم ابھی سب کچھ برداشت نہیں کر سکتے ہو؛ تو بھی، شادمان ہو، کیوں کہ میں تمھاری راہ نمائی کروں گا۔“۶۷

میں گواہی دیتا ہوں کہ آسمانی باپ آپ سے محبت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ دوبارہ اُس کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ یِسُوع مِسیح کے نام پر، آمین۔

حوالہ جات

  1. مصنف کا ذاتی مسودا؛ مزید دیکھیں ڈی میلنڈا ایشٹن، ”The Holy Ghost: Direction, Correction, and Warning“ (برگھم ینگ یونیورسٹی مجلس برائے خواتین، ۲۸ اپریل، ۲۰۱۶)، byutv.org۔

  2. Lectures on Faith (۱۹۸۵), ۳۸۔

  3. دیکھیے ”خاندان: دُنیا کے لیے علامیہ،“ لیحونا، مئی ۲۰۱۷، ۱۴۵؛ ”آسمانی ماں،“ اِنجیلی عنوانات، topics.lds.org۔

  4. پولوس رُسول نے اشارہ کیا کہ ہم باپ کو بخوبی جانتے ہیں کہ ہماری جانیں اب بھی اُسے ابّا پکارنے کے لیے بے تاب ہیں، جس کا مطلب ”باپ“ ہے، وہ مخصوص اِصطلاح جو اُن والدوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن کے ہم اِنتہائی قریب ہوتے ہیں (دیکھیں رومیوں ۸:‏۱۵

  5. دیکھیں عقائد اور عہود ۱۳۰:‏۲۲۔

  6. دیکھیں عقائد اور عہود ۱۳۲:‏۱۹—۲۰۔

  7. دیکھیں متی ۵:‏۴۸؛ مزید دیکھیں ‏۲ پطرس ۱:‏۳–۸۔

  8. اِن کیفیات میں پہلی حالت کو برقرار رکھنا شامل تھا (دیکھیں ابرہام ۳:‏۲۶) اور پھر فنا پذیری میں یِسُوع مِسیح اور اُس کے کفارہ پر اِیمان لانا، توبہ کرنا، خُدا کے کہانتی اِختیار کے حامل شخص سے غوطے کا بپتسمہ لینا، رُوحُ القُدس کی نعمت کو پانا اور آخر تک برداشت کرنا بھی شامل ہیں (دیکھیں ۳ نیفی ۲۷:‏۱۶–۲۰

  9. صدر ڈیلن ایچ اوکس نے سیکھایا: ”بعض لوگ جو اِس پیغام کو سن رہے ہیں شاید کہہ رہے ہیں، ’لیکن میرا کیا ہوگا؟‘ ہم جانتے ہیں کہ بہت سارے اہل اور زبردست آخری ایام کے مقدسین کی ترقی کے لیے حالیه طور پر مثالی مواقع اور لازمی ضروریات موجود نہیں ہیں۔ اکیلا پن، بے اولادی، موت، اور طلاق نظریات میں مایوسی پیدا کرتے اور وعدہ کی گئی برکتوں کی تکمیل کو ملتوی کرتے ہیں۔ مگر ایسی مایوسیاں صرف عارضی ہیں۔ خُداوند نے وعدہ کیا ہے کہ ابدیت میں اُس کے وہ بیٹے اور بیٹیاں جو حکموں کو مانتے، اپنے عہود پر قائم رہتے، اور راست بازی کے مُشتاق ہوتے ہیں وہ اُن سے کوئی بھی نعمت باز نہیں رکھی جائے گی“ (” The Great Plan of Happiness،“انزائن، نومبر ۱۹۹۳، ۷۵)۔

  10. دیکھیے مضایاہ ۲:‏۴۱۔

  11. دیکھیں ایلما ۴۲:‏۵؛ اسے مخلصی کا منصوبہ بھی کہا جاتا ہے (دیکھیں، مثال کے طور پر، یعقوب ۶:‏۸) اور خوشی کا منصوبہ (دیکھیں ایلما ۴۲:‏۸، ۱۶

  12. دیکھیں ایوب ۳۸:‏۴-۷۔

  13. دیکھیں، مثال کے طور پر، عبرانیوں ۵:‏۸؛ ‏۱۲:‏۱۱؛ عیتر ۱۲:‏۲۷۔ پہلے پہل، ہماری ناقص عقل کے باعث فنا پذیری میں ہمیں درپیش بعض مسائل لگیں کہ ہماری سب سے زیادہ اُمید کی گئی موعودہ برکتوں کو پانے سے روکیں گے۔ اِن بظاہر تضادات کے باوجود، اگر ہم وفادار رہیں تو خُدا ہمیں ہر وعدہ کی گئی نعمت بخشے گا۔

  14. دیکھیں لوقا ۱:‏۳۱–۳۵؛ یوحنا ۱:‏۱۴؛ ۱ نیفی ۱۱:‏۱۸–۲۱؛ راہ نمائے صحائف ”یِسُوع مِسیح،“ scriptures.lds.org۔

  15. دیکھیے عقائد اور عہود ۹۳:‏۴–۵، ۱۶–۱۷، ۱۹–۲۰۔

  16. دیکھیں موسیٰ ۷:‏۳۲۔

  17. عقائد اور عہود ۱۲۲:‏۹۔

  18. دیکھیں رومیوں ۸:‏۲۸۔

  19. دیکھیں متی ۶:‏۱۱۔

  20. دیکھیے این ایلڈن ٹینر، ” The Importance of Prayer،“ انزائن, مئی ۱۹۷۴، ۵۰–۵۳۔

  21. دیکھیں لوقا ۱۱:‏۱۰-۱۳؛ یعقوب ۱:‏۱۷۔

  22. دیکھیں لوقا ۱۱:‏۵–۱۰؛ ترجمہ از جوزف سمتھ، لوقا ۱۱:‏۵–۶ (میں لوقا ۱۱:‏۵، زیریں حاشیہ اے)؛ ۳ نیفی ۱۳:‏۶۔

  23. دیکھیں متی ۶:‏۱۳۔

  24. دیکھیے موسیٰ ۷:‏۳۱- ۴۰۔

  25. دیکھیں یعقوب ۱:‏۱۷۔

  26. دیکھیں یوحنا ۱۵:‏۱–۲؛ عقائد اور عہود ۱۲۲:‏۶–۷۔

  27. دیکھیں عبرانیوں ۱۲:‏۵–۱۱؛ عقائد اور عہود ۹۵:‏۱۔

  28. موسیٰ ۷:‏۳۵۔

  29. دیکھیں ایلما ۳۷:‏۱۲، ۳۷۔

  30. دیکھیے یوحنا ۱۴:‏۲۶؛ ۲ نیفی ۳۱ :‏۱۲۔

  31. دیکھیں یوحنا ۱۷:‏۲۱–۲۳، ۲۶؛ عقائد اور عہود ۹۳:‏۳۶۔

  32. دیکھیں عقائد اور عہود ۷۶:‏۵۳؛ ۸۸:‏۶۷-۶۸۔

  33. دیکھیے ‏۱ پطرس ۴:‏۶۔ بزرگ میلون جے بیلرڈ کسی شخص کا ذِکرکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُس نے کلیسیا میں کیوں شمولیت اِختیار کی تھی جسے اُنھوں نے بپتسمہ دیا، ”مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ عالم ارواح میں اِس کے اَباواجداد نے اِنجیل کو کئی برس پہلے قبول کر لیا تھا اور دعاگو تھے کہ زمین پر اُن کے خاندان میں سے کوئی اُن کے لیے دروازہ کھولے، اور اُن کی دُعاؤں کے نتیجہ میں خُداوند نے مبلغین کو اِس آدمی کے دروازے پر بھیجا تھا“ (in Melvin R. Ballard, Melvin J. Ballard, Crusader for Righteousness [۱۹۶۶], ۲۵۰)۔

  34. دیکھیں مورمن ۷:‏۵–۶؛ مزید دیکھیں یوحنا ۵:‏۲۱، ۲۶؛ ۱ کرنتھیوں ۶:‏۱۴؛ ۲ نیفی ۹:‏۱۱–۱۲؛ ایلما ۴۰:‏۲–۳؛ ۳ نیفی ۲۷:‏۱۴۔

  35. دیکھیں یوحنا ۵:‏۲۲؛ یعقوب ۶:‏۹؛ ایلما ۱۱:‏۴۴؛ ہیلیمن ۱۴:‏۱۵–۱۸۔ مِسیح کا کفارہ آدم کی فنا پذیری کے اثرات پر غالب آتا ہے، بمشول دونوں جسمانی اور روحانی موت کے، جن پر غالب آنا ہمیں آسمانی باپ کی حضوری میں واپس جانے کی توفیق دیتا ہے۔ وہ جو اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں وہ ابدیت میں باپ اور بیٹے کے ساتھ قیام کریں گے۔ تاہم، وہ جو توبہ نہیں کرتے وہ دوسری موت کا شکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ اُن کے اپنے گُناہ ہیں (دیکھیں ہیلیمن ۱۴:‏۱۵–۱۸

  36. ۲ نیفی ۲:‏۸۔

  37. دیکھیں عقائد اور عہود ۷۶:‏۵۶؛ ۸۸:‏۲۸ -۲۹۔

  38. مضایاہ ۲:‏۴۱۔

  39. دیکھیں مکاشفہ ۷:‏۱۷۔

  40. دیکھیں موسیٰ ۷:‏۳۰۔ آسمانی باپ یِسُوع مِسیح اور دیگر سیلیسٹیئل ہستیوں کی خدمت گزاری کے وسیلے سے ٹیریسٹریئل بادشاہی والوں کی بھی دیکھ بھال اور فلاح کرتا رہتا ہے (دیکھیں عقائد اور عہود ۷۶:‏۷۷، ۸۷) اور ٹیلیسٹیئل بادشاہی والوں کی خدمت گزاری رُوحُ الُقدس اور فرشتوں کے وسیلے سے کرتا ہے (دیکھیں عقائد اور عہود ۷۶:‏۸۶، ۸۸

  41. موسیٰ ۷:‏۳۵؛ مزید دیکھیں زبور ۹۰:‏۲۔

  42. دیکھیں زبور ۱۰۳:‏۶–۸؛ لوقا ۶:‏۳۶؛ موسیٰ ۷:‏۳۰۔

  43. دیکھیے ۱ یوحنا ۴:‏۱۶۔

  44. دیکھیں عقائد اور عہود ۸۴:‏۴۰۔

  45. دیکھیں یعقوب ۱:‏۱۷۔

  46. دیکھیں گنتی ۲۳:‏۱۹۔

  47. دیکھیں اعمال ۱۰:‏۳۴-۳۵۔

  48. دیکھیں ۱ نیفی ۹:‏۶؛ عقائد اور عہود ۱۳۰:‏۷۔

  49. Dictionary.com فہم کو ”سیکھنے کی صلاحیت، بحث، تفہیم، اور اِسی طرح کی ذہنی سرگرمیوں کے طور پر بیان کرتی ہے؛ سچائی، تعلقات، حقائق، معنی، وغیرہ“ اور ”علم“ کو سمجھنے کی اِستَعداد۔

  50. دیکھیں ابرہام ۳:‏۱۹۔ یِسُوع مِسیح جلالی، کامل ہستی کی حیثیت سے ہم سب کے مقابلے میں زیادہ فہیم بھی ہے۔

  51. دیکھیں مکاشفہ ۲۱:‏۲۲۔

  52. دیکھیں ابرہام ۳:‏۱۷۔

  53. دیکھیں موسیٰ ۱:‏۳۹۔

  54. رچرڈ جی سکاٹ، ” Trust in the Lord،“ انزائن، نومبر ۱۹۹۵، ۱۷۔

  55. رچرڈ جی سکاٹ،Trust in the Lord” ،۱۷“۔

  56. دیکھیے یوحنا ۵:‏۲۲؛ موسیٰ ۱:‏۳۹۔ یہ شیطان اور ہم ہیں جو اپنے آپ کو رد کرتے ہیں (دیکھیں مکاشفہ ۱۲:‏۱۰؛ ایلما ۱۲:‏۱۴

  57. دیکھیں یوحنا۴:‏۲۳؛ عقائد اور عہود ۱۸:‏۴۰؛ ۲۰:‏۲۹۔

  58. دیکھیں ۳ نیفی ۱۱‏:۱۱؛ عقائد اور عہود ۹۳:‏۱۱–۱۹۔

  59. توبہ وہ عمل ہے جس کے وسیلے سے ہم اپنی فطرت کو بدلتے ہیں تاکہ ہم خُدا کی مانند بنیں۔ تاہم، ہمیں مسلسل توبہ کرتے رہنا چاہیے، نہ صرف جب ہم ”کوئی خطا کریں۔“

  60. دیکھیں تعلیم اور عہود ۹۳: ۱۹—۲۰۔

  61. Lectures on Faith, ۳۸؛ مزید دیکھیں مرونی ۷:‏۴۸؛ ۱۰:‏۳۲–۳۳؛ عقائد اور عہود ۷۶:‏۵۶، ۹۴–۹۵؛ ۸۴:‏۳۳–۳۸۔

  62. عقائد اور عہود ۹۳:‏۲۰؛ تاکید شامل ہے۔

  63. دیکھیں مرونی ۱۰:‏۳۲- ۳۳؛ عقائد اور عہود ۷۶:‏۶۹، ۹۴- ۹۵۔

  64. خُدا اُس کی مانند بننے کے عمل کے بارے میں زیادہ کیوں نہیں ظاہر کرسکتا یا کرے گا؟ دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ مجھے ساری وجوہات کا علم نہیں۔ لیکن کم از کم مجھے دو کا علم ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ ہماری فانی حالت میں بعض باتیں فقط ناقابل فہم ہیں (دیکھیں عقائد اور عہود ۷۸:‏۱۷)۔ یہ کسی قرونِ وسطیٰ میں رہنے والے شخص کو انٹرنیٹ کی وضاحت دینے کی کوشش کرنے جیسا ہوسکتا ہے۔ سیاق اور تناظر واضح نہیں ہیں۔ اور دوسرا یہ ہے کہ اکثر ہمیں لاعلمی کے ذریعے سے کرب سہنے اور جدوجہد کرنے سے فضل کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔

  65. جن قربانیوں کی ہم سے توقع کی جاتی ہے ہو سکتا ہے وہ کامل بننے کے لیے ضروری ہوں (دیکھیں ترجمہ از جوزف سمتھ، عبرانیوں ۱۱:‏۴۰ [عبرانیوں ۱۱:‏۴۰ کا، زیریں حاشیہ اے])۔

  66. دیکھیں رومیوں ۸:‏۱۸۔

  67. عقائد اور عہود ۷۸:‏۱۷ -۱۸۔