برائے مضبُوطیِ نوجوانان
کیا آپ زیادہ خوش رہنا چاہتے ہیں؟ شُکر گُزاری کرنے کی کوشش کریں
برائے مضبُوطیِ نوجوانان فروری 2026


ماہانہ برائے مضبُوطیِ نوجوانان پیغام، فروری 2026

کیا آپ زیادہ خوش رہنا چاہتے ہیں؟ شُکر گُزاری کرنے کی کوشش کریں

جب آپ کی زندگی تبدیلیوں سے بھری ہو، تو تَشَکُّر آپ کو مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے اور اُمّید برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بارش کے بادلوں کے نیچے ایک شخص اور پرندوں، تِتلیوں اور پھولوں سے گِھرا ہوا شخص

خاکہ کشی از میگی سٹیفن سن

آپ كبھی اِتنا خُوش نہیں ہوں گے جتنا آپ شُکر گزار ہو كر ہوں گے۔

جیسے ستّر کے ایلڈر گیری بی سیبن کا یہ قول ظاہر کرتا ہے، آپ کتنے خُوش ہیں براہ راست اِس بات سے متاثر ہوتا ہے کہ آپ کتنے شُکر گزار ہیں۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے—جب آپ شُکر گزار ہوتے ہیں، تو آپ منفی چیزوں کی بجائے مثبت چیزوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہوتے ہیں۔

پھر بھی، زندگی ہمیشہ منصُوبہ کے مطابق نہیں چلتی۔ غیر متوقع تبدیلیاں آپ کو خُوش كرنے سے زیادہ پریشان، اُداس یا مایوس کر سکتی ہیں۔ لیکن جب حالات مشکل ہوں تو شُکرگزاری آپ کو اُمِّید رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اپنی زندگی میں زیادہ شُکرگزاری لانے کے لیے یہ تین طریقے آزمائیں۔

1۔ اچھائی تلاش کریں

اکثر اوقات، شکرگزار ہونا سب سے مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لگے کہ آپ میں کُچھ کمی ہے۔ لیکن آپ کیسی نعمتیں نظر انداز کر سکتے ہیں اگر آپ اُس چیز پر توجہ دیں جو آپ کے پاس نہیں ہے بجائے اس کے کہ آپ کے پاس کیا ہیں؟

جیسے جیسے آپ اپنی زندگی میں اچھائی تلاش کریں گے، وقت کے ساتھ اُسے تلاش کرنا آسان ہو جائے گا۔

2۔ دینے والے سے اظہار تَشَکُّر کریں

جب آپ اپنی نعمتیں شمار کریں، تو یہ نہ بھولیں کہ وہ کہاں سے آئی ہیں۔

آسمانی باپ کا اُس کے تُحفوں کے لیے شُکریہ ادا کرنا—جِن میں اُس کے بیٹے کا تحفہ بھی شامل ہے—اُس کے لیے آپ کی محبّت اور ایمان کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ صدر ڈی ٹاڈ کرسٹوفرسن، صدارت اوّل میں مشیرِ دوم نے یہ بھی وضاحت کی، ”خُدا کے لِیے احساس اور شُکر گُزاری کا اِظہار، … پَرَستِش کو خُوشی بھرے تجدید کے احساس سے اَثر انداز ہوتا ہے،“ آپ کو خُوشی اور قوت دیتا ہے اور آپ کی گواہی کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

3۔ آسمانی باپ کے منصُوبے پر توجہ مرکُوز کریں

ظاہر ہے، شُکرگزاری کا مطلب زندگی کی مشُکل چیزوں کو نظر انداز کرنا یا ہمیشہ خُوشی محسُوس کرنا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ یِسُوع مسِیح نے بھی درد کو محسُوس اور تسلیم کیا (دیکھئے ایلما 7:‏11؛ عقائد اور عہُود 19:‏18–19)۔ اداسی فانیت کا ایک عام حصہ ہے۔

مگر چاہے کچھ بھی ہو، ایک چیز کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی: آسمانی باپ کا رحم کا منصُوبہ۔ زندگی میں آپ کو جتنی بھی اُداسی اور تکلیف پہنچتی ہے وہ یِسُوع مسِیح اور اُس کے کفارہ کی بدولت درست ہو جائے گی (دیکھیں مکاشفہ 21:‏4)۔

بارہ رسُولوں کی جماعت سے بزرگ ڈئیٹر ایف اُکڈورف نے وضاحت فرمائی: ”مصیبت کے وقت شُکر گزار ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے حالات سے خُوش ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اِیمان کی آنکھوں سے اپنے موجودہ مسائل سے آگے دیکھتے ہیں۔“